Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ

Hadith 4149

بَابُ أَكْلِ الْمُضْطَرِّ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ

بَابُ أَكْلِ الْمُضْطَرِّ

Zujajat al-Masabih 4149Volume 3

العربية

Typed, pending editorial approval
٤١٤٩ - وَعَنْ وَاقدٍ اللَّيْثيِّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّا نَكُوْنُ بِأَرْضِفَتُصِيْبَنَا بِهَا الْمَخْمَصَةُ فَمَتَى يَحِلُّ لَنَا الْمَيْنَةَ؟ قَالَ:(مَا لَمْ تَصْطَبِحُوْا أَوْ تَغْتَيِقُوْا أَوْنَحْتَفِؤُوْا بِهَا بَقلًا، فَشَأْنُكُمْ بِهَا) مَعْنَاهُ: إِذَا لَمْ تَجِدُوْا صَبُوْحًا أَوْ غَبُوْقًا وَلَمْ تَجِدُوْا بَقْلَةًتَأْكُلُوْنَهَا حَلَّتْ لَكُمْ الْمَيْتَةُ. رَوَاهُ الدَّارِميُّ. فِيْهِ دَلِيْلُنَا عَلَى الْأَمْرِ الَّذِيْ يُبِيْحُ لَهُ الْمَيْتَةُ هُوَ الإِضْطَرَارُ، وَلَا يَتَحَقَّقُ ذَلِكَ مَعَ مَايَتَبَلَّغُ بِهِ مِنَ الْغُبُوْقِ وَالصُّبُوْحِ فَيُمْسِكُ الرَّمَقَ. وَأَوْرَدَ (١) صَاحِبُ (الْمِشْكَاةِ) فِي هَذَا الْبَابِحَدِيْثَ أَبِيْ دَاوُدَ لإِثْبَاتِ مَذْهَبِهِمْ وَأَرَادَ أَنَّ الإِضْطَرَارَ لَا يَتَوَقَّفُ عَلَى خَوْفِ الْهَلَاكِ كَمَاكَانَ عَنْدَ الْحَنَفِيَّةِ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ الْحَدِيْثَ قَدْ ثَبَتَ فِيْهِ أَنَّ خَوْفَ الْهَلَاكِ لَيْسَ بِمَنَاطِ لِحِلِّالْمَيْتَةِ، كَيْفَ وَالْمَرْءُ لَيْسَ بَعْدَ اغْتِبَاقِ الْقَدحِ وَاصْطِبَاحِهِ مِمَّا يُخَافُ عَلَيْهِ الْهَلَاكَ،قُلْنَا: فَالْجُوَابُ عَنْهُ: أَنَّ الْقَدحَ كَانَ لِكُلِّ أَهْلِ الْبَيْتِ جَمِيْعًا لَا قَدحًا قَدحًا لِكُلِّ أَحَدٍ، فَإِنَّبَعْدَ الْقَدحَيْنِ فِي يَوْمٍ لَا حَاجَةَ فِي الْطَعَامِ، فَضْلًا عَنْ الإِضْطَرَارِ.

Qur’an-related source paragraphs

Allah Almighty says: “He has only forbidden to you dead animals, blood, the flesh of swine, and that which has been dedicated to other than Allah. But whoever is forced [by necessity], neither desiring [it] nor transgressing [its limit], there is no sin upon him. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful” (Qur’an 2:173). And: “But whoever is forced by severe hunger with no inclination to sin, then indeed, Allah is Forgiving and Merciful” (Qur’an 5:3).

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 4260 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Sunan al-Darimi 2026 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 4260

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The author of Mishkat included Abu Dawud’s hadith, etc.

(1) The statement: “The author of Mishkat included Abu Dawud’s hadith, etc.”: This refers to Abu Dawud’s narration from al-Faji’ al-Amiri: He came to the Prophet (ﷺ) and asked: “What is lawful for us from the dead animal?” He said: “What is your food?” They said: “We have breakfast and dinner.” Abu Nu’aym said: Uqbah explained it as a cup in the morning and a cup in the evening. He said: “That, by my father, is hunger.” So he permitted the dead animal in that state. Al-Shafi’i used this hadith to say it is permissible to eat a dead animal with minimal satiety and up to full satiety in necessity. This contradicts al-Darimi’s hadith in “Mishkat,” which we cited, as it states necessity requires the absence of sustenance like breakfast or dinner to sustain life. The reconciliation is that the breakfast and dinner cups were shared among the group, as indicated by the questioner saying, “What is lawful for us,” as if representing his people, not himself alone, and the Prophet’s question: “What is your food?” When it was clear the group was in need, lacking enough to sustain life with the described food, he permitted the dead animal in that state. Al-Khattabi said: A cup of milk in the morning and evening sustains life, though not fully satisfying. Allah permitted eating the dead animal in such a state, indicating it is allowed until one reaches satiety. This is the view of Malik and Ahmad and one of al-Shafi’i’s opinions. Abu Hanifah said: One may only eat enough to sustain life, which is al-Shafi’i’s other opinion. Al-Khattabi’s statement that eating a dead animal is lawful with partial satiety is unusual, as no one is known to hold this view. His claim that Allah permitted it in this state is unsupported by the verse, and if he meant with the hadith, it is contradicted by al-Darimi’s hadith and open to interpretation, as explained. With such ambiguity, the evidence is not conclusive, especially with a contradicting hadith, and the principle is to favor prohibition over permission for caution, per “Al-Mirqat.”

Note 1

اس میں ہمارے لئے اس بات کی دلیل ہے کہ مجبور کے لئے مردار کو مباح بنانے والی چیز اس کی مجبوری ہے اور یہ (اضطرار) صبح اور شام دودھ کا ایک ایک پیالہ ہوتے ہوئے کہ جس پر وہ اکتفاء کرسکتا ہے، متحقق نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ (اس سے اپنی) جان بچا سکتا ہے۔ اور صاحب مشکوٰۃ نے اپنے مسلک کو ثابت کرنے کیلئے اس باب میں ابو داؤد کی حدیث 1 ذکر کی ہے۔ اور انہوں نے یہ مراد لیا ہے کہ اضطرار ہلاکت کے اندیشہ پر موقوف نہیں ہے۔ جیسا کہ حنفیہ کے پاس ہے کیونکہ اس حدیث میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مردار کا حلال ہونا ہلاکت کے خوف پر موقوف نہیں ہے۔ یہ اس لئے کہ جب دودھ کا ایک پیالہ صبح اور ایک پیالہ شام میں پینے کے بعد آدمی پر ہلاکت کا خوف نہیں رہتا ہے۔ ہم نے کہا: پس اس کا جواب یہ ہے کہ ایک پیالہ ساری قوم کیلئے تھا ہر ایک کیلئے ایک ایک پیالہ نہیں تھا کیونکہ ایک دن میں دو پیالوں کے بعد کھانے کی تو کوئی ضرورت نہیں رہتی چہ جائیکہ اضطرار ہو۔

Note 2

1 قولہ: وأورد صاحب المشكوة فى هذا الباب حديث ابى داؤد الخ (اور صاحب مشکوٰۃ نے اس باب میں ابو داؤد کی حدیث ذکر کی ہے) یہ وہی حدیث شریف ہے جس کو ابو داؤد نے نجیع عامری سے روایت کی ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے عرض کیا: مردار میں سے، ہمارے لئے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کھانا کتنا ہے؟ ہم نے کہا: ہم صبح اور شام کو دودھ کا ایک ایک پیالہ نوش کرتے ہیں۔ ابونعیم نے کہا: عقبہ نے میرے لئے اس کی وضاحت یہ کی کہ وہ صبح میں ایک پیالہ اور شام میں ایک پیالہ ہے تو انھوں (ابونعیم) نے کہا: ”یہ کافی ہے“ اور انھوں نے اس کو بھوک کہنے سے انکار کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لئے ایسی حالت میں مردار کو حلال قرار دیا۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ: ”تھوڑا کھانا کے باوجود (حاشیہ صفحہ گزشتہ) مردار کو کھانا جائز ہے اور مجبوری کی صورت میں شکم سیر ہونے تک کھانا جائز ہے“ اور اس بناء پر انہوں نے دارمی کی اس حدیث کی مخالفت کی ہے جو مشکوٰۃ میں اس کے بعد ہے اور جس کو ہم نے اس کتاب میں ذکر کیا ہے کیونکہ دارمی کی حدیث میں ہے مضطر کیلئے مردار کو حلال کرنے والی امر وہ اضطرار ہی ہے۔ اور وہ متحقق نہیں ہوتا ہے اس غبوق (شام کیلئے ایک پیالہ دودھ) اور صبوح (صبح کیلئے ایک پیالہ دودھ) کے ہوتے ہوئے جس پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ اضطرار متحقق نہیں ہوتا کیونکہ وہ جان بچا سکتا ہے۔ پس اس کی توجیہ یہ ہے کہ صبح میں ایک پیالہ اور شام میں ایک پیالہ پینا یہ پوری قوم کے درمیان مشترک طور پر تھا۔ اور اس توجیہ کی دلیل سائل کا قول: ”ما يحل لنا؟“ ہے (ہمارے لئے کیا حلال ہے) کیونکہ وہ اپنی قوم کے قاصد تھے۔ اس لئے وہ خاص طور پر اپنے آپ کیلئے سوال نہیں کئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول ”ما طعامكم“؟ (تمہارا کھانا کیا ہے) سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ چنانچہ جب آپ کیلئے یہ بات واضح ہوگئی کہ قوم اپنی بیان کردہ کھانے کی مقدار سے جان بچانے کیلئے ضرورت پوری نہ ہونے کی وجہ سے مردار کھانے پر مجبور ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لئے ایسی حالت میں مردار کے کھانے کو جائز قرار دیا۔ دونوں حدیثوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کی یہی صورت ہے۔ خطابی نے کہا: صبح ایک دودھ کا پیالہ اور شام میں دودھ کا ایک پیالہ زندگی کو برقرار رکھتا ہے۔ اور سانس کو قائم رکھتا ہے اگرچہ کہ وہ مکمل طور پر شکم سیر نہیں کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مردار کے کھانے کو مباح کیا ہے تو وہ اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ مردار کو شکم سیر ہونے تک کھانا جائز ہے۔ اور امام مالک اور امام احمد کا یہی مذہب ہے اور امام شافعی کے دو قولوں میں سے یہ ایک ہے۔ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: اس میں سے اس کے لئے اس سے بڑھ کر کھانا جائز نہیں ہے جو اس کی آخری سانس کو روک سکے۔ اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا دوسرا قول ہے۔ اور انہوں نے ایک عجیب بات یہ کہی ہے: اگرچہ کہ وہ مکمل طور پر شکم سیر نہ ہو کیونکہ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ شکم سیری کے باوجود مردار کو کھانا حلال ہے۔ جب کہ وہ کامل شکم سیری نہ ہو۔ مگر میں اس بارے میں کسی کو نہیں جانتا کہ اس نے ایسا کہا ہو۔ لیکن ان کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے باوجود مردار کے کھانے کو مباح قرار دیا ہے۔ اگر وہ اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ مردار کا کھانا مذکورہ حالت کے ساتھ جائز ہے تو یہ ممنوع ہے۔ کیونکہ آیت اس پر دلالت نہیں کر رہی ہے اور اگر وہ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ مردار کھانا مذکورہ حدیث کے مفہوم میں ہے تو تم یہ جان چکے ہو کہ یہ اس حدیث کے معارض ہے جو اس کے بعد آ رہی ہے اور وہ تاویل کا (حاشیہ صفحہ گزشتہ) احتمال بھی رکھتی ہے جیسا کہ گزرچکا ہے اور احتمال کے ہوتے ہوئے استدلال مکمل نہیں ہوتا ہے خصوصاً جب کہ معارض (حدیث) پائی جائے۔ کیونکہ قاعدہ ہے ”ترجيح المحرم على المبيح احتياطا“ حرام کرنے والی (نص) کو مباح کرنے والی (نص) پر احتیاطاً ترجیح دی جاتی ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ 1 قولہ: يتنفس في الشرب ثلاثا (پیتے وقت تین مرتبہ سانس لیتے تھے) یعنی پینے کے دوران تین مرتبہ سانس لیتے تھے۔ امام بغوی نے شرح السنہ میں کہا ہے کہ اس حدیث شریف سے مراد یہ ہے کہ: تین ( گھونٹ) میں پئے اور ہر گھونٹ میں برتن کو اپنے منہ سے ہٹائے اور سانس لے پھر دوبارہ پئے اور حدیث شریف جس میں مروی ہے: ’’نهى عن التنفس في الاناء‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ برتن کو منہ سے ہٹائے بغیر سانس لے، تو یہ منع ہے۔ اور حضرت قاضی صاحب نے کہا ہے کہ تین دفعہ (گھونٹ) میں پینا پیاس کو زیادہ ختم کرنے والا ہے اور ہضم پر زیادہ مؤثر ہے۔ معدہ کے فعل کو سست کرنے اور اعصاب کو کمزور کرنے کا اثر نہیں رکھتا۔ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے شرح الشمائل میں کہا ہے کہ سند حسن سے روایت آئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین سانس میں پیا کرتے تھے، اور جب برتن کو اپنے دہن مبارک سے قریب کرتے تو بسم اللہ پڑھتے اور جب اس کو ہٹاتے تو الحمد للہ کہتے اور یہ عمل تین مرتبہ کرتے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے ایک سانس میں نہ پیئے۔ 1 قوله او ينفخ فيه ۔ صاحب مرقات نے کہا ہے کہ اگر پھونک مارنا ٹھنڈا کرنے کیلئے ہے تو اس کو چاہئے کہ صبر کرے اور اگر کچرے کی وجہ سے ہے تو اس کو کوئی کاڑی یا اس جیسی کسی چیز سے ہٹادے اور انگلی سے نہ ہٹائے کیونکہ طبیعت اس سے گھن کرتی ہے یا پانی کو گرادے (انتھی) ردالمحتار نے الحظر والاباحۃ کے بیان میں کہا ہے کہ دوسری صورت کے بارے میں یہ ہے کہ کھانے میں پھونک مارنا مکروہ نہیں ہے مگر ایسی صورت میں کہ اس میں آواز ہو جیسے اُف، اور منع ایسی صورت میں ہی ہے۔ (انتھی)۔ 2 قوله : نهى رسول الله ﷺ عن الشرب فى السقاء (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے پینے سے منع فرمایا) اور مظہر نے کہا ہے کہ وہ اس لئے کہ پانی کا ایک دم جانا اور معدہ میں اس کا ایک دم انڈیل جانا معدہ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی گھونٹ میں پینے کا حکم فرمایا ہے جیسا کہ گزر چکا (انتھی) اور اس لئے بھی کہ برتن کو منہ لگا کر پینا مذموم ہے اور مشکیزے کے منہ (حاشیہ صفحہ گزشتہ) لگا کر پینے کی صورت میں چسکی لے کر پینا ممکن نہیں ہے اور امام بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ تم پانی کو اچھی طرح چسکی لیکر پیا کرو۔ اور اس کو ایک دم مت اُنڈیلو۔ (مرقات) اور عالمگیری میں ہے چھوٹے بڑے مشکیزے کے منہ سے مت پیو کیونکہ یہ صورت حلق میں کوئی نقصان دینے والی چیز کے داخل ہونے سے خالی نہیں۔ (فتاویٰ غیاثیہ) 1 قوله : كنا ناكل على عهد رسول الله ﷺ ونحن نمشي الخ (ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے زمانے میں چلتے ہوئے کھاتے تھے) صاحب کوکب دری نے کہا ہے کہ ان دو کاموں میں ممانعت چونکہ شرعی نہیں ہے بلکہ وہ حفظان صحت کے لئے ہے اس لئے اس کا ارتکاب کرنے والا گنہگار نہیں ہوگا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عمل اور اپنی تقریر سے اس کو بیان فرما دیا ہے۔ 1 قولہ: لا نرى بالشرب قائما باسا (کھڑے ہو کر پینے میں ہم کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں) اسی لئے عالمگیریہ میں ہے کھڑے ہو کر پینے میں کوئی حرج نہیں ہے (عالمگیریہ)۔ اور اگر تم اس مقام کی مزید تفصیل اور تمام ادلہ میں مطابقت چاہتے ہو تو نورالحسن میں کتاب الطہارت کی طرف مراجعت کرو۔ 1 قولہ: فشرب وهو قائم (تو آپ کھڑے ہوئے نوش فرمائے) صاحب ردالمحتار نے کتاب السراج سے نقل کر کے کہا ہے کہ کھڑے ہو کر پینا پسند نہیں ہے سوائے ان دو موقعوں کے 1) زمزم کا پانی 2) وضو کا بچا ہوا پانی (اہ) ابن ہمام کی شرح ہدایہ میں ہے کہ اپنے وضو کا بچا ہوا پانی قبلہ رخ کھڑے ہو کر پینا آداب میں سے ہے اور اگر وہ چاہے تو بیٹھ کر پی سکتا ہے۔ 2 قولہ: فسكب في قدح ماء ثم حلب عليه الخ (اور پانی کے پیالے میں انڈیل دیا پھر اس پر ایک بکری کا دودھ نچوڑا)۔ اس میں یہ بات ہے کہ گرما کی لو میں ٹھنڈا پانی طلب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور نیز یہ کہ دودھ پیتے وقت پانی سے ملانا بھی جائز ہے البتہ خرید و فروخت کے وقت جائز نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری)۔ 1؎ قوله : الايمن فالايمن ۔ امام زرقانی نے کہا انس رضی اللہ عنہ نے کہا یہ سنت ہے یعنی تم سیدھی جانب والے کو مقدم کرو اگرچہ کہ وہ مفضول ہو۔ اور اس میں ابن حزم نے کہا ہے کہ سیدھے جانب والے پر دوسرے کو اس کی اجازت کے بغیر مقدم کرنا جائز نہیں ہے (تعلیق ممجد) اور فتح الباری میں جمہور کے پاس یہ مستحب ہے اور ابن حزم کے پاس واجب ہے۔ 1۔ قولہ: ما کنت لاوثر بفضل منک احدا (میں آپ کے پس نوشیدہ پر کسی کو ترجیح نہیں دونگا) صاحب مرقات نے کہا فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ تقربات دینیہ اور اطاعت کے امور میں ایثار نہیں کیا جاتا۔ اور ایثار تو ان چیزوں میں ہے جس میں نفس کی لذتیں ہیں۔ پس مثال کے طور پر پہلی صف کی اپنی جگہ میں دوسرے کو ترجیح دینا ایثار کرنا مکروہ ہے اور اس میں یہ ہے کہ جو شخص کسی جائز مقام پر یا کسی عالم کی یا کسی بزرگ کی مجلس میں پہلے پہنچ جائے تو وہ اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے اس شخص کے مقابلہ میں جو اس کے بعد آئیگا۔ امام نووی نے کہا ہے کہ تقرب کے کاموں میں ایثار مکروہ ہے اور ان کاموں میں جس میں حظ نفس ہے مستحب ہے۔ 2۔ قولہ: الذی یشرب فی آنیۃ الفضۃ الخ (جو شخص چاندی کے برتنوں میں پیتا ہے) امام نووی نے کہا علماء کا اتفاق ہے سونے اور چاندی کے برتن میں کھانا اور پینا مرد اور عورت کے لئے حرام ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے پس ان دونوں کا استعمال کھانے پینے اور طہارت اور ان دونوں میں سے کسی کے بھی بچے سے کھانے اور ان کے عود دان میں عود جلانے اور برتن میں پیشاب کرنے کے لئے اور دوسری چیزوں میں بھی خواہ وہ چھوٹی ہوں یا بڑی ہوں ان دونوں کا استعمال حرام ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ ان دونوں میں کھانے کی ابتلاء پیش آئے تو ان دونوں کو کسی دوسرے برتنوں میں نکال دے اور اگر کسی چاندی کی شیشی میں تیل کی ابتلاء میں پڑ جائے تو اس کو بائیں ہاتھ میں انڈیل لے پھر اس کو سیدھے ہاتھ میں ڈال کر اس کا استعمال کرے اور سونے چاندی کے برتنوں سے گھروں دکانوں وغیرہ کی زینت کرنا حرام ہے۔ (مرقات بحوالہ ہدایہ) اور قاضی خاں رحمہ اللہ نے کہا سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا اور تیل لگانا مکروہ ہے۔ اسی طرح عود دان سرمہ دانیاں، تیل دان اور اسی طرح سونے چاندی کی سلائی سے سرمہ لگانا مکروہ ہے اور عورتوں کیلئے زیورات کے سوا سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا تیل لگانا بھی مکروہ ہے اور بوڑھی عورتیں بھی ان تمام امور میں مرد لوگوں کی طرح ہیں۔ (حاشیہ صفحہ گزشتہ) اور مرد لوگوں کو چاندی کی انگوٹھی، تلوار اور ہتھیار پر چاندی کا پانی چڑھانے کی اجازت ہے اس کے سوا دیگر چیزیں جو سونے، چاندی سے بنائی جاتی ہیں یا سونا و چاندی کا پانی اس پر چڑھایا گیا ہو اس کی اجازت نہیں ہے۔ صاحب ہدایہ نے کہا ہے کہ صاحب جامع صغیر نے کہا ہے کہ مکروہ ہونے سے مراد تحریمی ہے۔ 1 قوله: لاتلبسوا الحرير ولا الديباج۔ (تم ریشم مت پہنو اور موٹا ریشم بھی مت پہنو) صاحب مرقات نے کہا ہے کہ کپڑے کے کناروں سے اور جیسا کہ متعارف ہے چار انگشت ریشم کی مقدار مستثنیٰ ہے اگر اس کا بانا دوسرے کا ہو اور اس کا تانا ریشم کا ہو تو یہ جائز ہے اور اگر اس کے برعکس ہو تو یہ ناجائز ہے مگر جنگ میں ریشم جائز ہے اور خارش کی یا جوؤں کی کثرت کی وجہ سے بھی ریشم کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ 2 قوله: من شرب في اناء ذهب او فضة او اناء فيه شيئ من ذلك الخ۔ (جو شخص سونے یا چاندی کے برتن یا کسی ایسے برتن میں جس میں اس کی کوئی چیز ہو پیتا ہے)) امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے کہا کہ تخت کرسیاں کہ اگر ان پر چاندی کا یا سونے کا پتر چڑھایا جائے تو مکروہ تحریمی ہے اسی طرح شمعدان جب وہ چاندی یا سونے کے ہوں اور اسی طرح لگام اور رکاب وغیرہ بھی چاندی یا سونے کے ہوں مکروہ ہیں۔ کیونکہ احادیث شریفہ مطلق ہیں اور دارقطنی کی روایت کردہ یہ حدیث اس کی تائید کرتی ہے اور اس لئے کہ جو شخص کسی برتن کو استعمال کرے گا تو اس کا ہر حصہ استعمال کرنے والا ہوگا اور یہی بات ائمہ ثلاثہ امام شافعی، امام مالک اور امام (حاشیہ صفحہ گزشتہ) احمد رحمہم اللہ تعالیٰ نے کہا ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ چاندی کا پتر چڑھے ہوئے برتن میں پینا اور چاندی کا پتر چڑھا ہوا زین پر سوار ہونا اور چاندی کا پتر چڑھی ہوئی کرسی پر اور چاندی کے پتر چڑھے ہوئے پلنگ پر بیٹھنا بشرطیکہ چاندی کی جگہ سے اجتناب کرتا ہو تو یہ سب جائز ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ چاندی اور سونا چڑھے برتن میں اگر پیتے وقت اپنا منہ اس سے ہٹ کر لکڑی پر رکھتا ہے اور کرسی و پلنگ میں اس کی لکڑی پر سونا چاندی سے ہٹ کر بیٹھتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ نے اس کے شگاف کو چاندی کی زنجیر سے باندھا تھا۔ (بخاری)۔ اور امام احمد کی دلیل عاصم احوال سے مروی حدیث شریف ہے۔ میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم کا پیالہ دیکھا اس میں چاندی کا موسل تھا اور یہ چاندی کا پانی پلانا اور اس جیسی کوئی چیز ضمناً ہوتی ہے اور ضمنی چیزوں کے اعتبار نہیں ہوتا جیسے وہ جبہ جس میں ریشم سے سیا گیا ہوا اور کپڑے میں نشان اور نگوں میں سونے کے کیل کی طرح مکروہ نہیں ہے۔ امام زیلعی نے کہا مروی ہے کہ یہ مسئلہ امام جعفر دوانقی کی مجلس میں پیش کیا گیا اس مجلس میں امام ابوحنیفہ اور اس دور کے ائمہ موجود تھے تو ائمہ کرام نے کہا کہ یہ مکروہ ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ خاموش تھے تو آپ سے کہا گیا کہ آپ کیا فرماتے ہیں تو آپ نے فرمایا اگر وہ اپنا منہ چاندی کے مقام پر رکھا تو مکروہ ہے ورنہ مکروہ نہیں۔ تو آپ سے کہا گیا یہ بات کہاں سے ثابت ہے تو آپ نے فرمایا آپ کیا کہتے ہیں اگر اس کی انگلی میں چاندی کی انگوٹھی ہو اور وہ اپنی ہتھیلی سے پیئے تو کیا وہ مکروہ ہے تو سارے لوگ توقف کئے اور امام ابوجعفر آپ کے اس جواب سے تعجب کئے۔ اور امام محمد کا قول امام ابوحنیفہ کے ساتھ بھی مروی ہے اور امام ابویوسف کے ساتھ بھی مروی ہے۔ (ملخص از فتاوی قاضی خاں وردالمحتار وبنایہ وہدایہ)۔