اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5715
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ وہ ایک عجمی اور
کسروانی جبہ نکالیں اس کا گریبان وکلی ریشم کی تھی اور اس کے دونوں چاک ریشم سے سلے ہوئے
تھے 2 اور وہ فرمائیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبہ مبارک ہے جو حضرت عائشہ کے
پاس تھا، پس جب ان کا انتقال ہو گیا تو میں اس کو لے لی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو
پہنتے تھے۔ اور ہم اس کو بیماروں کے لئے دھوتے اور اس سے شفا حاصل کرتے تھے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2069a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
(2) The statement: and its two openings hemmed with brocade: It is said in Al-Hidayah: It is not permissible for men to wear silk, but it is permissible for women, except that a small amount is excused, which is the measure of three or four fingers, such as markings and hemming with silk.
Note 2
(٢) قوله: وفرجيها مكفوفين بالديباج: قال في (الهداية): لا يحل للرجال لبس الحرير، ويحل للنساء إلا أن القليل عفو،وهو مقدار ثلاثة أصابع أو أربع، كالأعلام والمكفوف بالحرير.