English
Abdullah ibn Amr ibn Al-As (may Allah be pleased with them) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) saw me wearing two saffron-dyed garments and said: These are among the garments of the disbelievers, so do not wear them. 1 In a narration: I said: Shall I wash them? He said: Rather, burn them. [Narrated by Muslim] Abu Dawud narrated from him: He said: The Messenger of Allah (ﷺ) saw me wearing a garment dyed with saffron and reddened, and said: What is this? So I went and burned it. The Prophet (ﷺ) said: What did you do with your garment? I said: I burned it. He said: Could you not have clothed one of your family with it, for there is no harm in it for women? In a narration by Abu Dawud from Imran ibn Husayn: The Prophet of Allah (ﷺ) said: The fragrance of men is that which has a scent but no color, and the fragrance of women is that which has a color but no scent. The narrator Saeed said: I believe he said: Regarding the fragrance of women, it applies when she goes out, but when she is with her husband, let her use whatever fragrance she wishes.
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٢٢٣ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنه قَالَ: رَأى رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ، فَقَالَ:(إِنَّ هَذِهِ مِنْ ثِيَابِ الْكُفَّارِ فَلَا تَلْبَسْهُمَا).1 وَفِي رِوَايَةٍ: قُلْتُ:أَغْسِلُهُمَا؟ قَالَ: (بَلْ أَحْرِقْهُمَا). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَرَوَى أَبُوْ دَاوُدَ عَنْهُ قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم وَعَلَيَّ تَوْبٌ مَصْبُوغٌ بِعُصْفُرٍ مُوَرَّدْ،فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَانْطَلَقْتُ فَأَحْرَقْتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه واله وسلم : (مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ؟) فَقُلْتُ:أَحْرَقْتُهُ، قَالَ:(أَفَلَا كَسَوْتَهُ بَعْضَ أَهْلِكَ، فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ النِّسَاءُ).
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم قَالَ: (أَلَا وَطِيبُ الرِّجَالِرِيحٌ لَا لَوْنَ لَهُ، أَلَا وَطِيبُ النَّسَاءِ لَوْنٌ لَا رِيحَ لَهُ).
قَالَ سَعِيْدٌ الرَّاوِيْ: أُرَاهُ قَالَ: إِنَّمَا حَمَلُوا قَوْلَهُ: (فِي طِيبِ النِّسَاءِ) عَلَى أَنَّهَا إِذَا خَرَجَتْ، فَأَمَّا إِذَا كَانَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا فَلْتَطَّيَّبْ بِمَا شَاءَتْ.
اردو
عبداللہ عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انھوں نے کہا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر کسم میں رنگے ہوئے دو کپڑے دیکھے تو آپ نے فرمایا: کہ
یہ کافروں کے کپڑوں میں سے ہے پس تم اس کو مت پہنو 1۔
اور ایک روایت میں ہے میں نے عرض کیا میں ان دونوں کو دھولوں تو آپ
نے فرمایا بلکہ تم اس کو جلا دو۔ (مسلم)۔
اور انہی سے روایت ہے انھوں نے کہا: مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے دیکھا کہ مجھ پر کسم میں رنگا ہوا ایک گلابی کپڑا تھا تو آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے، میں سمجھ گیا
جس کو آپ نے ناپسند کیا ہے میں نکالا اور اس کو جلا ڈالا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم
نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا ہے میں نے عرض کیا کہ: میں نے اس کو جلا دیا ہے۔ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر والوں میں سے کسی کو کیوں نہیں پہنایا کیونکہ اس میں عورتوں کیلئے
کوئی حرج نہیں۔ (ابوداؤد)۔
عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو مرد لوگوں کا عطر خوشبو ہے جس میں رنگ نہ ہو اور عورتوں کا عطر رنگ ہے
جس میں خوشبو نہ ہو۔ (ابوداؤد)۔
راوی حدیث سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے کہا ہے اس کے سوا نہیں کہ عورتوں کی
خوشبو کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو علماء نے عورت کے گھر سے نکلنے کی
صورت پر محمول کیا ہے البتہ جب وہ اپنے شوہر کے پاس رہے تو اس کو اختیار ہے جو خوشبو چاہے
استعمال کرے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2077a (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2077b (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: so do not wear them: In Fatawa Qadi Khan: It is disliked for a man to wear garments dyed with saffron, safflower, or wars. So it is in Al-Marqah. It is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: It is disliked to wear saffron-dyed or red or yellow zaffran-dyed garments for men, implying it is not disliked for women.
Note 1
(١) قوله: فلا تلبسهما: في فتاوى (قاضي خان): يكره للرجل أن يلبس المصبوغ بالعصفر والزعفران والورس. كذا في (المرقاة). وقال في(الدر المختار: وكره لبس المعصفر والمزعفر الأحمر والأصفر للرجال، مفاده أنه لا يكره للنساء.