ف: اس حدیث میں ”فَمَسَحَ رَأْسَهُ عَلَى مَجَارِي الشَّعْرِ“ ہے مجاری الشعر کے وہی معنی
ہیں جس کو ہم نے ترجمہ میں ظاہر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے جمے
ہوئے بالوں پر بکھیرنے اور پلٹنے کے بغیر مسح فرمایا اور مجاری الشعر کے یہی معنی ہیں۔ چنانچہ بیہقی نے سنن
کبریٰ میں اسی طرح وضاحت کی ہے۔12۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ”فَمَسَحَ رَأْسَهُ عَلَى مَجَارِي الشَّعْرِ“ ہے مجاری الشعر کے وہی معنی ہیں جس کو ہم نے ترجمہ میں ظاہر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے جمے ہوئے بالوں پر بکھیرنے اور پلٹنے کے بغیر مسح فرمایا اور مجاری الشعر کے یہی معنی ہیں۔ چنانچہ بیہقی نے سنن کبریٰ میں اسی طرح وضاحت کی ہے۔12۔