Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Medicine and Healing Charms

Hadith 4422

The Chapter on Optimism and Omens

In this book

Current reading

Medicine and Healing Charms

The Chapter on Optimism and Omens

Zujajat al-Masabih 4422Volume 3

English

Urwah bin Amir narrated: Omens were mentioned to the Messenger of Allah (ﷺ), and he said: The best of it is optimism, and it should not deter a Muslim. If one of you sees something they dislike, let them say: O Allah, none brings good but You, none averts evil but You, and there is no power or strength except in You .

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٤٢٢ - وَعَنْ عُرْوَةَ ابْنِ عَامِرٍ قَالَ: ذُكِرَتِ الطَّيَرَةُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم، فَقَالَ:(أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ لَا يَأْتِيبِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ). رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ مُرْسَلًا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5959
سیدنا عروہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بدشگونی کا ذکر کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اور اچھا شگون فال نیک ہے۔ اور بدشگونی کسی مسلمان کو (نیک کام) سے نہیں روکتی ہیں۔ پس جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہے تو چاہیے کہ وہ یہ کہے: اَللّٰهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ. (اے اللہ! اچھائیاں صرف تو لے آتا ہے اور برائیوں کو تیرے سوا کوئی دفع نہیں کرسکتا ہے، نہ برائی سے بچنے کی کوئی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی کوئی قوت ہے مگر اللہ ہی سے)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے مرسلاً کی ہے)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3919 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور حدیث میں یہ نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم برے ناموں سے بدفالی لیتے تھے۔ جیسا کہ اس باب میں اس کو لانے سے اس کا وہم پیدا ہو رہا ہے، اس حدیث کا مقام ”باب الاسماء“ ہے۔ اور مصنف علیہ الرحمہ نے حدیث کے ابتدائی حصہ کی مناسبت سے کہ جس میں مطلق شگون بد لینے کی نفی ہے، اس کو یہاں بیان کیا ہے۔ (ماخوذ از مرقات)