اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6066
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یارسول اللہ! ہم میں
سے کوئی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملاقات کرے تو کیا وہ اس کے لئے2 جھکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نہیں، اس شخص نے کہا: تو کیا وہ اس کو گلے لگالے اور بوسہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں، اس
شخص نے کہا: کیا وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں! (ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2728 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “Should he bow to him? He said, ‘No’”: It is said in Al-Urf ash-Shadhi: “Bowing upon meeting is prohibitively disliked, as stated in the Hanafi fatwas.”
Note 1
(۱) قوله: أينحني له؟ قال: لا : قال في العرف الشذي: وأما الانحناء عند الملاقاة فمكروه تحريمها، كما في فتاوى الحنفية.
Note 1
امام طحاوی نے کتاب شرح معانی الآثار میں فرمایا ہے: ایک جماعت اس کو اختیار کی ہے اور معانقہ کو مکروہ قرار دیا ہے ان میں امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہما ہیں۔ اور اس بارے میں دیگر علماء نے ان سے اختلاف کیا ہے اور وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اس کو اختیار کرنے والوں میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپس میں معانقہ کرتے تھے، تو اس میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث معانقہ کے جائز ہونے کی مروی ہے وہ اس حدیث کے بعد کی ہے جس میں معانقہ کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت مروی ہے۔ اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔