English
Narrated Aisha: The Messenger of Allah ﷺ was asked about a man who feels wetness but does not recall having a wet dream. He said, "He should perform ghusl." And about a man who believes he had a wet dream but finds no wetness, he said, "He does not need ghusl." Umm Sulaym asked, "Does a woman have to perform ghusl if she sees that?" He said, "Yes, for women are the counterparts of men." [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawood, and Darimi and Ibn Majah narrated up to his statement: "He does not need ghusl"). Al-Khatabi said: "This indicates the confirmation of analogy and the comparison of the similar to the similar."
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٨٤ - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ عَنِ الرَّجُلِ يَجِد الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا. قَالَ: «يَغْتَسِلُ». وَعَنِ الرَّجُلِ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا يَجِدُ بَلَلًا، قَالَ: «لَا غُسْلَ عَلَيْهِ». قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ غُسْلُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِنَّ النِّسَاءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى الدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ إِلَى قَوْلِهِ: لَا غُسْلَ عَلَيْهِ». قَالَ الْخَطَابِيُّ: فِيْهِ مِنَ الْفِقْهِ إِثْبَاتُ الْقِيَاسِ وَالْحَاقُ النَّظِيْرِ بِالنَّظِيْرِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 537
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ حضرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو نیند سے بیدار ہو کر جسم یا
کپڑے پر تری دیکھے اور اس کو احتلام یاد نہ ہو، آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ غُسل کر لے اور ایک ایسے
شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کو احتلام یاد ہو اور تری نہ پائے آپ نے ارشاد فرمایا: اس پر غُسل
واجب نہیں، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر عورت
کو ایسا اتفاق پیش آئے تو کیا اس پر بھی غُسل واجب ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں غُسل واجب ہے کیونکہ
عورتیں (پیدائش اور طبائع میں) مردوں کے مانند ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہے البتہ دارمی اور ابن ماجہ نے صرف (لا غُسل عليه) تک روایت کی ہے، خطابی کا بیان ہے کہ اس حدیث میں قیاس کا اثبات اور ایک نظیر کو دوسرے نظیر کے حکم سے الحاق کا ثبوت ملتا ہے۔)