اردو
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے
کہا: جب آیت مبارکہ ”الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ“ (6-الانعام، آیت:82)
(جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا) نازل ہوئی تو یہ
بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر شاق گزری اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم
میں کون آدمی ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہ کیا ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مراد نہیں اس
کے سوا نہیں کہ وہ (ظلم) شرک1 کرنا ہے کیا تم نے لقمان علیہ السلام کا قول نہیں سنا جو انہوں نے
اپنے صاحبزادے سے کہا: ”يٰبُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ، إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ“
(31-لقمن، آیت:13) (بیٹا! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بلا شبہ شرک بڑا ظلم ہے۔
اور ایک روایت میں (یہ الفاظ ہیں) (ظلم سے مراد) وہ نہیں ہے جیسا کہ
تم سمجھ رہے ہو، بیشک وہ تو ایسا ہے جیسا لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا ہے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 32 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 124a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “It is not as you think, it refers to shirk, etc.”: This is evidence for the true position of Ahl as-Sunnah wal-Jama’ah, contrary to the Khawarij, Mu’tazilah, and other innovators. This Hadith establishes that sins do not negate faith, as the people of truth have stated. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: ليس ذاك إنما هو الشرك إلخ فيه دليل على مذهب الحق الذي عليه أهل السنة والجماعة خلافا للخوارج والمعتزلة وسائر المبتدعة، فثبت بهذا الحديث أن المعاصي لا ينافي الإيمان، كما قال أهل الحق. أخذته من «المرقاة».