Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Etiquette

Hadith 4937

Chapter on Enjoining Good and Forbidding Evil

In this book

Current reading

Etiquette

Chapter on Enjoining Good and Forbidding Evil

Zujajat al-Masabih 4937Volume 4

English

Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When the Children of Israel fell into sins, their scholars forbade them, but they did not stop. So, they sat with them in their gatherings, ate with them, and drank with them. Allah struck the hearts of some with others and cursed them on the tongues of Dawud and Isa ibn Maryam: ‘That was because they disobeyed and transgressed.’” He said: The Messenger of Allah (ﷺ) was reclining, then sat up and said: “No, by the One in Whose hand is my soul, until you compel them to the truth!” [Narrated by At-Tirmidhi and Abu Dawud] In another narration by him: “No, by Allah, you must enjoin good, forbid evil, seize the hand of the oppressor, compel him to the truth, and confine him to the truth, or Allah will strike the hearts of some of you with others and curse you as He cursed them.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٩٣٧ - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَمَّا وَقَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ فِي الْمَعَاصِي نَهَتْهُمْ عُلَمَاؤُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا ، فَجَالَسُوهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ وَآكَلُوهُمْ وَشَارَبُوهُمْ، فَضَرَبَ اللهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ، وَلَعَنَهُمْ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ {ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ} قَالَ: فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَكَانَ مُتَّكِنَّا فَقَالَ: «لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى تَأْطُرُوهُمْ أَطْرًا». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَتِهِ: قَالَ: «كَلَّا وَاللهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى يَدَيْ الظَّالِمِ وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَجْرًا وَلَتَقْصُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ قَصْرًا، أَوْ لَيَضْرِبَنَّ اللَّهُ بِقُلُوبِ بَعْضِكُمْ عَلَى بَعْضٍ ثُمَّ لَيَلْعَنَنَّكُمْ كَمَا لَعَنَهُمْ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6543Noor 6544
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑ گئے تو ان کے علماء نے ان کو روکا تو نہیں رکے تو علماء بھی ان کی مجلسوں میں ان کے ساتھ بیٹھنے لگے اور ان کے ساتھ کھانے اور پینے لگے، تو اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے ساتھ ملا دیا اور اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو زبانی ان پر لعنت کی ”اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کئے اور وہ حد سے نکل جاتے تھے“، راوی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، جبکہ آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ نے فرمایا: نہیں! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہاں تک کہ تم ان کو اچھی طرح روک دو۔ (ترمذی، ابوداؤد)۔ اور ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایا: ہرگز نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہو گے اور ضرور ضرور برائی سے روکو گے اور ضرور ضرور ظالم کے دونوں ہاتھوں کو پکڑو گے اور ان کو ضرور حق پر کھینچ لوگے اور حق پر ان کو روکے رکھو گے۔ ورنہ پھر اللہ تعالیٰ تمہارے بعض کے دلوں کو بعض سے ملا دے گا، پھر ضرور وہ تم پر لعنت کرے گا جیسا ان پر لعنت کیا ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3047 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4336 (unverified) 91% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.