English
Umm Al-Ala Al-Ansariyyah (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By Allah, I do not know, by Allah, I do not know, though I am the Messenger of Allah, what will be done with me or with you.” [Narrated by Bukhari]
Sheikh At-Tawrabushti said: This Hadith and similar ones must not be interpreted as the Prophet (ﷺ) being uncertain about his fate or unaware of his good standing with Allah, given the authentic Hadiths that decisively contradict this, stating he will attain the Praised Station, is the most honored of creation with Allah, the first to intercede and be interceded for, among others. Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said regarding Allah’s statement: And I do not know what will be done with me or with you (Al-Ahqaf: 9).
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1243 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
(۲) قوله: لوددت أن ذلك برد لنا إلخ : هذا بالنسبة إلى أجلاء الصحابة وعظماء الخلافة، وأما من بعدهم فطاعاتهم المشحونة بالغرور والعجب والرياء أسباب للمعاصي ووسائل لعقوبات العاصي غالبا إلا أن يتفضل الله برحمته وعين عنايته بأن يلحق المسيئين بالمحسنين. كذا في «المرقاة».
Note 1
شیخ تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: یہ حدیث شریف کو اور جو اس کے ہم معنی روایات آئی ہیں انکو اس بات پر محمول نہیں کیا جا سکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے انجام کار کے بارے میں کوئی تردد رہا ہو، اللہ تعالیٰ کے پاس آپ کے بہتر و عمدہ مقامات سے متعلق غیر یقینی کیفیت میں رہے ہوں؛ کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی صحیح احادیث آئی ہیں جن کے پیش نظر اس کے خلاف جو عندیہ ہے ختم ہوجاتا ہے اور اس پر اسکو کیسے محمول کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ حضور ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دینے والے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا اور آپ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ بزرگ و برتر ہیں اور آپ ہی سب سے پہلے شفاعت فرمائیں گے اور آپ ہی کی شفاعت سب سے پہلے قبول کی جائے گی اور دیگر بشارتیں وغیرہ۔ اور علامہ طیبی رحمة اللہ علیہ نے کہا: اس میں کئی توجیہات ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ یہ منسوخ ہے، اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے ”لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ“ (48، سورۃ الفتح، آیت نمبر:2)(تا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی خاطر آپ کو پہلے اور بعد میں معصوم رکھے) جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ”وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ“ (46، سورۃ الاحقاف، آیت نمبر:9) کی تفسیر میں فرمایا ہے۔