Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Heart-Softening Narrations

Hadith 5131

Chapter on Weeping and Fear

In this book

Current reading

Heart-Softening Narrations

Chapter on Weeping and Fear

Zujajat al-Masabih 5131Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6750
سیدنا ابوبردہ بن ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں میرے والد نے آپ کے والد 1 سے کیا کہا؟ ابوبردہ کہتے ہیں: میں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا: میرے والد نے آپ کے والد سے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا یہ بات آپ کو خوش کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہمارا اسلام لانا، ہجرت کرنا، جہاد کرنا اور آپ کے ساتھ کا ہمارا ہر عمل ہمارے لئے ثابت رہے اور ہر وہ کام جس کو ہم نے حضور اکرم ﷺ کے بعد انجام دیا اس سے، ہم برابر سرابر نجات پائیں، تو آپ کے والد نے میرے والد سے کہا: نہیں اللہ کی قسم ہم نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جہاد کیا، نمازیں ادا کیں، روزے رکھے اور بہت سارے کارخیر انجام دیئے اور ہمارے ہاتھوں پر بہت سارے لوگ اسلام قبول کئے اور یقیناً ہم اس کی بھی امید رکھتے ہیں، میرے والد نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں عمر کی جان ہے میں یہی چاہتا ہوں کہ وہ ہمارے لئے ثابت 2 رہیں اور ہر وہ کام جو ہم نے حضور ﷺ کے بعد انجام دیا اس سے ہم برابر سرابر چھوٹ جائیں، میں نے کہا: اللہ کی قسم یقینا آپ کے والد میرے والد سے بہتر تھے۔ (بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3915 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

Do you know what my father said to your father

(1) His statement: “Do you know what my father said to your father” means regarding the dominance of fear, the chapter’s theme. His statement: “secured” means established, as in “a right was secured for us against so-and-so,” meaning established. (Extracted from Al-Mirqat)

Note 2

I wish that it was secured for us

(2) His statement: “I wish that it was secured for us” – this pertains to the eminent Companions and great caliphs. As for those after them, their acts of obedience, often filled with conceit, pride, and showing off, are usually causes of sins and means of punishment for the disobedient, unless Allah favors them with His mercy and care, joining the wrongdoers with the righteous. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ما قال أبي لأبيك: أي في أمر غلبة الخوف المعنون به الباب. وقوله: «برد» أي ثبت من قولهم: برد لنا على فلان حق أي ثبت. التقطته من «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: لوددت أن ذلك برد لنا إلخ : هذا بالنسبة إلى أجلاء الصحابة وعظماء الخلافة، وأما من بعدهم فطاعاتهم المشحونة بالغرور والعجب والرياء أسباب للمعاصي ووسائل لعقوبات العاصي غالبا إلا أن يتفضل الله برحمته وعين عنايته بأن يلحق المسيئين بالمحسنين. كذا في «المرقاة».