English
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: When the verse And warn your closest kindred (Ash-Shu‘ara: 214) was revealed, the Prophet (ﷺ) climbed Safa and began calling: “O Banu Fihr, O Banu Adi,” to the clans of Quraysh until they gathered. He said: “If I told you that cavalry were in the valley intending to raid you, would you believe me?” They said: “Yes, we have only experienced truth from you.” He said: “Then I am a warner to you before a severe punishment.” Abu Lahab said: “May you perish for the rest of the day! Is this why you gathered us?” Then the verse was revealed: May the hands of Abu Lahab perish, and may he perish (Al-Masad: 1). [Agreed Upon]
In another narration: He called: “O Banu Abd Manaf, my example and yours is like a man who saw the enemy, went to warn his people, feared they would overtake him, and began shouting: ‘O morning!’”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥١٥١ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ صَعِدَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَى الصَّفَاء فَجَعَلَ يُنَادِي يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي عَدِيٌّ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ حَتَّى اجْتَمَعُوا، فَقَالَ: «أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِي؟» قَالُوا: نَعَمْ، مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا، قَالَ: «فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبَا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا؟ فَنَزَلَتْ: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ}(المسد: 1 . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ .
وَفِي رِوَايَةِ: نَادَى: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ، فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاهُ».
اردو
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے جب آیت
’’وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ‘‘ (26، سورۃ الشعراء، آیت نمبر:214)(اور آپ اپنے
قریبی رشتہ داروں کو آگاہ کیجئے) نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ صفا پر چڑھے اور قریش کے قبیلوں کو
اے بنی فہر! اے بنی عدی! کہہ کر آواز دینے لگے حتیٰ کہ وہ سب جمع ہوگئے اور فرمایا: مجھے بتلاؤ
تمہاری کیا رائے ہے اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس وادی میں گھوڑ سواروں کا ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ
آور ہونا چاہتا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے، انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے جب کبھی آپ کو آزمایا
سچ پایا، آپ نے فرمایا: دیکھو میں تمہیں سخت ترین عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں، تو ابولہب نے
کہا: سارا دن تمہارے لئے ہلاکت ہو کیا اسی لئے تم نے ہمیں جمع کیا ہے؟ پس ”تَبَّتْ يَدَا أَبِي
لَهَبٍ وَتَبَّ“ (111- سورۃ اللھب، آیت نمبر: 1) (ترجمہ: ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے
اور وہ ہلاک ہو گیا) نازل ہوئی۔ (متفق علیہ)۔
اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ندا دی: اے بنی عبدمناف!
یقیناً میری اور تمہاری مثال اس شخص کے جیسی ہے جس نے دشمن کو دیکھا اور اپنے گھر والوں کی حفاظت
کے لئے تیز تیز چلا، پھر اسے خوف ہوا کہ دشمن اس سے پہلے پہنچ جائے گا، تو وہ چلا کر کہنے لگا ”یا صباحاہ“۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4770 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 208a (unverified) 91% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(۱) قوله: فإني لا أملك لكم من الله شيئًا وهذا التوحيد على وفق التفريد، وهو اله وإن كان قد ينفع المؤمنين بالشفاعة حيث يشفع ويشفع، لكن أطلقه ترهيبا لهم على الاتكال عليه وترغيبا لهم على الاجتهاد، وفي أمر زاد المعاد. كذا في «المرقاة».