Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Trials

Hadith 5270

Chapter on Signs Before the Hour and Mention of the Dajjal

In this book

Current reading

Trials

Chapter on Signs Before the Hour and Mention of the Dajjal

Zujajat al-Masabih 5270Volume 4

English

Asma bint Yazid ibn as-Sakan (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) was in my house and mentioned the Dajjal, saying: “Before him are three years: in the first, the sky withholds a third of its rain, and the earth a third of its vegetation; in the second, the sky withholds two-thirds of its rain, and the earth two-thirds of its vegetation; in the third, the sky withholds all its rain, and the earth all its vegetation. No cloven-hoofed or molar-toothed animal will remain but perish. Among his severest trials is that he will come to a Bedouin and say: ‘If I revive your camels, will you not know I am your Lord?’ He will say: ‘Yes.’ The devil will appear to him in the form of his camels, with the fullest udders and largest humps. He will come to a man whose brother and father have died and say: ‘If I revive your father and brother, will you not know I am your Lord?’ He will say: ‘Yes.’ The devils will appear to him in the form of his father and brother.” She said: Then the Messenger of Allah (ﷺ) went out for a need, then returned while the people were anxious and grieved by what he told them. She said: He took hold of the door curtains and said: “What is wrong, Asma?” I said: “O Messenger of Allah, you have torn our hearts with the mention of the Dajjal.” He said: “If he emerges while I am alive, I will be his adversary. Otherwise, my Lord is my successor over every believer.” I said: “O Messenger of Allah, by Allah, we knead our dough and do not bake it until we are hungry. How will the believers be at that time?” He said: “What suffices the people of the heavens in glorification and sanctification will suffice them.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٢٧٠ – وَعَنْهَا (رضي الله عنها) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي بَيْتِي، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ سِنِينَ سَنَةً، تُمْسِكُ السَّمَاءُ فِيهَا ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُغَيَّ قَطْرِهَا وَالأَرْضُ ثُلُثَيَّ نَبَاتِهَا، وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ ، فَلَا يَبْقَى ذَاتُ ظلفٍ، وَلَا ذَاتُ ضِرْسٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَ، وَإِنَّهُ مِنْ أَشَدَّ فِتْنَتِهِ أَنَّهُ يَأْتِي الْأَعْرَابِيَّ، فَيَقُوْلُ : أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ، فَيَقُوْلُ : بَلَى، فَيَتَمَثَّلُ لَهُ الشَّيْطَانُ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا يَكُوْنُ ضُرُوعًا وَأَعْظَمُهَا أَسْنِمَةً، قَالَ: وَيَأْتِي الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ أَخُوهُ وَمَاتَ أَبُوهُ، فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَخَاكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ لَهُ: بَلَى، فَيَتَمَثَّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ» قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ اللهِ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامِ وَغَمَّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ قَالَتْ: فَأَخَذَ بِلُحْمَتَيِ الْبَابِ، فَقَالَ: «مَهْيَمْ أَسْمَاءُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ، فَقَالَ: «إِنْ يَخْرُجُ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ، وَإِلَّا فَإِنَّ رَبِّي خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ مُؤْمِنٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَاللهِ إِنَّا لَتَعْجِنُ عَجِينَنَا، فَمَا نَخْبِزُ حَتَّى نَجُوعَ، فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ فَقَالَ: «يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالطَّيَالِسِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6896
اور انہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا کہ اس سے پہلے تین سال ہوں گے ایک وہ سال ہوگا کہ جس میں آسمان اپنے ایک تہائی بارش اور زمین اپنی ایک تہائی پیداوار روک لیں گے اور دوسرا سال آسمان اپنی دو تہائی بارش اور زمین اپنی دو تہائی پیداوار روک لے گی اور تیسرا سال وہ ہوگا کہ جس میں آسمان اپنا تمام پانی اور زمین اپنی تمام پیداوار روک لے گی تو کوئی کھر والا چوپایا باقی رہے گا اور نہ ڈاڑ والا مگر وہ ہلاک ہو جائے گا، اور اسکے بڑے فتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ اعرابی کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ تیرا کیا خیال ہے کہ اگر میں تیرے اونٹ زندہ کر دوں تو کیا تو مجھے اپنا رب نہیں جانے گا؟ تو وہ کہے گا کیوں نہیں! تو شیاطین اسکے لئے بہترین تھن اور بڑے کوہان والے اونٹوں کی شکل اختیار کر کے آئیں گے اور فرمایا اور ایک آدمی کے پاس آئے گا جس کا بھائی اور والد مر چکا ہوگا تو وہ کہے گا تیرا کیا خیال ہے کہ اگر میں تیرے لئے تیرے باپ اور بھائی کو زندہ کر دوں تو تُو نہیں جانے گا کہ میں تیرا رب ہوں؟ تو وہ کہے گا کیوں نہیں، تو شیاطین اسکے باپ اور بھائی کی جیسی شکل اختیار کر کے آئیں گے حضرت اسماء فرماتی ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی ضرورت سے باہر نکلے، پھر واپس تشریف لائے جبکہ تو ہم غم و فکر میں تھی اس چیز کی وجہ سے جو آپ نے بیان فرمایا، اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازہ کے دو بازوؤں کو پکڑ کر فرمایا: کیا حال ہے اسماء؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! دجال کے ذکر سے ہمارے دل اکھڑ گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ نکل آیا اور میں موجود ہوں تو میں اسکے لئے کافی ہوں ورنہ میرا رب ہر مومن پر میری طرف سے خلیفہ (نگہبانی کرنے والا) تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی قسم! یقیناً ہم ہمارا آٹا گوندھتے ہیں اور اسکو پکا نہیں سکتے یہاں تک کہ ہم بھوک کے رہ جاتے ہیں، تو اس دن مومنین کا کیا حال ہوگا؟ فرمایا: انکو وہ چیز کافی ہو جائے گی جو آسمان والوں کیلئے کافی ہوئی ہے، یعنی تسبیح و تقدیس۔ (احمد، ابوداؤد، طیالسی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5496 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 5496

Confidence and text similarity are not editorial verification.