اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6946
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں
نے کہا: یہودیوں کا بڑا عالم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے محمد! اللہ تعالیٰ روز
قیامت آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی
پر1 اور پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور ساری مخلوق کو ایک انگلی پر پھر انکو ہلائیگا اور فرمائیگا: میں ہی بادشاہ
ہوں، میں ہی معبود ہوں، پس یہودی عالم نے جو کچھ کہا اس پر تعجب کرتے ہوئے اس کی تصدیق
کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ”وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ
وَتَعَالٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ“(39-سورۃ الزمر، آیت نمبر:67)(وہ اللہ کی قدر نہیں کے جو اس کی
قدر کا حق ہے اور ساری زمین اس کے قبضہ میں ہے قیامت کے دن اور آسمان لپیٹے ہوئے ہیں اس
کے سیدھے ہاتھ میں وہ پاک اور برتر ہے اس سے جسے وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔(متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4811 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2786a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “On one finger”: This hadith, on its apparent meaning, contradicts the earlier narration that the heavens are folded with His right hand and the earths with the other. Also, the apparent division of things among fingers suggests the physical hand with five fingers, as believed by the anthropomorphists among the Jews and other innovators. Since he did not deny it, it requires either interpretation, which is the way of the later scholars and is more knowledgeable, or acceptance and delegation with agreement on transcendence, which is the way of the Salaf and is safer. Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : على إصبع إلخ وهذا الحديث بظاهره يخالف ما سبق من أن طي العلوي بيمينه ، والسفلي بالأخرى، وأيضا ظاهر تقسيم الأشياء على الأصابع موهم لإرادة تحقق الجارحة المشتملة على الأصابع الخمسة، كما هو مذهب المجسمة من اليهود وسائر أهل البدع، ولكنه لما قرره ، حيث لم ينكره لزم إما التأويل، وهو مذهب الخلف، وهو أعلم، أو التسليم والتفويض مع الاتفاق على التنزيه، وهو مذهب السلف، وهو أسلم، والله تعالى أعلم. كذا في «المرقاة».