Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Trials

Hadith 5349

بَابُ الْحِسَابِ وَالْقِصَاصِ وَالْمِيزَانِ ختم ہوا

In this book

Current reading

Trials

بَابُ الْحِسَابِ وَالْقِصَاصِ وَالْمِيزَانِ ختم ہوا

Zujajat al-Masabih 5349Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6979
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک شخص آیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا: یارسول اللہ! میرے کچھ غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے ہیں اور میرے ساتھ خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں اور میں انکو گالیاں دیتا ہوں اور مارتا ہوں پس میں ان سے متعلق کیسا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو حساب لگایا جائے گا اس کا جو انہوں نے تیرے ساتھ خیانت کی اور جو انہوں نے تیری نافرمانی کی اور جو انہوں نے تجھے جھٹلایا اور تیرے انکو سزا دینے کا، پس اگر تیرا انکو سزا دینا انکے جرائم کی بقدر ہے تو وہ تیرے لئے ”کفاف“ برابر برابر ہو جائے گا نہ تیرے لئے کچھ فائدہ ہوگا اور نہ تیرے خلاف نقصان، اور اگر تیرا انکو سزا دینا انکے جرائم سے کم ہو تو یہ تیرے لئے فضل کی چیز ہے2 اور اگر تیرا انکو سزا دینا انکے جرائم سے زیادہ ہو تو انکے لئے تجھ سے بدلہ لیا جائے گا، تو وہ شخص ہٹ گیا اور آہ و بکا کرنے اور رونے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا: کیا تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں پڑھتا اور ہم بروز قیامت انصاف کی ترازو رکھیں گے پس کسی نفس پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر وہ رائی کے دانے کے برابر بھی ہو تو ہم اسکو لائیں گے اور ہم حساب لینے کے لئے کافی ہیں؟ تو اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے لئے اور ان کے لئے ان کو چھوڑ دینے سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں یہ سب آزاد ہیں۔-(ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3165 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

It will be a surplus for you

(1) His statement: “It will be a surplus for you”: The apparent meaning is that it will be taken from them for you, as stated in the last case: “The excess will be taken from you for them.” It seems it was not mentioned here because the context of the hadith implies it. (As stated in Al-Lama’at)

Note 1

قوله

(۱) قوله : كان فضلا لك : الظاهر أنه يقتص له منهم، كما قال في القسم الأخير: اقتص لهم منك الفضل، وكأنه إنما لم يذكر ههنا الاقتصاص له منهم؛ لما يشعر به سياق الحديث. كذا في «اللمعات».