Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Trials

Hadith 5437

Chapter on Vision of Allah, the Exalted

In this book

Current reading

Trials

Chapter on Vision of Allah, the Exalted

Zujajat al-Masabih 5437Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7077Noor 7078
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا:اس دوران کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے کہ اچانک ان کے لئے ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سروں کو اٹھائیں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کے اوپر سے ان کی جانب متوجہ ہوگا اور فرمائے گا:اے جنتیو! تم پر سلامتی ہو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:یہی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان:”سَلٰمٌ“، ”قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ“(36-سورۃ یٰسٓ، آیت نمبر:58) مہربان رب کی طرف سے سلامتی کی گفتگو ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر فرمائے گا اور یہ لوگ اس کا دیدار کریں گے اور جب تک اس کا دیدار کرتے رہیں گے، نعمتوں میں سے کسی نعمت کی طرف نہیں دیکھیں گے یہاں تک کہ وہ اُن سے حجاب میں ہو جائے گا، اور اس کا نور باقی رہے گا1۔(ابن ماجہ)۔ امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ”إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ“(75-سورۃ القیامۃ، آیت نمبر:23)(اپنے رب کا دیدار کریں گے) کے بارے میں دریافت کیا گیا2 کچھ لوگوں کے بارے میں کہا گیا3 جو کہتے ہیں 1: اسکے ثواب کو دیکھیں گے تو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: انہوں نے جھوٹ کہا تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں کیا کہیں گے: ”كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ“ (83-سورۃ المطففین، آیت نمبر:15) یقیناً انہیں اپنے رب کے دیدار سے حجاب میں ہونگے، قیامت کے دن لوگ اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اور کہا اگر ایمان والے قیامت کے دن اپنے رب کو نہ دیکھیں تو اللہ تعالیٰ حجاب کے ذریعہ کفار کو عار نہیں دلاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ“ (83-سورۃ المطففین، آیت نمبر:15) یقیناً اُنہیں اپنے رب کے دیدار سے حجاب ہوں گے۔ (شرح السنہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 184 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (8)

Note 1

And His light remains,

(1) His statement: “And His light remains,” meaning the effect and fruit of His manifestation on their outward and inward selves, as witnessed by those who experience spiritual unveiling after annihilation. Allah, the Exalted, knows best. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

Malik ibn Anas was asked.

(2) His statement: “Malik ibn Anas was asked.” He is the founder of the Maliki school. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

Some...

(3) His statement: “Some...” Meaning the Mu’tazila and similar innovators. (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

Some said,

(4) His statement: “Some said,” meaning regarding the verse, “looking at His reward.” Some said that “ila” here means the blessing, singular of “ala,” the object of “looking,” meaning awaiting the blessing of their Lord. This was refuted, as awaiting implies suffering, which does not exist in Paradise. Reflect on this. His statement: “Veiled,” meaning they do not see Allah, the Exalted. The veil is the severest punishment, just as vision is an addition beyond every reward, as Allah said: “For those who do good is the best reward and more” (Yunus: 26). The meaning is: Where are those people, as they have fallen into error and heedlessness regarding the implication of this statement, that the believers are not veiled but are drawn to the station of looking and become beloved in their perfection due to their love. (Extracted from Al-Mirqat and Al-Lama’at)

Note 1

قوله

(۱) قوله : ويبقى نوره أي أثر نوره وثمرة ظهوره على ظاهرهم وباطنهم، كما يشاهده أهل المشاهدة في حال البقاء، بعد تحقق الفناء، والله تعالى أعلم. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله : سئل مالك بن أنس : وهو صاحب المذهب. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: فقيل : قوم : أي المعتزلة وأشباههم من أهل البدع. كذا في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله: يقولون: أي في معنى الآية وقوله: «إلى ثوابه»، أي ناظرة إلى ثواب ربها، كما قال بعضهم: «إلى» هنا بمعنى النعمة مفرد آلاء، مفعول ناظرة قدم عليه أي منتظرة نعمة ربها، وتعقب بأن الانتظار عذاب، فلا يكون في الجنة فتدبر. وقوله: «المحجوبون أي لا يرون الله سبحانه، والحجاب أشد العذاب، كما أن الرؤية زيادة على كل مثوبة حيث قال تعالى: لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ (يونس: (٢٦) ، والمعنى فأين ذلك القوم حيث وقعوا في بعد وغفلة عن مفهوم هذا القول، وهو أن المؤمنين غير محجوبين، بل يكونون إلى مقام النظر مطلوبين ويصيرون من كمالهم في مرتبة الحب محبوبين. التقطته من المرقاة» و«اللمعات».