English
Al-Sha’bi said: Ibn Abbas met Ka’b at Arafah and asked him about something, and he proclaimed “Allahu Akbar” so loudly that the mountains echoed. 1 Ibn Abbas said: “We are Banu Hashim.” Ka’b said: “Indeed, Allah divided His vision and speech between Muhammad and Musa. He spoke to Musa twice, and Muhammad saw Him twice.” Masruq said: I entered upon Aisha and said, “Did Muhammad see his Lord?” She said: “You have spoken of something that makes my hair stand on end.” I said: “Take it slowly,” then recited: 2 “He certainly saw some of the greatest signs of his Lord” (Al-Najm: 18). She said: “Where are you going with this? That was Jibril. Whoever tells you that Muhammad saw his Lord, concealed something he was commanded to convey, or knows the five things Allah mentioned: ‘Indeed, Allah has knowledge of the Hour and sends down the rain’ (Luqman: 34), has uttered a grave falsehood. Rather, he saw Jibril. He did not see him in his true form except twice: once at Sidrat al-Muntaha and once in Ajyad, with six hundred wings filling the horizon.” [Narrated by At-Tirmidhi] In a narration by the two Shaykhs (Bukhari and Muslim) with additions and variations: He said: I said to Aisha, “What about His statement: ‘Then he approached and descended, and was at a distance of two bow lengths or nearer’ (Al-Najm: 8-9)?” She said: “That was Jibril. 3 He used to come to him in the form of a man, but this time he came in his true form, filling the horizon.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٤٣٩ - وَعَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَعْبًا بِعَرَفَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَكَبَّرَ1 حَتَّى جَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا بَنُو هَاشِمٍ، فَقَالَ كَعْبٌ: إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى، فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ وَرَآهُ مُحَمَّدُ مَرَّتَيْنِ.
قَالَ مَسْرُوقٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ تَكَلَّمْتَ بِشَيْءٍ قَفَّ لَهُ شَعْرِي، قُلْتُ: رُوَيْدًا، ثُمَّ قَرَأْتُ 2﴿ لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى ﴾(النجم: (۱۸) فَقَالَتْ: أَيْنَ يُذْهَبُ بِكَ، إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ ، مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ، أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ، أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ﴾(لقمان: (٣٤) . فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ، مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَمَرَّةً فِي أَجْيَادٍ، لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
وَرَوَى الشَّيْخَانِ مَعَ زِيَادَةٍ وَاخْتِلَافٍ. وَفِي رِوَايَتِهِمَا: «قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ: ﴿فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى ﴾(النجم : ٨-٩) قَالَتْ: ذَاكَ 3 جِبْرِيلُ كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ وَإِنَّهُ أَتَاهُ هَذِهِ الْمَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ .
اردو
حضرت شعبی سے روایت ہے اُنہوں نے کہا: حضرت ابن عباس
رضی اللہ عنہما نے عرفہ میں حضرت کعب سے ملاقات کی اور اُن سے کسی چیز کے بارے میں دریافت
کیا تو اُنہوں نے اللہ اکبر کہا1 یہاں تک کہ پہاڑ گونج اُٹھے، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے
فرمایا: ہم بنو ہاشم ہیں، حضرت کعب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دیدار اور کلام کو حضرت سیدنا محمد
مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کردیا، تو موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ
کلام کیا اور حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا دو مرتبہ دیدار کیا، حضرت مسروق کہتے ہیں:
میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: کیا حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
نے اپنے رب کا دیدار کیا؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہہ دی جس کی وجہ سے
میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے میں نے عرض کیا: کچھ توقف کیجئے، پھر میں نے تلاوت کی2: ”لَقَدْ
رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى” (53-سورۃ النجم، آیت نمبر:18) (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں) تو حضرت عائشہ نے فرمایا: یہ آیت تمہیں کہاں لے جاری ہے وہ
تو جبرئیل علیہ السلام ہیں، جو تمہیں یہ بتائے کہ حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کا دیدار کیا، یا
جن چیزوں کی تبلیغ کا آپ کو حکم دیا گیا آپ نے اس میں سے کچھ چھپایا، یا یہ کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ
پانچ چیزیں جانتے ہیں جس سے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ،
وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ “ (31-سورۃ لقمان، آیت نمبر:34) (قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور
وہ بارش نازل کرتا ہے) تو یقیناً اُس نے بڑا بہتان باندھا، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ
السلام کو دیکھا، آپ نے جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا، ایک مرتبہ
سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، دوسری مرتبہ اجیاد میں اُن کے چھ سو پر تھے جو افق کو بھر دیئے تھے۔ (ترمذی)۔
اور شیخین (امام بخاری و امام مسلم) نے کچھ اضافہ اور اختلاف کے ساتھ
روایت کی ہے ان دونوں کی روایت میں ہے حضرت مسروق کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
سے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے کیا معنی ہیں: ”ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى . فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ
اَوْ اَدْنٰى “ (53-سورۃ النجم، آیت نمبر:8/9) پھر وہ قریب ہوئے اور قریب ہوئے یہاں تک کہ
دو کمانوں کی مقدار یا بلکہ اس سے کم فاصلہ رہا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ جبرئیل علیہ السلام
ہیں 1 وہ حضور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مرد کی شکل میں آتے تھے اور اس مرتبہ وہ اپنی اس
صورت میں آئے ہیں جو ان کی حقیقی صورت ہے جس سے افق بھر گیا۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3278 (unverified) 94% confidence · Validation similarity: 0.851
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) His statement: “He proclaimed ‘Allahu Akbar’ so loudly that the mountains echoed.” The interpretation is that the proclamation was to magnify that station and inspire longing for that goal, but he did not respond directly. Ibn Abbas’s statement: “We are Banu Hashim,” means we deserve magnification, speech, and understanding. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “Then I recited: ‘He certainly saw some of the greatest signs of his Lord’.” It is clear that this verse is not suitable for proving the vision. Rather, the intent is that I recited the verses culminating in this one, including: “Then he approached and descended” (Al-Najm: 8), as in another narration. (As stated in Al-Lama’at)
Note 3
(3) Her statement: “That was Jibril.” Meaning not the Lord in this context. She then clarified to address the potential question: He always saw Jibril, so why specify this instance? She said: “Jibril used to come in the form of a man,” often resembling Dihya. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فكبر حتى جاوبته الجبال فالوجه أن يحمل التكبير على تعظيم ذلك المقام والتشوق إلى ذلك المرام لكنه لم يرد عليه جواب الكلام وقوله فقال ابن عباس إنا بنو هاشم أي فيجب تعظيمنا وتكليمنا وتفهيمنا. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله : ثم قرأت: لقد رأى من آيات ربه لا يخفى أن هذه الآية ليست مناسبة المقصوده في إثبات الرؤية، ولكن المراد قرأت الآيات التي هذه الآية خاتمتها، وهو قوله: ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى ﴾ (النجم :(۸) ، كما في الرواية الأخرى. كذا في اللمعات».
Note 3
(۳) قوله: ذاك جبريل : أي لا الرب سبحانه في هذا المقام، ثم استأذن لبيان دفع ما عسى أن يقال: إنه كان يرى جبريل ال دائما، فما وجه تخصيص ذكر رؤيته في هذا المقام ؟ فقالت: كان أي جبريل يأتيه في صورة الرجل أي متشكلا بشكله وغالبا بصورة دحية. كذا في «المرقاة».