اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7174
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں اللہ کے پاس خاتم النبیین لکھا ہوا تھا جب
کہ آدم (7) اپنے خمیر میں پڑے ہوئے تھے اور میں تم کو میری ابتداء بتاتا ہوں، میں ابراہیم کی دعا(8)
اور عیسیٰ کی بشارت اور میں وہ نظارہ ہوں جو میری والدہ نے میری پیدائش کے وقت دیکھا تھا کہ ان
کے لئے ایک ایسا نور چمکا جس کی وجہ سے ملک شام کے محلات ان کے لئے روشن ہوگئے تھے۔(شرح السنہ)۔
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: “while Adam was still lying in his clay,” from “jadal,” meaning being cast on solid ground, i.e., in a state of being fallen and cast down. His statement: “I will inform you of the beginning of my affair,” means the first appearance of my prophethood and my elevation in this world through the words of my father of the faith, Ibrahim (peace be upon him). His statement: “the supplication of Ibrahim” refers to his supplication when he built the Ka’bah, saying: “Our Lord, send among them a messenger from themselves,” and Allah answered his supplication. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “the vision of my mother when she gave birth to me, etc.”: At-Tibi and others said it could refer to a vision in a dream or in wakefulness. If the former, “gave birth” means she was near to giving birth. This is based on what Ibn al-Jawzi narrated in Kitab al-Wafa, that when her delivery approached, someone came to her and said: “Say: I seek refuge for him with the One from the evil of every envier.” When she was pregnant with him, someone came and said: “Do you know that you are pregnant with the master and prophet of this nation?” His statement: “a light emerged from her that illuminated the palaces of Sham” refers to the light representing the emergence of his prophethood between the East and the West, dispelling the darkness of disbelief and misguidance. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: وإن آدم لمنجدل من الجدل، وهو الإلقاء على الأرض الصلبة، أي والحال أنه لساقط وملقى. وقوله: سأخبركم بأول أمري أي بأول ما ظهر من نبوتي ورفعتي في الدنيا على لسان أبي الملة إبراهيم عليه. وقوله: «دعوة إبراهيم بالرفع أي هو دعوة إبراهيم حين بنى الكعبة، فقال: ربنا وابعث فيهم رسولا منهم، فاستجاب الله دعاءه. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: التي رأت إلخ قال الطيبي وغيره يحتمل أن يراد منها الرؤية في المنام وفي اليقظة، فعلى الأول معنى وضعت أي شارفت وقربت من الوضع، وذلك لما روى ابن الجوزي في كتاب الوفاء أن أمه رأت حين دنت ولادتها أتاها آت فقال: قولي أعيذه بالواحد من شر كل حاسد بعد إن رأت حين حملت به إن آتيا أتاها، وقال: هل شعرت إنك حملت بسيد هذه الأمة ونبيها. وقوله: قد خرج لها نور أضاء لها منه قصور الشام». وذلك النور عبارة عن ظهور نبوته ما بين المشرق والمغرب، واضمحل بها ظلمة الكفر والضلالة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(7) قوله: أن آدم لمنجدل. یہ لفظ جدل سے مشتق ہے، جدل کے معنی کسی چیز کو سخت زمین میں ڈال دینا، یعنی آپ ابھی اپنے خمیر میں ہی تھے۔ وقوله: ساخبركم بأول أمري. یعنی دنیا میں میری نبوت کے ظہور کی ابتداء اور ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے میری رفعت و سربلندی کا ذکر۔ وقوله: دعوة ابراهيم. دعوة کی ۃ کو پیش ہے اور اصل میں ”هو دعوة ابراهيم“ ہے یعنی آپ ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعا ہیں جو کعبہ کی تعمیر کے موقعہ پر آپ نے کی تھی، اور فرمایا تھا: ”رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ“(2-سورة البقرة، آیت:129) اے ہمارے پروردگار! تو ان میں ان ہی سے رسول مبعوث فرما اور اللہ نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا۔-(مرقات)۔ (8) قوله: التى رأت الخ. علامہ طیبی وغیرہ نے فرمایا: یہ نظارہ خواب میں اور بیداری میں دونوں وقت بھی دیکھا ہو دونوں کا احتمال ہے، خواب میں دیکھنے کی صورت میں یہ واقعہ وضع حمل کے قریب وقت میں ہوا ہو، جیسا کہ علامہ ابن جوزی نے کتاب الوفاء میں روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ نے جب ولادت کا وقت آ گیا (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) تو دیکھا کہ ایک آنے والا آیا اور کہا بولو اعيذه بالواحد من شر كل حاسد میں اس کو ہر حسد کرنے والے کے شر سے خدائے واحد کی پناہ میں دیتی ہوں۔(کتاب الوفاء)۔ وقوله: قد خرج لها نور اضاء لها منه قصور الشام ۔ اور اس نور سے مراد مشرق و مغرب کے درمیان نور نبوت کا ظہور ہے، جس سے کفر و ضلالت کی تاریکی مضمحل ہوگئی اور چھٹ گئی۔(مرقات)۔