English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “I was sent with comprehensive speech, aided with fear, and while I was sleeping, I saw that I was brought 1 the keys to the treasures of the earth, and they were placed in my hand.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٥٢٤ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمُ رَأَيْتُنِي أُتِيتُ1 بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7179
اور ان ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے
جوامع الکلم کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور میں سو رہا تھا کہ میں اپنے
کو دیکھا کہ میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں(20)، اور وہ میرے ہاتھ میں رکھ دی
گئیں۔ (متفق علیہ)۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “I was brought the keys to the treasures of the earth”: In An-Nihayah, it means what Allah, the Exalted, facilitated for him and his nation in conquering various lands and extracting diverse treasures. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: أتيت بمفاتيح خزائن الأرض في النهاية»: أراد ما سهل الله تعالى له ولأمته من افتتاح البلاد المتعددات واستخراج الكنوز المتنوعات، كذا في «المرقاة».
Note 1
(20) قوله: أتيت بمفاتيح خزائن الأرض . کتاب نہایہ میں ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے اور آپ کی امت کے لئے متعدد ملکوں کو فتح کرنا اور ہر قسم کے خزانے کا نکالنا آسان کر دیا ہے۔(مرقات)۔