Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5540

Chapter on the Virtues of the Master of the Messengers, Blessings and Peace of Allah be upon Him

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of the Master of the Messengers, Blessings and Peace of Allah be upon Him

Zujajat al-Masabih 5540Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7195
ان ہی سے روایت ہے آپ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جنت کے دروازے پر آؤں گا اور دروازہ کھولنے کے لئے کہوں گا تو خازن کہیں گے آپ کون ہیں تو میں کہوں گا میں محمد ہوں تو وہ عرض کرے گا آپ ہی کی خاطر مجھے حکم دیا گیا ہے (42) کہ آپ سے پہلے میں کسی کے لئے نہ کھولوں۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 197 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

I was commanded

(1) His statement: “I was commanded”: At-Tibi said: “By you” is connected to “I was commanded,” with the preposition indicating causality, meaning I was commanded because of you not to open it for anyone else. Alternatively, it could be related to the verb, with “not to open” as a substitute for the pronoun, meaning I was commanded not to open it for anyone other than you. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : بك أمرت إلخ : قال الطيبي : بك متعلق بـ «أمرت والباء للسببية قدمت للتخصيص، والمعنى بسببك أمرت أن لا أفتح لغيرك لا بشيء آخر، ويجوز أن يكون صلة للفعل وأن لا أفتح بدلا من الضمير المجرور، أي أمرت بأن لا أفتح لأحد غيرك. كذا في «المرقاة».

Note 1

(42) قولہ: بک امرت الخ: علامہ طیبی نے کہا ہے کہ ”بک“ جار مجرور امرت کے متعلق ہے اور ”ب“ سَبَبِیَّت کا ہے اور جار مجرور کو تخصیص کے لئے مقدم کیا گیا اور مطلب یہ ہے کہ آپ کے سبب سے مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں آپ کے سوا کسی کے لئے نہ کھولوں اور یہ صرف آپ کی خاطر ہے کسی اور غرض سے نہیں۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”ب “ فعل کا صلہ ہو، اور ان لا افتح بک کی ضمیر مجرور سے بدل ہو معنی یہ ہوں گے مجھے حکم ملا ہے کہ میں آپ کے سوا کسی کے لئے نہ کھولوں۔ (مرقات)۔