Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Purification

Hadith 555

Chapter on the rulings of water

In this book

Current reading

Purification

Chapter on the rulings of water

Zujajat al-Masabih 555Volume 1

English

Al-Sha’bi said: "The protected area of a well is forty cubits in all directions, and no one may enter its protected area or use its water." [Narrated by Abu Yusuf] Sadr al-Shari’ah said: "Thus, the well has its protected area, which is ten cubits on each side." From this, it is understood that if another person intends to dig a well within this protected area, he is prevented from doing so, because the water would be drawn toward the new well, reducing the water in the first well. If someone wishes to dig a drainage well within this area, he is also prevented, as impurity may seep into the first well and contaminate its water. However, digging beyond the protected area, which is ten by ten cubits, is not prohibited. It is thus understood that Islamic law considers ten by ten cubits as the minimum distance required to prevent the transmission of impurity. If impurity is likely to spread, it is ruled as prohibited.

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٥٥ - وَعَنِ الشَّعْبِيِّ : أَنَّهُ قَالَ: حَرِيمُ الْبِثْرِ أَرْبَعُوْنَ ذِرَاعًا مِنْ هَهُنَا وَهَهُنَا وَهَهُنَا وَهَهُنَا، لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ فِي حَرِيمِهِ وَلَا فِي مَائِهِ. رَوَاهُ أَبُو يُوْسُفَ وَقَالَ صَدْرُ الشَّرِيعَةِ: فَيَكُوْنُ لَهَا حَرِيمُهَا، مِنْ كُلِّ جَانِبِ عَشْرَةٌ. فَفُهِمَ مِنْ هَذَا أَنَّهُ إِذَا أَرَادَ آخَرُ أَنْ يَحْفِرَ فِي حَرِيمِهَا بِثْرًا يُمْنَعُ مِنْهُ؛ لِأَنَّهُ يَنْجَذِبُ الْمَاءُ إِلَيْهَا، وَيَنْقُصُ الْمَاءُ فِي الْبِثْرِ الْأَوْلَى، وَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَحْفِرَ بِثْرَ بَالُوْعَةِ يُمْنَعُ أَيْضًا؛ لِسِرَايَةِ النَّجَاسَةِ إِلَى الْبِئْرِ الْأَوْلَى وَتَنْجِيْسِ مَائِهَا، وَلَا يُمْنَعُ فِي مَا وَرَاءَ الْحَرِيمِ، وَهُوَ عَشْرُ فِي عَشْرٍ، فَعُلِمَ أَنَّ الشَّرْعَ اعْتَبَرَ الْعَشْرَ فِي الْعَشْرِ فِي عَدَمِ سِرَايَةِ النَّجَاسَةِ، حَتَّى لَوْ كَانَتْ النَّجَاسَةُ تَسْرِي يُحْكَمُ بِالْمَنْعِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 618
شعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ کنویں کی ہر چار طرف سے دس دس ہاتھ جملہ چالیس ہاتھ ہے کوئی شخص اس حد کے اندر دخل نہ دیوے اور نہ اس حد کے اندر دوسرا کنواں کھود کر اس کے پانی میں تصرف کرے۔ (اس کی روایت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

امام صدر الشریعۃ نے کہا ہے کہ کنویں کے ہر جانب سے دس دس ہاتھ کا احاطہ اسی کنویں کا ہے اور اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی دس ہاتھ کے اندر دوسرا کنواں کھدوانا چاہے تو اس کو روک دیا جائے گا، اس لئے کہ پہلے کنویں کا پانی دوسرے کی جانب کھنچ جائے گا اور پہلے کنویں کا پانی کم ہو جائے گا اور اگر کوئی اس حد کے اندر گڑھا کھدوائے جس میں غلیظ پانی جمع ہوتا ہو تو اس سے بھی روک دیا جائے گا اس لئے کہ پہلے کنویں میں اس کی نجاست سرایت کر جائے گی اور اس کا پانی ناپاک ہو جائے گا، البتہ کسی کو دہ در دہ احاطہ کے بعد سے کنواں کھدوانے سے منع نہیں کیا جائے گا، لہٰذا معلوم ہوا کہ شریعت نے ناپاکی کے سرایت نہ کرنے کے متعلق دہ در دہ کا اعتبار کیا ہے، ہاں اگر اس کے بعد بھی نجاست سرایت کر جاتی تو وہاں سے بھی روکا جاتا اور چونکہ ایسا نہیں ہوا ہے اس لئے ثابت ہو گیا کہ دہ در دہ کے بعد نجاست سرایت نہیں کرتی ہے۔ اس تمام تقریر کا نتیجہ یہ ہے کہ فقہاء کا وہ دہ در دہ پانی، ہی کو آب کثیر کی تعریف میں داخل کرنے کا ماخذ یہی حدیثیں ہیں اور وہ حضرات جنہوں نے قلتین مقدار والے پانی کو آب کثیر کے حکم میں داخل کیا ہے وہ حضرات۔ بئر بضاعۃ سے استدلال کرتے ہیں کہ بئر بضاعۃ مدینہ منورہ میں ایک کنواں تھا جس میں نجاست گرتی تھی اور اس کا پانی لوگ استعمال کرتے تھے تو اس سے ان حضرات نے ثابت کیا ہے کہ قلتین مقدار والا پانی نجاست کا متحمل ہوتا ہے اور آب کثیر کا حکم اس پر صادق آجاتا ہے۔ اس کے جواب میں احناف نے یہ وضاحت کی ہے کہ بئر بضاعۃ ایسا کنواں تھا جس کی تہہ میں ایک نہر تھی جس سے مدینہ منورہ کے باغوں کو زمین کے اندر سے ہمیشہ پانی بہا کرتا تھا جس کی وجہ سے نجاست رہنے نہیں پاتی تھی، بئر بضاعۃ بظاہر تو ایک کنواں تھا لیکن حقیقت میں اس نہر کی وجہ سے اس کا پانی نہر جاری کے حکم میں تھا۔