English
Jubair ibn Mut’im (may Allah be pleased with him) narrated: While he was traveling with the Messenger of Allah (ﷺ) on the return from Hunayn, the Bedouins crowded him, asking until they forced him against a thorny tree, which caught 1 his cloak. The Prophet (ﷺ) stopped and said: “Give me my cloak. If I had as many camels as these thorns, I would divide them among you, and you would not find me 2 stingy, deceitful, or cowardly.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٥٧٦ - وَعَنْ جُبَيْرِ بْن مُطْعِمٍ (رضي الله عنه) بَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ فَعَلِقَتْ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ، فَخَطِفَتْ1رِدَاءَهُ فَوَقَفَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: «أَعْطُونِي رِدَائِي، لَوْ كَانَ لِي عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاءِ نَعَمُ لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي2 بَخِيلًا وَلَا كَذُوبًا وَلَا جَبَانًا». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7243
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، اس درمیان کہ وہ
غزوۂ حنین سے واپسی کے موقع پر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، چند
بدوی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیرات مانگتے ہوئے لپٹ گئے، حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
ببول کے درخت کی طرف لے گئے، چادر مبارک درخت سے الجھ گئی (4)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر
گئے اور فرمایا مجھے میری چادر تو دے دو، اگر میرے پاس ان درختوں کی تعداد میں مویشی ہوتے تو بھی
میں تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا اور تم مجھے نہ بخیل پاتے (5)، نہ دروغ گو، نہ بزدل۔ (بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2821 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: “caught”: with a kasra on the ta, meaning the tree swiftly took his cloak as it got caught. The commentator said: It means it was taken. It is not unlikely that the pronoun refers to the Bedouins, as indicated by his statement: “He stopped and said, ‘Give me my cloak.’” (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “you would not find me stingy, etc.”: At-Tibi said: “Then” here indicates a delay in rank, meaning I am not compelled to give, but I give with generosity and enthusiasm, not deceitfully pushing you away or withholding, nor cowardly fearing anyone. This completes the previous statement. It shows the permissibility of describing oneself with praiseworthy qualities to those unaware, to gain their trust. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فخطفت بكسر الطاء، أي أخذت السمرة بسرعة رداءه حيث تعلقت به وقال شارح: أي سلبت انتهى. ولا يبعد أن يكون الضمير راجعا إلى الأعراب كما يدل عليه قوله : فوقف النبي ، فقال أعطوني ردائي. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: لا تجدوني بخيلا إلخ: قال الطيبي : «ثم هنا للتراخي في الرتبة، يعني أنا في ذلك العطاء لست بمضطر إليه، بل أعطيه مع أريحية نفس ووفور نشاط ولا بكذوب أدفعكم عن نفسي، ثم أمنعكم عنه ولا بجبان أخاف أحدا، فهو كالتتميم للكلام السابق. وفيه دليل على جواز تعريف نفسه بالأوصاف الحميدة لمن لا يعرفه ليعتمد عليه. كذا في «المرقاة».
Note 1
(4) قولہ: فخطفت (چادر مبارک درخت سے الجھ گئی) طاء کے زبر کے ساتھ یعنی خاردار درخت نے تیزی سے آپ کی چادر مبارک اچک لی جب دیہاتی آپ سے لپٹ گئے تھے، ایک شارح نے فرمایا خطفت بمعنی سلبت ہے، یعنی اس درخت نے چادر کو کھینچ لیا انتھیٰ ”اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خطفت کے ضمیر اعراب کی طرف لوٹے یعنی ان دیہاتیوں نے آپ کی چادر مبارک کو اچک لیا، جیسا کہ اس عبارت سے معلوم ہوتا فتوقف النبي صلى الله عليه وسلم فقال اعطوني ردائي. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے اور ان دیہاتیوں سے فرمایا میری چادر مجھے دے دو۔ (5) قولہ: لا تجدوني بخيلا (اور تم مجھے بخیل نہ پاتے) امام طیبی نے فرمایا: ثم یہاں ترتیب و تراخی کے لئے ہے یعنی میری اس عطا و بخشش میں تمہارے اصرار کی ضرورت نہیں ہے بلکہ میں پوری خوشدلی اور کامل نشاط کے ساتھ عطا کرتا ہوں اور غلط بیانی سے کام نہیں لیتا کہ تمہیں اپنے آپ سے دور کروں پھر عطا سے تمہیں محروم کر دوں، نہ میں بزدل ہوں کہ کسی سے ڈروں، گویا یہ جملہ سابقہ کلام کا تکملہ ہے۔ اس کلام سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ناواقف کو اپنے اوصاف حمیدہ سے متعارف کروانے کے لئے اپنی تعریف کرنا جائز ہے تا کہ وہ اس پر اعتماد کرے۔ (مرقات)۔