English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah’s (ﷺ) front tooth 1 was broken on the day of Uhud, and he was wounded in his head. He began wiping the blood from himself, saying: “How can a people prosper who wound their Prophet and break his front tooth?”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٢٠ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ1 يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ فِي رَأْسِهِ، فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ، وَيَقُولُ: كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُوا نَبِيَّهُمْ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7291
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کا دندان مبارک جنگ احد میں شہید کر دیا گیا اور آپ کے سر مبارک کو زخمی کر دیا گیا تو آپ اس سے
خون پونچھنے جاتے اور فرماتے وہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے سر کو زخمی کردیا اور ان
کے(36) دانت کو شہید کردیا۔(مسلم)۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “his front tooth”: with an open ra and light ta, on the pattern of “eighth,” referring to the tooth between the incisor and canine, and the broken front tooth was the lower one on the right side. His statement: “wiping”: with a damma on the lam, meaning removing. Az-Zuhri said: On the day of Uhud, the Messenger of Allah’s (ﷺ) face was struck with a sword seventy times, but Allah protected him from all their harm, as mentioned by As-Suyuti in his notes on Bukhari. Perhaps this reflects his sharing in the ordeal of the seventy martyrs, but Allah protected him, as He said: And Allah will protect you from the people [Al-Ma’idah: 67]. Some effects, like the wound and broken tooth, occurred to fulfill reward and merit. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: رباعيته بفتح الراء وتخفيف التحتية على وزن الثمانية السن الذي بين الثنية والناب، وكانت الرباعية المكسورة هي السفلى من الجانب الأيمن. وقوله: «يسلت» بضم للام، أي يزيل، وعن الزهري أنه ضرب وجه رسول الله يوم أحد بالسيف سبعين ضربة وقاه الله شرها كلها، ذكره السيوطي في حاشية البخاري. ولعل وجهه حصول المشاركة له مع السبعين من الشهداء إلا أن الله عصمه لقوله: ﴿ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ (المائدة: ٦٧)، وإنما حصل له بعض الأثر من الشج والكسر لتحقيق الثواب والأجر. كذا في «المرقاة».
Note 1
(36) قوله : رباعيته راء کو زبر کے ساتھ اور باء بغیر تشدید کے، یہ ثمانیہ کے وزن پر ہے، رباعیہ وہ دانت ہیں جو ثنیہ اور کوچلی کے درمیان ہوتے ہیں اور جو شہید کیا گیا وہ نیچے کے سیدھے جانب کا دانت ہے۔ ”قوله: يسلت“ لام کو پیش ہے، دور کرتے تھے، امام زہری سے روایت ہے کہ جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر تلوار کے ستر وار کئے گئے اللہ تعالیٰ ان سب کے شر سے آپ کی حفاظت فرمایا۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری کے حاشیہ میں اس کی وجہ تحریر فرمائی: ہو سکتا ہے اس کی وجہ جنگ احد کے ستر شہداء کے ساتھ آپ کے لئے شرکت ہو مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی اور آپ کو بچا لیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ“۔(5- سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:67) اللہ تعالیٰ لوگوں سے آپ کی حفاظت فرماتا ہے۔ اور یہ جو سر مبارک کے زخمی ہونے اور دندان مبارک شہید کئے جانے کا کچھ اثر ہوا وہ اجر و ثواب کے لئے ہوا ہے۔(مرقات)۔