Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

[كِتَابُ الْفَضَائِلِ]

Hadith 5622

بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ

In this book

Current reading

[كِتَابُ الْفَضَائِلِ]

بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ

Zujajat al-Masabih 5622Volume 5

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٦٢٢ - عَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً ، 1 فَقَالَ: هَذَا حَقٌّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءٍ 2 زَمْزَمَ ، ثُمَّ لَأَمَهُ 3 وَأَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي ظِتْرَهُ، فَقَالُوا : إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ. قَالَ أَنَسُ : فَكُنْتُ 4 أَرَى أَثَرَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمُ. قَالَ عَلِيٌّ الْقَارِي: قَوْلُهُ: «فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ. لَا يُنَافِيْهِ حُرْمَةُ اسْتِعْمَالِهِ فِي الشَّرِيعَةِ الْمُطَهَّرَةِ، إِمَّا لِكَوْنِ الْمَلَائِكَةِ غَيْرَ مُكَلَّفِينَ بِأَفْعَالِنَا أَوْ لِوُقُوْعِهِ قَبْلَ تَقْرِيرِ الْأَحْكَامِ.
Commentary and footnotes (10)

Note 1

a clot,

(1) His statement: “a clot,” with two short vowels, refers to thick blood, the source of corruption and sins in the heart. In essence, it is said that through this, his heart was purified and illuminated, preparing it to receive revelation, free from the whispers of the self, and cutting off Satan’s hope of misleading him, as indicated by the statement: “This is the share of Satan in you,” (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

with Zamzam water,

(2) His statement: “with Zamzam water,” is used as evidence that it is the most superior water in the world, even surpassing the water of Kawthar. However, the water that sprang from between his fingers is undoubtedly the most superior of all, as it is a direct result of his noble hand, while Zamzam water is from the trace of Ismail’s noble foot, and there is a clear distinction between them. The miracle associated with his noble hand is more profound. It may be said that the water from his blessed mouth surpasses all, even if mixed with other water, (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

mended it,

(3) His statement: “mended it,” with a lam and hamza, means he repaired the place that was split and returned the heart to its place, as indicated by a previous narration in the Jami‘. The absolute conjunction does not contradict the healing occurring after the restoration. His statement: “has been killed,” reflects their assumption that life after splitting the chest and treating it was extraordinary and a sign of prophethood. This hadith and similar ones require acceptance without resorting to metaphorical interpretations, as there is no need for such, since it is a truthful report confirmed by the power of the Almighty. His statement: “his color was pale,” as Al-Turbishti said, means his color changed due to grief or fear, (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

I could see the mark of the stitching on his chest,

(4) His statement: “I could see the mark of the stitching on his chest,” likely indicates that the splitting was physical, not metaphorical. There is disagreement on whether the splitting of the chest and its washing was unique to him or occurred to other prophets as well. It occurred to him multiple times: with Halima, during his encounter with Jibril in the cave of Hira, and during the Night Journey. His statement: “the stitching,” with a kasra on the mim, refers to the needle, (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: علقة بفتحتين، أي دما غليظا هو أم المفاسد والمعاصي في القلب، وزبدة ما قيل فيه: إنه صار بهذا مقدس القلب منوره يستعد لقبول الوحي، ولا يتطرق إليه هواجس النفس، ويقطع طمع الشيطان عن إغفاله كما يشير إليه قوله: هذا حظ اليشطان منك القتطته من «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: بماء زمزم: استدل به على أنه أفضل مياه العالم حتى ماء الكوثر، لكن الماء الذي نبع من بين أصابعه ، فلا شك أنه أفضل المياه على الإطلاق؛ لكونه من أثر يده الشريفة، وماء زمزم من أثر قدم إسماعيل المنيفة، وبون بين بينهما، ولأن الإعجاز الكائن في يده الشريفة له أبلغ . نعم، قد يقال: ماء فمه المبارك أكمل من الكل ولو مزج بماء غيره. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: لأمه بلام فهمز، أي أصلح موضع شقه وأعاده أي القلب المخرج على ما يدل عليه رواية الجامع السابقة في مكانه والواو المطلق الجمع، فلا ينافيه أن الالتئام بعد الإعادة. وقوله: «قد قتل» لأن تصور حياته بعد شق البطن ومعالجته من خوارق العادة وعلامة النبوة. وهذا الحديث وأمثاله مما يجب فيه التسليم، ولا يتعرض له بتأويل من طريق المجاز؛ إذ لا ضرورة في ذلك؛ إذ هو خبر صادق مصدوق عن قدرة القادر. وقوله: «منتقع اللون قال التوربشتي : يقال: انتقع لونه إذا تغير من حزن أو فزع. كذا في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله: فكنت أرى أثر المخيط في صدره ولعل مراده بهذا أن أمر الشق كان حسيا لا معنويا. واختلف هل كان شق الصدر وغسله مختصا به، أو وقع لغيره من الأنبياء أيضًا، وقد وقع الشق له مرارا، فعند حليمة، ثم عند مناجاة جبريل عليه السلام له بغار حراء، ثم في المعراج ليلة الإسراء. وقوله: المخيط بكسر الميم، أي الإبرة. كذا في «المرقاة».

Note 1

ملا علی قاری نے فرمایا: قوله فى طست من ذهب (سونے کے طشت میں غسل دیا گیا یہ عمل شریعت مطہرہ میں سونے کا استعمال حرام ہونے کے منافی نہیں ہے یا تو اس لئے کہ فرشتے ہمارے اعمال کے مکلّف نہیں ہیں یا اس لئے کہ یہ عمل احکام شریعت کے قرار پانے سے پہلے کا ہے۔

Note 2

(1) قوله: علقة. (خون کا ٹکڑا) ع اور ل کو زبر (فتحہ) ہے، جما ہوا خون اور یہ دل میں خرابیوں اور گناہوں کی جڑ ہوتا ہے، اور شق صدر کے عمل سے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس عمل کی وجہ سے آپ مقدس اور منور قلب والے ہوگئے اب وہ وحی الٰہی کو قبول کرنے کے لئے مستعد ہو گیا نفس کے خیالات اس کی طرف آ نہیں سکتے اور اس کو غفلت میں ڈالنے کی شیطان کی طمع اور کوشش کو ختم کر دیا گیا اور جبریل علیہ السلام کے ارشاد ”هذا حظ الشيطان منك یہ شیطان کا حصہ تھا“ اس میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ (2) قوله: بماء زمزم (زمزم کے پانی سے غسل دیا گیا) اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ زمزم کا پانی دنیا کے پانیوں میں سب سے افضل ہے حتی کہ کوثر کے پانی سے بھی افضل ہے لیکن وہ مبارک پانی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انگشتہائے مبارک سے پھوٹ نکلا ہے کوئی شک نہیں کہ وہ علی الاطلاق تمام پانیوں سے افضل ہے، کیونکہ وہ آپ کے دست مکرم کی برکت سے ہے اور زمزم کا پانی سیدنا اسمعیل علیہ السلام کے قدم مبارک کا اثر ہے۔ اور دونوں کے درمیان کھلا فرق ہے اور اس لئے آپ کے دست مبارک سے ظاہر ہونے والا اعجاز بہت بڑا ہے، اور ہاں! آپ کے دہان مبارک کا پانی اگرچہ کہ اس میں کسی دوسرے کا پانی بھی مل جائے تب بھی وہ ہر چیز سے زیادہ کمال والا ہے۔ (مرقات)۔ (3) قوله: لَأَمَه. (اسے ٹھیک کیا) لأم میں لام اور ہمزہ ہے یعنی چاک کردہ مقام کو ٹھیک کر دیا اور اعاده میں ضمیر منصوب کا مرجع قلب ہے جو دل نکالا گیا تھا اسے اس کی جگہ لوٹا دیا اور یہ بات صحیح بخاری کی سابق روایت سے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) معلوم ہوتی ہے اور واو اعادہ میں ”و“، مطلق جمع کے لئے ہے اب اس میں کوئی اشکال نہیں رہا، یعنی دل کو اسی جگہ لوٹا دینے کے بعد اس کو سی دیا گیا۔ قوله : قد قتل. (قتل کر دیئے گئے) کیونکہ پیٹ کے چیرنے اور اس کا کام کرنے کے بعد باحیات رہنا معجزات اور علامات نبوت میں سے ہے۔ (یہ حدیث شریف اور اس جیسی مثالوں کو تسلیم کر لینا ضروری ہے اور اس کے مجازی معنی لینے کی تاویل کے درپے نہیں ہونا چاہئے اور ایسی تاویل کی ضرورت اس لئے بھی نہیں ہے کیونکہ یہ صادق مصدوق رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کی دی ہوئی اطلاع ہے جو قادر مطلق کی قدرت سے متعلق ہے۔ وقوله : منتقع اللون (رنگ بدلا ہوا تھا) علامہ تورپشتی نے فرمایا انتقع لونه اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی غم یا فکر سے رنگ بدل جاتا ہے۔ (مرقات)۔ (4) قوله : فكنت أرى اثر المخيط فى صدره (میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں سینے کا نشان دیکھتا تھا) اس سے مراد یہ ہے کہ سینہ مبارک کا چاک کیا جانا محسوس طریقہ پر ہوا ہے یہ کوئی امر معنوی نہیں ہے۔ اور اب اس میں اختلاف ہے کہ سینہ مبارک کا چاک کیا جانا اور اس کو غسل دینا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی مختص تھا یا دوسرے انبیاء علیہم السلام کے لئے بھی واقعی ہوا ہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا شق صدر متعدد مرتبہ رونما ہوا ہے (1) حضرت دائی حلیمہ کے پاس (2) پھر خارج میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مناجات کے موقع پر (3) پھر معراج میں یعنی جس رات آپ کو معراج میں لے جایا گیا۔ وقوله : المخيط (سوئی کا نشان) میم کو زیر کے ساتھ مخیط سوئی کو کہتے ہیں۔ (مرقات)۔