العربية
Typed, pending editorial approval
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3886 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4710 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 171 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: and Allah revealed Bayt al-Maqdis for me: With tashdid or takhfif on lam, meaning uncovered the veil between until I saw it. Possible carried to him then returned, as in Ibn Abbas's hadith: The mosque was brought until placed at Aqil's house, while I looked at it. This is stronger for the purpose, no impossibility, as Bilqis's throne was brought to Sulayman, so uprooting, carrying, presenting Bayt al-Maqdis for the Beloved of the Merciful. (As stated in Al-Lama’at)
Note 2
(2) His statement: about its signs: Meaning marks of Bayt al-Maqdis. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فجلى الله لي بيت المقدس: بتشديد اللام وتخفيفها، وذلك بأن كشف الحجاب من البين حتى رآه. ويحتمل أنه حمل إليه ثم أعيد، فقد جاء في حديث ابن عباس : فجيء بالمسجد حتى وضع عند دار عقيل، وأنا أنظر إليه. وهذا أبلغ في المقصود ولا استحالة، فقد أحضر عرش بلقيس السليمان عليه السلام، فليقلع ويحمل ويحضر بيت المقدس لحبيب الرحمن . كذا في «اللمعات».
Note 2
(۲) قوله : عن آياته أي علامات بيت المقدس. كذا في «المرقاة».
Note 1
(58) قوله: فجلى الله لي بيت المقدس (اللہ تعالیٰ نے میرے لئے بیت المقدس کو ظاہر فرما دیا) لفظ جلی لام کو تشدید کے ساتھ اور بغیر تشدید کے بھی ہے۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ درمیان سے حجابات کو ہٹا دیا گیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ لیا اور اس کا بھی احتمال ہے کہ اس کو آپ کے پاس لایا گیا پھر اس کو اس کی جگہ واپس بھیج دیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث شریف میں ہے بیت المقدس کو لا کر حضرت عقیل کے گھر کے پاس اس کو رکھ دیا گیا اور میں اس کو دیکھتا گیا۔ اور یہ چیز حصول مقصد کے لئے یہ زیادہ مفید ہے اور (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اس میں کوئی محال لازم نہیں آتا، جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے بلقیس کا تخت کو حاضر کر دیا گیا تو سرور کائنات حبیب الرحمن صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بیت المقدس کو تو زمین سے اکھاڑ کر اور اٹھا کر حاضر کیا جانا تو بدرجہ اولیٰ چاہئے۔ (مرقات)۔ (59) قوله: عن آياته یعنی بیت المقدس کی علامتوں کو بیان کرنا شروع کیا۔ (لمعات)۔