Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

[كِتَابُ الْفَضَائِلِ]

Hadith 5681

بَابٌ فِي الْمُعْجِزَاتِ

In this book

Current reading

[كِتَابُ الْفَضَائِلِ]

بَابٌ فِي الْمُعْجِزَاتِ

Zujajat al-Masabih 5681Volume 5

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٦٨١ - وَعَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَأَلْتُ مَسْرُوْقًا مَنْ آذَنَ1 النَّبِيَّ ﷺ بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُوكَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: آذَنَتْ بِهِمْ شَجَرَةٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَعَن ابْنِ عَبَّاسِ(رضي الله عنهما) قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: بِمَا أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيُّ؟ قَالَ: «إِنْ دَعَوتُ هَذَا العِذْقَ2 مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ حَتَّى يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ». فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِن النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ إِلَى النَّبِي . ثُمَّ قَالَ: «ارْجِعْ»، فَعَادَ، فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ. رَوَاهُ التَّرْمِنِّي وَصَحَّحَهُ. وَعَنْ أَبِي مُوسَى الله قَالَ: خَرَجَ أَبُو طَالِبٍ إِلَى الشَّامِ وَخَرَجَ مَعَهُ النَّبِيُّ ﷺ فِي أَشْيَارٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَشْرَفُوا عَلَى الرَّاهِبِ 3 هَبَطُوا فَحَلُّوا رِحَالَهُمْ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الرَّاهِبُ. وَكَانُوا قَبْلَ ذَالِكَ يَمُرُّونَ بِهِ فَلَا يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ. قَالَ: فَهُمْ يَحُلُّوْنَ رِحَالَهُمْ فَجَعَلَ يَتَخَلُّلُهُمُ الرَّاهِبُ حَتَّى جَاءَ فَأَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: هَذَا سَيِّدُ الْعَالَمِينَ، هَذَا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَبْعَثُهُ اللهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ. فَقَالَ لَهُ أَشْيَاخُ مِنْ قُرَيْشٍ مَا عِلْمُكَ؟ فَقَالَ: إِنَّكُمْ حِينَ أَشْرَفْتُمْ مِنَ الْعَقَبَةِ لَمْ يَبْقَ شَجَرُ وَلَا حَجَرُ إِلَّا خَرَّ سَاجِدًا، وَلَا يَسْجُدَانِ إِلَّا لِنَبِيِّ، وَإِنِّي أَعْرِفُهُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ أَسْفَلَ مِنْ غُضْرُوفِ كَتِفِهِ مِثْلَ التَّفَاحَةِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا، فَلَمَّا أَتَاهُمْ بِهِ وَكَانَ هُوَ فِي رِعْيَةِ الْإِبِلِ، قَالَ: أَرْسِلُوا إِلَيْهِ، فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ غَمَامَةٌ تُظِلُّهُ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْقَوْمِ وَجَدَهُمْ قَدْ سَبَقُوهُ إِلَى فَيْءِ شَجَرَةٍ، فَلَمَّا جَلَسَ مَالَ فَيْءُ الشَّجَرَةِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: انْظُرُوا إِلَى فَيْءِ الشَّجَرَةِ مَالَ عَلَيْهِ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَيُّكُمْ وَلِيُّهُ؟ قَالُوا: أَبُو طَالِبٍ، فَلَمْ يَزَلْ يُنَاشِدُهُ حَتَّى رَدَّهُ أَبُو طَالِبٍ، وَبَعَثَ مَعَهُ أَبُو بَكْرِ بِلَالًا، وَزَوَّدَهُ الرَّاهِبُ مِنَ الْكَعْكِ وَالزَّيْتِ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ. وَقَالَ الْجَزَرِيُّ : إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ أَوْ أَحَدِهِمَا، وَذِكْرُ أَبِي بَكْرٍ وَبِلَالٍ فِيْهِ غَيْرُ مَحْفَوْظُ، وَعَدَّهُ أَئِمَّتُنَا، وَهُمَا وَهُوَ كَذَلِكَ؛ فَإِنَّ سَنَّ النَّبِيُّ ﷺ إِذْ ذَاكَ اثْنَتَا عَشْرَةَ سَنَةً، وَأَبُو بَكْرٍ أَصْغَرُ مِنْهُ بِسَنَتَيْنِ، وَبِلَالُ لَعَلَّهُ لَمْ يَكُنْ وَلَدٌ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ انْتَهَى. فَيَحْتَمِلُ أَنَّهَا مُدْرَجَةً فِيْهِ مُنْقَطِعَةٌ مِنْ حَدِيثٍ آخَرَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3628 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3859 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 450b (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (10)

Note 1

permitted.

(1) His statement: who permitted: Meaning who informed the Prophet (ﷺ) of the jinn, i.e., their presence. His statement: the Prophet: Object of “permitted.” His statement: permitted: With mad, meaning informed. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

the cluster

(2) His statement: the cluster: With kasra on ‘ayn, the bunch with its spikes, like a grape cluster. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

By Allah, return Muhammad to Makkah and protect him from the enemy

(3) His statement: the monk: His name was Buhayra, a Christian ascetic, the most knowledgeable of Christianity. His statement: Allah will send him as a mercy to the worlds: Hinting he was sent to all creation. His statement: the tree’s shade leaned over him: Additional to the cloud’s shade, or the cloud moved and the tree leaned to show the extraordinary. His statement: he kept adjuring him: Meaning the monk adjured Abu Talib, demanding his return, fearing the Romans would kill him in Sham, saying to Abu Talib: “By Allah, return Muhammad to Makkah and protect him from the enemy” until Abu Talib returned him to Makkah, may Allah honor it. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: من آذن بالمد أي من أعلم النبي بالجن أي بحضورهم. وقوله: «النبي» مفعول لـ«آذن». وقوله: آذنت» بالمد، أي أعلمت. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: العذق بكسر العين، وهو العرجون بما فيه من الشماريخ، وهي بمنزلة العنقود من العنب. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: على الراهب اسمه بحيراء وهو زاهد النصارى، وكان أعلم بالنصرانية. وقوله: يبعثه الله رحمة للعالمين فيه إيماء إلى أنه مبعوث إلى كافة الخلق أجمعين. وقوله: مال في الشجرة عليه أي زيادة على ظل السحابة، أو زالت السحابة ومالت الشجرة إظهارا للخارقين. وقوله: فلم يزل أي الراهب يناشده، أي يناشد أبا طالب، ويطالب رده خوفا عليه من أهل الروم أن يقتلوه في الشام، ويقول لأبي طالب : بالله عليك أن ترد محمد إلى مكة، وتحفظه من العدو، حتى رده أبو طالب، أي إلى مكة شرفها الله. التقطته من المرقاة».

Note 1

(92) و قوله: من آذن۔ مد کے ساتھ ہے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنات کے حاضر ہونے کی کسی نے اطلاع دی۔ و قوله: النبی۔ یہ آذن کا مفعول ہے۔ و قوله: آذنت مد کے ساتھ یعنی اس (درخت) نے بتایا۔ (مرقات)۔

Note 2

(93) قوله: العذق. عین کو زیر (کسرہ) ہے، اور اس کے معنی ہیں ایسی ڈالی جس میں شماریخ ہوتے ہیں اور یہ ایسا ہی ہے جیسے انگور کے خوشے ہوتے ہیں۔ (مرقات)۔

Note 3

امام جزری نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی صحیحین کے راوی ہیں یا ان دونوں میں سے ایک کے راوی ہیں، اور اس میں حضرت ابوبکر اور حضرت بلال کا ذکر صحیح نہیں ہے اور، ہمارے ائمہ نے اس کو وہم قرار دیا ہے اور یہ بات درست ہے کیونکہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شریف (12) بارہ سال تھی جبکہ حضرت ابوبکر آپ سے دو سال چھوٹے ہیں اور حضرت بلال تو شاید اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ ہو سکتا ہے اتنی عبارت کسی دوسری حدیث سے اس میں داخل کر دی گئی ہو۔

Note 4

(94) قوله: على الراهب. راہب کا نام بحیرا ہے اور یہ نصاری کے زاہد یعنی راہب ہیں اور نصرانیت کے بڑے عالم تھے۔ وقوله: يبعثه الله رحمة للعالمين. اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ساری مخلوق کی طرف بھیجے جائیں گے۔ وقوله: مال فيء الشجرة عليه. یعنی ابر کے سایہ کے علاوہ مزید سایہ کیا یا ابر کا سایہ ہٹ گیا اور درخت آپ پر جھک گئے دو معجزے ظاہر کرنے کے لئے۔ وقوله: فلم يزل. یعنی راہب مسلسل ابوطالب سے درخواست کرتا رہا کہ آپ ان کو واپس بھیج دیں ورنہ اہل روم سے خدشہ ہے کہ آپ کو ملک شام میں قتل کر دیں اور مسلسل ابوطالب سے کہتے رہے اللہ کی قسم آپ پر لازم ہے کہ محمد (عربی) صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ واپس بھیج دیں اور دشمن سے ان کی حفاظت کریں یہاں تک کہ ابوطالب نے آپ کو مکہ مکرمہ - زادها الله شرفا - واپس کر دیا۔ (ماخوذ از: مرقات)۔