Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5718

Chapter on Karamat

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on Karamat

Zujajat al-Masabih 5718Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7400
حضرت ابوالجوزاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا: اہل مدینہ پر سخت قحط آ گیا اور لوگ حضرت عائشہ کے پاس اس کی شکایت لے کر گئے تو آپ فرمائیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کو دیکھو اور اس کے مقابل آسمان کی طرف ایک روزن (روشن دان) بنا دو(18) یہاں تک کہ آپ کے اور آسمان کے درمیان چھت نہ رہے وہ ایسا ہی کئے تو ان پر خوب بارش برسی (19) حتیٰ کہ ہریالی اُگ گئی اور اونٹ موٹے ہوگئے یہاں تک کہ چربی سے ان کے جسم پھٹ گئے اور اس سال کا نام عام الفتق رکھا گیا۔ (دارمی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5950 (unverified) 92% confidence · Validation similarity: 0.920
  • Candidate: Sunan al-Darimi 92 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5951 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 5951

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

the days of al-Harrah

(1) His statement “the days of al-Harrah”: with fathah and tashdid. At-Tibi said: It is a famous day in Islam during Yazid ibn Muawiyah’s time, when a Syrian army plundered Madinah, sent to fight the companions and followers there, led by Muslim ibn Uqbah al-Murri in Dhu al-Hijjah, 63 AH. Yazid died shortly after. Al-Harrah is land outside Madinah with many black stones, where this battle occurred. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

three

(2) His statement “three”: meaning three nights with their days. His statement “did not leave”: with fathah on ra, meaning did not depart. The people said he was a mad sheikh. The author said: He was the leader of the Successors, combining jurisprudence, Hadith, asceticism, piety, and worship. His statement “murmuring sound”: a faint sound not understood. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله كوى بفتح الكاف ويضم، ففي المغرب

(۱) قوله كوى بفتح الكاف ويضم، ففي المغرب: الكوة: نقب البيت، والجمع كوى». وقد يضم الكاف في المفرد والجمع. والمعنى: اجعلوا من مقابلة قبره في سقف حجرته منافذ متعددة. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: فمطرنا : وقد قيل في سبب كشف قبر النبي : إن السماء لما رأت قبر النبي ﷺ سال الوادي من بكاءها. قال تعالى: ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ (الدخان: (۲۹) حكاية عن حال الكفار، فيكون أمرها على خلاف ذلك بالنسبة إلى الأبرار. وقيل: إنه كان يستشفع به عند الجدب فتمطر السماء فأمرت عائشة بكشف قبره مبالغة في الاستشفاع به، فلا يبقى بينه وبين السماء حجاب. كذا في «المرقاة».

Note 1

(18) قوله: كوى. کاف کو زبر (فتح) ہے، اور پیش ”کُویٰ“ سے بھی پڑھا جاتا ہے۔ مُعرب میں ہے: ’الكوة‘، گھر (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) کا سوراخ اس کی جمع کوی ہے اور کبھی واحد وجمع دونوں میں کاف کو پیش سے بھی پڑھا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کے مقابل چھت میں متعدد روزن بنادو۔ (مرقات)۔ (19) قولہ : فمطروا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کے اوپر کھول دینے کی حکمت سے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ جب آسمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کو دیکھا تو رونے لگا اور اس کے رونے سے وادی بہنے لگ گئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ“۔ (44۔ سورۃ الدخان، آیت نمبر:29)۔ ان پر آسمان وزمین میں کوئی نہیں روئے یہ کفار کی حالت کا بیان ہے جو نیک لوگوں کی حالت کے برخلاف ہے۔ نیز یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قحط سالی کے زمانہ میں وسیلہ لیا جاتا تھا اور آسمان بارش برساتا تھا۔ اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کی قبر شریف کو کھولنے کا حکم فرمایا تاکہ وسیلہ میں مبالغہ ہو، آپ کے اور آسمان کے درمیان کوئی حجاب نہ رہے۔ (لمعات)۔