اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7425
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کی تدفین سے متعلق صحابہ نے اختلاف(41) کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے
فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی، آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی نبی کی
روح قبض نہیں کرتا مگر اُس مقام پر جہاں اُن کے دفن کئے جانے کو پسند فرماتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے بستر مبارک کے مقام پر تدفین عمل میں لاؤ۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1018 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “they differed about his burial”: meaning about the place of burial. Some said: In his mosque. Others said: In Al-Baqi with his companions. Others said: In Makkah. Others said: With his father Ibrahim (peace be upon him). Or about the burial itself, meaning whether to bury him. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: اختلفوا في دفنه أي في موضع يدفن فيه، فقيل : يدفن في مسجده. وقيل: بالبقيع بين أصحابه. وقيل: بمكة. وقيل: عند أبيه إبراهيم عليه السلام أو في نفس الدفن، والمعنى هل يدفن. كذا في «المرقاة».
Note 1
(41) قوله اختلفوا في دفنه (آپ کی تدفین سے متعلق اختلاف کیا) یعنی اس جگہ سے متعلق اختلاف کیا جہاں آپ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) کی تدفین عمل میں لائی جائے تو کہا گیا: آپ کی مسجد میں تدفین کی جائے، کہا گیا: بقیع میں آپ کے صحابہ کے درمیان، کہا گیا: مکہ مکرمہ میں، اور کہا گیا: آپ کے جد امجد ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس، یا تدفین میں ہی اختلاف ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کی جائے؟ (یعنی تدفین ہی نہ کی جائے)(مرقات)