Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5739

Chapter

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter

Zujajat al-Masabih 5739Volume 5

English

Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) left neither dinar nor dirham, nor sheep nor camel, nor did he bequeath 1 anything.

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٧٣٩ - عَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها)قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ ﷺ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصَى1 بِشَيْءٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7427
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دینار چھوڑا نہ درہم، نہ بکری نہ اونٹ اور نہ کسی چیز کی وصیت (1) فرمائی۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1635a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

nor did he bequeath anything

(1) His statement “nor did he bequeath anything”: An-Nawawi said: In another narration, it was mentioned in Aishah’s presence that Ali (may Allah be pleased with him) was the executor, and she said: “When did he bequeath to him? I was supporting him until he passed away, so when did he bequeath?” The meaning of “nor did he bequeath anything” is that he did not bequeath a third of his wealth or anything else, as he had no wealth. Nor did he bequeath to Ali or anyone else, contrary to what the Shi‘ah claim. As for the authentic Hadiths about his bequest regarding the Book of Allah, his household, expelling the Jews from the Arabian Peninsula, and allowing delegations, these are not meant by her statement “nor did he bequeath.” As for the land he had in Khaybar and Fadak, he designated it as charity for the Muslims during his lifetime. Regarding what some biographers mentioned—that the Messenger of Allah (ﷺ) had many camels, twenty she-camels kept around Madinah whose milk was brought nightly, seven sheep whose milk was consumed, and seven goats whose milk was consumed—this does not contradict this authentic Hadith. If true, it can be understood that these were from the charity camels, and his poor companions, like those of the Suffah and others, drank their milk. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : ولا أوصى بشيء: قال النووي: وفي رواية أخرى ذكروا عند عائشة لها أن عليا لله كان وصيا، فقالت: متى أوصى إليه. وقد كنت مسندته حتى مات، فمتى أوصى، ومعنى ولا أوصى بشيء أي لا أوصى بثلث ماله ولا غيره؛ إذ لم يكن له مال، ولا أوصى إلى علي، ولا إلى غيره خلاف ما يزعمه الشيعة. وأما الأحاديث الصحيحة في وصيته بكتاب الله ووصيته لأهل البيت وإخراج اليهود من جزيرة العرب، وإجازة الوفد، فليست مرادة بقولها: «ولا أوصى»، وأما الأرض التي كانت له الله بخيبر وفدك، فقد سبلها الله في حياته وجعلها صدقة للمسلمين. وأما ما حكى بعض أهل السير من أن رسول الله الله كان له إبل كثير، وكان له عشرون ناقة يحفظونها في نواحي المدينة، ويأتون بألبانها في كل ليلة، وكان له سبع شياه يشربون ألبانها، وكان له سبع معز يشربون من ألبانها، فلا يصلحالمعارضة هذا الحديث الصحيح، ولو صح الحمل على أنها كانت من إبل الصدقة، وكان أصحابه الفقراء من أهل الصفة وغيرهم يشربون من ألبانها. التقطته من «المرقاة».

Note 1

(1) قوله: ولا اوصى بشيء (اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی) امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: دوسری روایت میں یہ مذکور ہے: لوگوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ذکر کیا کہ علی رضی اللہ عنہ وصی تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کب وصیت فرمائی جبکہ آپ مجھے ٹیک لگائے ہوئے تھے یہاں تک آپ نے وصال فرمایا آپ نے وصیت کب فرمائی۔ ”ولا اوصى بشيء“ (اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی) کا معنی یہ ہے کہ آپ نے اپنے مال کے نہ تہائی حصہ کی وصیت فرمائی اور نہ کسی اور چیز کی کیونکہ آپ کا کوئی مال نہیں تھا اور آپ نے نہ علی رضی اللہ عنہ کے لئے کوئی وصیت فرمائی نہ کسی اور کو، اس دعویٰ کے برخلاف جو شیعہ کرتے ہیں، اب رہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت سے متعلق وہ احادیث صحیحہ جو اللہ کی کتاب سے متعلق ہیں اور اہل بیت کے حق میں ہیں یہود کو جزیرۂ عرب سے نکالنے اور وفود کا اکرام کرنے کے بارے میں ہیں تو عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے ” کہ آپ نے وصیت نہیں فرمائی“ ان وصیتوں کی نفی مراد نہیں اور خیبر اور فدک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو زمین تھی اُسے آپ نے اپنی ظاہری حیات مبارکہ میں وقف کردیا تھا اور اُسے مسلمانوں کے لئے صدقہ قرار دیا تھا اھ۔ اب رہا جو بعض سیرت نگاروں نے حکایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے اونٹ تھے، بیس اونٹنیاں تھیں، لوگ مدینہ طیبہ کے گرد ونواح میں جس کی نگہداشت کرتے تھے اور ہر رات اس کا دودھ لے آتے تھے اور آپ کی سات بھیڑیں تھیں لوگ اس کا دودھ پیتے تھے اور سات بکریاں تھیں اُس کا بھی دودھ پیتے تھے یہ روایت اس صحیح حدیث کے خلاف نہیں آسکتی اور اگر یہ روایت صحت کے درجہ میں ہو تو ضرور اُسے اس معنی پر محمول کیا جائے گا کہ وہ صدقہ کے جانوروں میں شامل تھے، اہل صفہ اور دیگر تنگدست صحابہ کرام علیہم الرضوان اُن کا دودھ پیتے تھے۔ (ماخوذ از مرقات)