Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5741

Chapter

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter

Zujajat al-Masabih 5741Volume 5

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “My heirs will not divide 1 a dinar. Whatever I leave after the maintenance 3 of my wives and the expenses of my agent is charity.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٧٤١ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه)أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «لَا يَقْتَسِمُ1 وَرَثَتِي2 دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ3 نِسَائِي وَمَثُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7429
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے ورثہ باہم کوئی دینار (5) تقسیم نہیں کریں (6) گے، میں نے اپنی ازواج مطہرات کے (7) نفقہ اور اپنے عامل کی تنخواہ کے بعد جو چھوڑا وہ صدقہ ہے۔ (بخاری، مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2776 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1759 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (7)

Note 1

My heirs will not divide a dinar

(1) His statement “My heirs will not divide a dinar”: with the verb in the feminine and nominative, indicating a factual statement. It means: My heirs will not divide a dinar after my passing, as I will not leave a dinar I possess for them to divide. It may also be a statement in form but a prohibition in meaning, which is more emphatic than an explicit prohibition. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

My heirs

(2) His statement “My heirs”: meaning potential heirs, as there is no division, so there are no heirs. Ibn Hajar said: Meaning those who would qualify as my heirs if possible. Mirak said: They were so potentially at the time, but were prevented from inheritance by the legal evidence, which is his statement: “We do not leave inheritance.” Then he explained the reason, stating: “Whatever I leave,” where “whatever” is the subject, “I leave” is its relative clause, and the omitted pronoun refers to what is left. “After the maintenance of my wives and the expenses of my agent, it is charity,” with the fa indicating the subject implies a condition. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

after the maintenance of my wives and the expenses of my agent, it is charity

(3) His statement “after the maintenance of my wives and the expenses of my agent, it is charity”: In Sharh as-Sunnah, Sufyan ibn Uyaynah said: The Prophet’s wives were in the status of those in waiting, as they could never remarry, so maintenance was due to them. “My agent” refers to the caliph after him. The Prophet (ﷺ) took his family’s maintenance from the spoils allocated to him from Banu Nadir and Fadak, spending the rest on the Muslims’ welfare. Abu Bakr, then Umar, managed it similarly. A commentator from our scholars said: “After the maintenance of my wives,” because their maintenance after him depended on each wife’s lifetime, as they were restricted from remarriage for Allah and His Messenger, and the Prophet’s marriage bond remained effective during their lives, so maintenance was obligatory from the spoils’ wealth, like a wife’s maintenance from her husband. The point is that “maintenance of my wives” does not mean their inheritance, but because they were restricted from marriage due to him, they were like those in waiting as long as they lived. It is said: They had no waiting period, as he is alive in his grave, as are all prophets. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : لا تقتسم ورثتي دينارا بتأنيث الفعل ورفعه، فهو إخبار حقيقة، ومعناه ليس تقتسم ورثتي بعد موتي دينارا؛ إذ لست أخلف بعد موتي دينارا أملكه فيتقسمون ذلك. ويحتمل أن يكون إخبارا في الصورة ونهيا في المعنى، فهو أبلغ من النهي الصريح. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله : ورثتي : أي بالقوة وإلا فحيث لا قسمة فلا ورثة. قال ابن حجر : أي من يصلح ورثتي لو أمكنت. وقال ميرك هم وقته باعتبار أنهم كذلك بالقوة لكن منعوا من الميراث بالدليل الشرعي وهو وقوله: «لا نورث». ثم بين سببه وعلته مستأنفا: ما تركت ما موصولة مبتدأ وتركت صلته والعائد محذوف أي الذي تركته. بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة والفاء لتضمين المبتدأ معنى الشر. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة وفي شرح السنة: قال سفيان بن عيينة: كان أزواج النبي و في معنى المعتدات؛ إذ كن لا يجوز لهن أن ينكحن أبدا، فجرت لهن النفقة. وقوله: ومؤنة عاملي» أراد بالعامل الخليفة بعده، وكان النبي له يأخذ نفقة أهله من الصفايا التي كانت له من أموال بني النضير وفدك، ويصرف الباقي في مصالح المسلمين، ثم وليها أبو بكر ثم عمر كذلك. وقال شارح من علمائنا قوله: «بعد نفقة نسائي؛ لأن نفقة نسائه بعده كانت تتعلق بحياة كل واحدة منهن؛ لكونهن محبوسات عن النكاح في الله وفي رسوله وبقي حكم نكاح النبي باقيا مدة بقائهن، فوجب لهن النفقة من مال الفيء وجوب نفقة النساء على أزوجهن. والحاصل أنه ليس معنى نفقة نسائه إرثهن منه، بل لكونهن محبوسات وممنوعات عن الأزواج بسببه، فهن في حكم المعتدات ما دامت حياتهن، وقيل: لا عدة عليهن؛ لأنه لة حي في قبره، وكذلك سائر الأنبياء. كذا في «المرقاة».

Note 1

(5) قوله: لا تقتسم ورثتي دينارا (میرے ورثہ باہم کوئی دینار تقسیم نہیں کریں گے) فعل مؤنث کا صیغہ ہے اور پیش کے ساتھ ہے تو وہ حقیقی طور پر خبر ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ میرے ورثہ میرے وصال کے بعد کوئی دینار ایک دوسرے کے درمیان نہیں بانٹیں گے کیونکہ میں اپنے وصال کے بعد میری ملکیت میں کوئی دینار نہیں چھوڑوں گا کہ وہ اُسے تقسیم کر سکیں۔ اس بات کا احتمال ہے کہ یہ جملہ لفظ کے اعتبار سے خبر ہے اور معنی کے اعتبار سے نہی ہے تو یہ واضح نہی سے زیادہ بلیغ ہے۔ (مرقات) (6) قوله: ورثتي (میرے ورثہ) یعنی جو لوگ میرے ورثہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ورنہ یہاں نہ کوئی تقسیم ہے اور نہ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) ورثہ ہیں، علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا: یعنی جو لوگ میرے ورثہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اگر تقسیم ممکن ہو، علامہ میرک رحمہ اللہ علیہ نے کہا: وہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثہ اس اعتبار سے ہیں کہ وہ اس کے لائق ہیں لیکن شرعی دلیل کی وجہ وراثت سے روک دئے گئے، اور وہ دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ہم وارث نہیں بناتے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے از سر نو جملہ شروع کرتے ہوئے اس کا سبب اور اس کی علت بیان فرمائی: ”ما تركت“ (میں نے جو چھوڑا) ”ما“، موصولہ مبتدا ہے ”تركت“ اس کا صلہ ہے اور اسم موصول کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے یعنی ”الذى تركته“ جس کو میں نے چھوڑا، بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة (اپنی ازواج مطہرات کے نفقہ اور اپنے عامل کی تنخواہ کے علاوہ صدقہ ہے) ”فهو صدقة“ میں فا مبتدا میں شرط کے معنی کو شامل ہونے کی وجہ سے ہے۔ (مرقات) (7) قوله: بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة (اپنی ازواج مطہرات کے نفقہ اور اپنے عامل کی تنخواہ کے بعد صدقہ ہے) شرح سنہ میں مذکور ہے: سفیان بن عیینہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات عدت گزارنے والی خواتین کے حکم میں ہیں کیونکہ ان کے لئے نکاح کرنا، کبھی جائز نہیں اسلئے ان کے حق میں نفقہ جاری ہوا، ومؤنة عاملي (میرے عامل کی تنخواہ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل سے اپنا خلیفہ مراد لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کا نفقہ اس خالص مال سے لیتے جو بنی نضیر اور فدک کے اموال سے آپ کو حاصل ہوا اور باقی مال مسلمانوں کے مصالح میں خرچ کیا جاتا پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اُس کے ذمہ دار ہوئے پھر اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ ذمہ دار ہوئے، ہمارے علماء میں ایک شارح نے کہا: ”میری ازواج مطہرات کے نفقہ کے بعد“ اس لئے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کی ازواج مطہرات کا نفقہ اُن میں سے ہر ایک کی حیات ظاہری سے تعلق رکھتا ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نکاح سے گریز کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کا حکم اُن کی بقاء کی مدت تک باقی ہے، لہذا اُن کے لئے مال فئی سے نفقہ واجب ہے جس طرح بیویوں کا نفقہ شوہروں کے ذمہ واجب ہوتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات کے نفقہ کا معنی اُن کا آپ سے وارث ہونا نہیں ہے بلکہ آپ سے ان کا نکاح ختم نہ ہونے کی وجہ سے ہے، اس لئے وہ سب عدت گزارنے والی خواتین کے حکم میں ہیں جب تک اُن کی ظاہری زندگی ہو۔ کہا گیا ہے کہ ازواج مطہرات کے ذمہ کوئی عدت نہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روضہ اطہر میں حیات ہیں، اسی طرح تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شان ہے۔ (مرقات)