English
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: “When Allah intends mercy for a nation among His servants, He takes their prophet before them, making him a forerunner 1 ahead of them. When He intends the destruction of a nation, He punishes it while their prophet is alive, destroying it as he watches, soothing his eyes with their destruction when they deny him and disobey his command.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٧٤٣ - وَعَنْ أَبِي مُوسَى (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةً أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا ، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا 1 بَيْنَ يَدَيْهَا ، وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةً أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيُّ، فَأَهْلَكَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ، فَأَقَرَّ عَيْنَيْهِ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ وَعَصَوْا أَمْرَهُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7431
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم سے روایت کرتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں میں ایک امت پر رحمت کا ارادہ
فرماتا ہے تو امت سے پہلے اس کے نبی کی روح قبض کر لیتا ہے پھر اُنہیں امت سے پہلے سفارش
کرنے والے اور آگے (10) جانے والے بناتا ہے اور جب کسی قوم کی ہلاکت کا ارادہ فرماتا ہے تو اُسے
عذاب دیتا ہے جبکہ اُس کے نبی حیات ہوں تو اُس قوم کو ہلاک کرتا ہے جبکہ نبی دیکھتے ہیں اور اس کی
ہلاکت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے ہیں جبکہ اُس قوم نے اُنہیں جھٹلایا اور اُن کے حکم کی نافرمانی کی۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2288 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “a forerunner”: with two fathahs, explained by the second term, meaning a predecessor, pioneer, and intercessor ahead of them, i.e., before them, when he passes away pleased with them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: وسلفا بفتحتين فيهما، والثاني تفسير لأولهما، أي سابقا ومقدما وشفيعا بين يديها، أي قدامها حين مات راضيا عنها. كذا في «المرقاة».
Note 1
(10) قولہ: و سلفا (اور آگے جانے والے) فَرَط اور سَلَف دونوں میں دونوں حروف کو زبر ہے، دوسرا لفظ پہلے لفظ کی تفسیر ہے یعنی کام بنانے کے لئے آگے رہنے والے اور سفارش کرنے والے بناتا ہے۔ ”بين يديها“ (اس سے پہلے) یعنی اس کے آگے جب وہ نبی امت سے راضی ہو کر وصال فرمائیں۔ (مرقات)