العربية
Typed, pending editorial approval
٥٧٧٥ - وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ1 أَبِيْهِ (رضي الله عنه) قَالَ: رَفَعَ - يَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ - رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: «النُّجُومُ 2 أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى3 السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ. وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَنَا أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ. وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2531 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) His statement “from his father”: i.e., Abu Musa al-Ash‘ari. He said: “raised,” meaning the Prophet (ﷺ). This is Abu Burdah’s statement, and the pronoun in “he meaning” refers to “his father,” i.e., Abu Musa intends by the pronoun the subject in “raised,” meaning the Prophet (ﷺ), omitting his name due to its obviousness. The meaning: The Prophet (ﷺ) raised. His statement “and he often raised his head to the sky”: i.e., awaiting divine revelation through the descent of the angel. At-Tibi said: “from” explains “often,” or it may be an extra “from,” and it is the predicate of “was,” i.e., he was often raising his head, and “what” is a verbal noun. The sentence is an intervening circumstantial clause. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) “Source of security”: with two fathahs, meaning safety, i.e., a cause of safety, as in Allah’s statement: “When He envelops you with drowsiness as a security from Him” [Al-Anfal: 11]. Or it is the plural of “trustee,” meaning guardian, like “ambassador” and “ambassadors,” or the plural of “secure,” like “great” and “great ones.” Perhaps this makes it a relative form. It is narrated with a sukoon on the mim, meaning security. (As stated in Al-Lama’at) In Al-Mirqat, quoting At-Tibi: If “source of security” is attributed to the Messenger of Allah (ﷺ), it has two interpretations: either it is an intensive verbal noun, like “just man,” or a plural, as in Allah’s statement: “a blazing flame, watching” [Al-Jinn: 9], i.e., watchers, and His statement: “Indeed, Ibrahim was a nation, obedient to Allah” [An-Nahl: 120]. Thus, he was a source of security for his companions, like a community.
Note 3
(3) His statement “what was promised to the sky comes”: i.e., what was promised to it of splitting and folding on the Day of Resurrection. The meaning of “the stars go” is their rolling, scattering, and vanishing, as stated in An-Nihayah and elsewhere. His statement “what was promised to my companions comes”: i.e., trials, oppositions, and tribulations. His statement “when my companions go”: i.e., all of them. His statement “what was promised to my nation comes”: i.e., the departure of the people of goodness, the arrival of the people of evil, and the establishment of the Hour upon them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: عن أبيه وهو أبو موسى الأشعري قال» أي أبوه رفع يعني النبي ، هذا قول أبي بردة، وضمير يعني» إلى «أبيه» أي يريد أبو موسى بالضمير الفاعل في قوله: «رفع النبي وترك اسمه لظهوره، والمعنى رفع النبي . وقوله: وكان كثيرا مما يرفع رأسه إلى السماء» أي انتظارا للوحي الإلهي بالنزول الملكي. قال الطيبي: «من» بيان ل كثير» أو يجوز أن تكون من زائدة، وهو خبر «كان»، أي كان كثيرا رفع رأسه، و «ما» مصدرية، انتهى. والجملة معترضة حالية. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) أمنة: بفتحات بمعنى الأمن، أي سبب الأمن، ومنه قوله تعالى: ﴿إِذْ يُغَشِيكُمُ التَّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ (الأنفال: (۱۱)، أو جمع أمين بمعنى الحافظ كسفير وسفرة، أو جمع آمن كبار وبررة. ولعل هذا يجعله صيغة النسبة، ويروي أمنة بسكون الميم مرة من الأمن. كذا في اللمعات». وقال في «المرقاة ناقلا عن الطيبي: إذا نسب أمنة إلى رسول الله لا يحتمل وجهين، أحدهما: أن يكون مصدرا مبالغة، نحو: رجل عدل، أو جمعا، فيكون من باب قوله تعالى: شِهَابًا رَصَدًا ﴾ (الجن : (۹) أي راصدين، وقوله تعالى: ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتَا لِلَّهِ﴾ (النحل: ١٢٠) فجعل أمنا لأصحابه بمنزلة الجماعة.
Note 3
(۳) قوله: أتى السماء ما توعدد أي ما وعد له من الانشقاق والطي يوم القيامة، والمراد بذهاب النجوم تكويرها وانكدارها وانعدامها على ما في النهاية» وغيره. وقوله: أتى أصحابي ما يوعدون أي من الفتن والمخالفات والمحن. وقوله: «فإذا ذهب أصحابي أي جميعهم. وقوله: «أتى أمتي ما يوعدون أي من ذهاب أهل الخير ومجيء أهل الشر وقيام الساعة عليهم. التقطته من المرقاة».
Note 1
(7) قوله: عن ابيه. یہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں قال یعنی ان کے والد نے کہا۔رفع یعنی نبی (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور یہ ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے اور یعنی کی ضمیر کا مرجع ابیہ ہے یعنی رفع کی ضمیر فاعل ہے ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ انہوں نے بوجہ شہرت اس کا ذکر نہیں کیا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا۔ وقولہ: وکان کثیرا مما یرفع راسه الی السماء. یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرشتہ کے ذریعہ نزول وحی کے انتظار میں آسمان کی طرف بکثرت سر مبارک اٹھاتے تھے۔ علامہ طیبی نے فرمایا لفظ من کثیرا کا بیان ہے یا زائد بھی ہو سکتا ہے اور یہ کان کی خبر ہے یعنی سر مبارک کا اٹھانا بکثرت تھا اس میں ما مصدریہ ہے اور یہ جملہ معترضہ حالیہ ہے۔(مرقات) (8) قولہ: النجوم امنة. تینوں کو فتحہ ہے اور یہ امن کے معنی میں ہے یعنی امن کا سبب ہیں اور یہی معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہیں: ”إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً“(8-الانفال، آیت نمبر:11) یا یہ امین کی جمع ہے اس کے معنی ہیں حفاظت کرنے والے۔ جیسے سفیر اور سفرہ ہے یا آمن کی جمع ہے کبار اور بردہ کی طرح۔ اور ہو سکتا ہے صیغہ نسبت ہو اور امنة میم کے جزم کے ساتھ بھی روایت ہے اس وقت یہ امن کا اسم مرۃ ہوگا۔(لمعات) اور صاحب مرقات نے فرمایا علامہ طیبی سے نقل کرتے ہوئے امة کی نسبت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو تو اس میں دو صورتیں ہیں ایک یہ ہے کہ وہ مصدر بطور مبالغہ کے ہے جیسے رجل عدل (ایسا شخص جو سرتاپا انصاف ہے) یا جمع ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں ہے: ”شِهَابًا رَّصَدًا“(72-الجن، آیت نمبر:9) معنی میں راصدین ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا“ (16-النحل، آیت نمبر:120) معنی یہ ہوں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو امن کا سبب بتلایا، یعنی جماعت صحابہ کو امن والا بنا دیا۔ (9) قولہ: اتی السماء ما توعد. یعنی آسمان سے قیامت کے دن اس کے پھٹ جانے اور اس کے لپیٹے جانے کا جو وعدہ کیا گیا ہے وہ آ جائے گا اور ستاروں کے جانے سے مراد ان کا لپیٹے جانا اور بے نور ہو جانا اور ختم ہو جانا ہے۔ (نہایہ وغیرہ) وقولہ: أتى اصحابی ما یوعدون یعنی جو فتنے و فساد ات، مخالفین اور مشتقوں کا آنا ہے۔ قولہ: فاذا ذهب اصحابی سے تمام صحابہ کا ختم ہو جانا مراد ہے۔ وقولہ: أتى امتی ما یوعدون اہل خیر کا اٹھ جانا اور اہل شر کا ظاہر ہونا اور ان ہی اہل شر پر قیامت کا قائم ہونا مراد ہے۔(ماخوذ از مرقات)