Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5782

Chapter on the Virtues of the Companions (may Allah be pleased with them all)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of the Companions (may Allah be pleased with them all)

Zujajat al-Masabih 5782Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7475
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ کی عزت کرو کیونکہ وہ تمہارے سب سے اچھے ہیں(19) پھر وہ حضرات ہیں جو ان سے متصل ہیں پھر وہ حضرات ہیں جو ان سے متصل ہیں۔ پھر جھوٹ غالب ہو جائے گی یہاں تک کہ آدمی قسم کھائے گا حالانکہ اس سے قسم نہیں کھلائی گئی تھی اور وہ گواہی دے گا حالانکہ اس سے گواہی طلب نہیں کی گئی تھی سنو جس کو جنت کا وسط پسند ہے تو وہ جماعت کو لازم کرے کیونکہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو سے دور رہتا ہے اور کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہا نہ رہے کیونکہ شیطان ان میں تیسرا ہوتا ہے اور جس شخص کو اس کی نیکی خوش کرے اور اس کی برائی اس کو غمگین کرے تو وہ مومن ہے۔ (نسائی) اور اس کی سند صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 6003 (unverified) 60% confidence

Mishkat (candidate) 6003

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

the best of you

(1) His statement “the best of you”: The address is to the nation. His statement “Indeed”: for emphasis. “Whoever is pleased with the heart of Paradise”: with two dammahs, i.e., its center and best part, “let him adhere to the community”: i.e., the majority and what the companions, followers, and righteous predecessors agreed upon, including their love and honor primarily. “For Satan is with the solitary one”: with fathah on the fa and tashdid on the dhal, i.e., he accompanies the individual who isolates himself with his opinion. His statement “whoever is pleased by his good deed”: i.e., when it occurs from him, “and saddened by his bad deed”: i.e., it grieves him when it occurs from him, “he is a believer”: i.e., a complete believer. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: خياركم والخطاب للأمة. وقوله: «ألا» للتنبيه من سره أي من أحب بحبوحة الجنة بضم الموحدتين، أي وسطها وخيارها، فليلزم الجماعة أي السواد الأعظم، وما عليه الجمهور من الصحابة والتابعين والسلف الصالحين، فيدخل فيه حبهم وإكرامهم دخولا أوليا، فإن الشيطان مع الفذ بفتح الفاء وتشديد الذال المعجمة، أي مقارن للفرد الذي تفرد برأيه. وقوله: ومن سرته حسنته أي إذا وقعت منه، وساءته سيئته أي أحزنته إذا صدرت عنه، فهو مؤمن أي كامل، التقطته من «المرقاة».

Note 1

(19) قوله: خياركم. یہ خطاب امت سے ہے۔ وقوله: الا یہ حرف تنبیہ ہے من سره جو پسند کرے۔ بحبوحة الجنة دونوں با کو پیش ہے اس کے معنی ہیں جنت کا درمیانی اور بہترین حصہ۔ فليلزم الجماعة یعنی بڑی جماعت اور وہ جس پر (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اکثر صحابہ تابعین اور نیک بزرگ حضرات اس میں سب سے پہلے ان سے محبت کرنا اور ان کا اکرام کرنا ہے۔ فان الشيطان مع الفذ فاؤ زبر اور ذال کو تشدید یعنی جو جماعت کی رائے سے اپنی رائے (عقیدہ و عمل میں) الگ رکھتا ہے۔ و قوله: من سرته حسنته یعنی جب اس سے نیکی واقع ہوتی ہے تو خوشی ہوتی ہے۔ وساءته سيئته اور جب برائی سرزد ہوتی ہے تو اس کو غمگین کر دیتی ہے۔ فهو مؤمن كامل یعنی وہ مومن کامل ہے۔ (ماخوذ از مرقات)