Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5805

Chapter on the Virtues of Abu Bakr (may Allah be pleased with him)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of Abu Bakr (may Allah be pleased with him)

Zujajat al-Masabih 5805Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7502
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے پاس اجازت طلب کی اور آپ کے پاس قریش کی چند عورتیں تھیں(14) جو آپ سے گفتگو کر رہی تھیں اور آپ سے نفقہ میں اضافہ کا مطالبہ کر رہی تھیں ان کی آوازیں بلند تھیں(15) اور جب عمر اجازت طلب کئے تو وہ اٹھ گئیں اور جلدی سے پردہ میں چلی گئیں اور حضرت عمر داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے عمر نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ آپ کے دانتوں کو ہنستا رکھے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تعجب ہوا ان عورتوں پر جو میرے پاس تھیں وہ جب تمہاری آواز سنیں جلدی سے پردے میں چلی گئیں۔ اور حضرت عمر نے فرمایا: اے اپنے جانوں کے دشمن کیا تم مجھ سے ہیبت کھاتی ہو(16) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہیبت نہیں کھاتیں تو عورتوں نے کہا ہاں آپ سخت مزاج اور سخت گیر ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب ان کو چھوڑ دو(17) قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم سے کبھی بھی شیطان کسی کشادہ راستہ میں چلتے ہوئے نہیں ملتا(18) مگر وہ تمہارے راستہ کے سوا دوسرے راستہ پر چلتا ہے۔(متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3683 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2396 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (12)

Note 1

some Quraysh women

(1) His statement “some Quraysh women”: Al-Asqalani said: Meaning some of his wives. His statement “asking him much”: An-Nawawi said: Meaning requesting much expenditure. His statement “raised” is in the accusative as a circumstantial clause. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

their voices raised

(2) His statement “their voices raised”: with raf’ as the subject. Qadi Iyad said: It may be before the prohibition against raising voices above the Prophet’s. I say: There is no indication they raised their voices above his, so the issue is not addressed by O you who believe, do not raise your voices above the voice of the Prophet [Qur’an 49:2]. Rather, they spoke louder than their usual softness, relying on his noble character. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

do you revere me and not revere the Messenger of Allah (ﷺ)

(3) His statement “do you revere me and not revere the Messenger of Allah (ﷺ)”: with fathah on the ha, meaning you honor me but not the Messenger. (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

Indeed

(4) His statement “Indeed”: with kasrah on the hamzah and ha, with or without nunation, meaning proceed and ignore their response. (As stated in Al-Mirqat)

Note 5

the devil never meets you on a path

(5) His statement “the devil never meets you on a path”: An-Nawawi said: This is taken literally, that when the devil sees Umar on a path, he flees due to awe of him and his strength. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: نسوة من قريش : قال العسقلاني: أي نسوة من أزواجه . وقوله: «يستكثرنه» قال النووي: أي يطلبن منه النفقات الكثيرة. وقوله: «عالية» بالنصب على الحال. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: أصواتهن بالرفع على الفاعلية. وقال القاضي عياض: يحتمل أن هذا قبل النهي عن رفع الصوت فوق صوته أقول: ليس في الكلام دليل على أن رفع أصواتهن كان فوق صوت النبي ل ليرد الإشكال بقوله تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ﴾ (الحجرات: (۲) الآية، بل المراد أنهن في تلك الحالة على خلاف عادتهن من الخفض، ورفعن أصواتهن في كلامهن معه ها اعتمادا على حسن خلقه . كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: أتهبني ولا تهين رسول الله ﷺ: بفتح الهاء يقال: هبت الرجل بكسر الهاء إذا وقرته وعظمته من الهيبة، أي تو قرنني، ولا تهبن» أي ولا تعظمن. كذا في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله: إيه : بكسر الهمزة والهاء منونا. وقد يترك تنوينه، أي حدث حديثا، ولا تلتفت إلى جوابهن. كذا في «المرقاة».

Note 5

قوله

(٥) قوله: ما لقيك الشيطان سالكا إلخ : قال النووي: هذا الحديث محمول على ظاهره إن الشيطان متى رآه سالكا فجا هرب لرهبته من عمر ، وفارق ذلك الفج لشدة بأسه. كذا في «المرقاة».

Note 1

حمیدی نے کہا: علامہ برقانی نے یا رسول اللہ کے بعد ما اضحک کا اضافہ کیا ہے۔ علامہ توربشتی نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد ما لقيك الشيطان سالكا میں آپ کی دین میں مضبوطی اور ہمیشہ خالص حق پر فائز رہنے کی اطلاع ہے، اور اس میں آپ کی عظیم فضیلت ہے۔

Note 2

(14) قوله: نسوة من قريش۔ علامہ قسطلانی نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات میں سے چند عورتیں۔ و قوله: يستكثرنه علامہ نووی نے فرمایا: وہ ازواج آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نفقہ میں اضافہ کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ و قوله: عالية. عالية کو نصب ہے اور یہ حال ہے۔ (مرقات) (15) قوله: اصواتهن۔ فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفعی میں ہے۔ علامہ قاضی عیاض نے فرمایا ہو سکتا ہے یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آوازیں بلند کرنے کی ممانعت کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہو۔ مگر میں کہتا ہوں کہ اس میں کہ ان کی آوازوں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند ہونے کے سبب؟ لہذا اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ”لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ“ (49۔ الحجرات، آیت نمبر:2) سے اشکال وارد نہیں ہوتا بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ عورتیں اس وقت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی عادت کے مطابق آواز کو پست رکھ کر گفتگو کرتے ہوئے آپ کے حسن اخلاق پر اعتماد کرتے ہوئے عادت کے برخلاف آواز بلند کیں تھیں۔ (مرقات) (16) قوله: اتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه وسلم. ہا کو فتحہ (زبر) ہے، مثلا هبت الرجل ہا کو کسرہ (زیر) کے ساتھ اس کے معنی ہے میں نے آدمی کی تعظیم و توقیر کی اور یہ لفظ ہیبت سے ہے یعنی تم میری تعظیم کرتی ہو اور لا تهبن کے معنی لا تعظمن کے ہیں، تم تعظیم نہیں کرتیں۔(مرقات) (17) قوله: ايه. ہمزہ کو زیر اور ہا کو تنوین ہے اور کبھی تنوین کو ترک کر دیا جاتا ہے یعنی کوئی دوسری بات بولو ان کے جواب کی طرف توجہ مت دو۔(مرقات) (18) قوله: ما لقيك الشيطان سالكا الخ. علامہ نووی نے فرمایا یہ حدیث اپنے ظاہر پر ہے جب شیطان آپ کو کسی راستہ پر چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ حضرت عمر کی ہیبت کے مارے بھاگ جاتا ہے اور شدت خوف سے اس راستہ کو چھوڑ دیتا ہے۔(مرقات)