اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7504
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
تشریف فرما تھے اور ہم نے ایک شور اور بچوں کی آواز سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے
تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک حبشی خاتون(21) رقص کر رہی ہے اور بچے اس کے اطراف ہیں آپ نے
فرمایا اے عائشہ آؤ اور دیکھو پس میں آئی اور اپنے دونوں جبڑے (ٹھوڑی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے کندھے پر رکھ دی اور اس کو دیکھنے لگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاندھے اور سر کے
درمیان سے آپ نے مجھ سے فرمایا کیا دل نہیں بھرا کیا دل نہیں بھرا تو میں کہنے لگی نہیں تا کہ آپ کے
پاس اپنے مرتبہ کو دیکھوں اچانک عمر تشریف لائے تو لوگ اس کے پاس(22) سے چلے گئے، تو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنات کے اور انسانوں کے شیاطین کو دیکھ رہا تھا عمر کی وجہ سے وہ
بھاگ گئے حضرت عائشہ نے فرمایا پھر میں لوٹ گئی۔ (ترمذی)
امام ترمذی نے فرمایا حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3691 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement “an Abyssinian woman”: with two fathahs, meaning a girl or woman from Abyssinia. His statement “dancing”: with sukun on the za and kasrah or dammah on the fa, meaning dancing. His statement “children around her”: meaning watching and observing her. His statement “shoulder”: the junction of the shoulder and arm. His statement “between his shoulder” is a circumstantial clause for “watching,” meaning in the space between his shoulder and head. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement “the people dispersed from her”: with tashdid on the dad mu’jamah, meaning the onlookers around the dancing Abyssinian woman scattered due to awe of Umar and fear of his disapproval. This Hadith shows the Prophet’s noble character and predominance of beauty, while Umar’s predominance of majesty. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: حبشية بفتحتين أي جارية أو امرأة منسوبة إلى الحبش. وقوله: «تزفن» بسكون الزاء وكسر الفاء ويضم، أي ترقص. وقوله: والصبيان حولها أي ينظرون إليها ويتفرجون عليها. وقوله: «منكب وهو مجتمع رأس الكتف والعضد. وقوله: ما بين المنكب ظرف لـ «أنظر حذف منه في»، أي فيما بين المنكب إلى رأسه، أخذته من «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: فارفض الناس عنها بتشديد الضاد المعجمة، أي تفرق النظارة التي كانوا حول الحبشية الراقصة عنها لمهابة عمر، والخوف من إنكاره عليهم. وفي هذا الحديث دليل على عظمة خلقه ل وغلبة صفة الجمال عليه، كما يدل على غلبة نعت الجلال على عمر ه . كذا في «المرقاة».
Note 1
(21) قوله: حبشية. حاء اور باء دونوں کو زبر ہے یعنی وہ باندی تھی یا وہ حبش کی طرف منسوب کوئی خاتون تھی۔ وقوله: تزفن: زاء کو جزم، فاء کو زیر اور پیش دونوں سے پڑھا جاتا ہے یعنی رقص کر رہی تھی۔ وقوله: والصبيان حولها. یعنی بچے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اور اس سے دل بہلا رہے تھے۔ وقوله: منكب. وہ حصہ جو کندھے اور مونڈھے کے درمیان میں ہے۔ وقوله: ما بين المنكب. یہ انظر کا ظرف ہے اور اس میں لفظ فی محذوف ہے یعنی فيما بين المنكب الى راسه ہے۔ (ماخوذ از مرقات) (22) وقوله: فارفض الناس عنها. اس میں ضاد کو تشدید ہے یعنی دیکھنے والے جو اس رقص کرنے والی حبشی خاتون کے اطراف تھے عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہیبت کی وجہ سے اور ان کے انکار کے خوف سے وہ سب منتشر ہو گئے۔ اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم اخلاق اور صفت جمال کے غلبہ کی دلیل ہے۔ نیز عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر صفت جلال کے غلبہ کی دلالت ہے۔ (مرقات)