اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7508
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے آپ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم فرماتے ہوئے سنا ہوں کہ میں جب سو رہا تھا میرے پاس ایک دودھ کا پیالہ لایا گیا میں پی لیا
حتی کہ میں دیکھ رہا تھا سیرابی(28) میرے ناخنوں میں سے نکل رہی تھی پھر میں میرا بچا ہوا عمر بن
الخطاب کو دیا تو صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ تو آپ
نے فرمایا: علم(29)۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 82 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2391a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement “nourishment”: with kasrah on the ra and tashdid on the ya, meaning the trace of milk with water. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement “Knowledge”: in the accusative, meaning religious knowledge. The scholars said: Between the world of bodies and the world of souls is another world called the world of similitudes, a luminous world resembling the physical. Sleep allows the enlightened soul to traverse this world, seeing non-physical images. Knowledge is depicted as milk in this world, as milk is the first nourishment for the body and its health, and knowledge is the first nourishment for the soul and its health. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : الري: بكسر الراء وتشديد الياء أثر اللبن من الماء. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: العلم بالنصب، والمراد بالعلم هو علم الدين. قال العلماء بين عالم الأجسام وعالم الأرواح عالم آخر، يقال له: عالم المثال، وهو عالم نوراني شبيه بالجسماني، والنوم سبب لسير الروح المنور في عالم المثال، ورؤية ما فيه من الصور غير الجسدانية، والعلم مصور بصورة اللبن في ذلك العلم بمناسبة أن اللبن أول غذاء البدن وسبب صلاحه، والعلم أول غذاء الروح وسبب صلاحه. كذا في «المرقاة».
Note 1
(28) قوله: الرى. راء کو زیر (کسرہ) اور یاء کو تشدید ہے۔ دودھ کا نشان ⟦?⟧۔ (مرقات) (29) قوله: العلم. اس کو زیر (نصب) ہے علم سے مراد علم دین ہے، علماء نے فرمایا عالم اجسام اور عالم ارواح کے درمیان ایک عالم مثال ہے اور یہ نورانی عالم ہے اور عالم جسمانی کے مشابہ ہے اور نیند سبب ہے نورانی روح کے عالم مثال میں سفر کرنے کا اور غیر جسمانی صورتوں کے دیکھنے (سچے خوابوں کا) سبب ہے اور اس عالم میں علم دودھ کی شکل میں ہوتا ہے اور اس میں مناسبت یہ ہے کہ دودھ بدن کی پہلی غذا ہے اور بدن کی صلاحیت کا سبب ہے اور علم روح کی پہلی غذا اور اسکی صلاحیت کا سبب ہے۔ (مرقات)