English
He (may Allah be pleased with him) narrated: “The Prophet (ﷺ) would confide 1 in Uthman, and Uthman’s color would change. On the day of the House, we said: ‘Will you not fight?’ He said: ‘No, the Messenger of Allah (ﷺ) entrusted me with a matter, and I am steadfast in it.’”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٨٣٩ – وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: جَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ لا يُسِرُّ 1 إِلَى عُثْمَانَ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ قُلْنَا: أَلَا تُقَاتِلُ؟ قَالَ : لَا إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ عَهِدَ إِلَيَّ أَمْرًا، فَأَنَا صَابِرُ نَفْسِي عَلَيْهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7542
حضرت ابوسہلہ مولیٰ عثمان سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت عثمان سے چپکے سے بات کرنے لگے (32) اور حضرت عثمان کا رنگ بدل رہا تھا، پس جب یوم
دار آیا تو ہم نے کہا کیا جنگ نہ کریں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک امر کا عہد لیا ہے کہ
میں اپنے نفس کو اس پر صابر رکھا ہوں۔ (دلائل النبوۃ بیہقی)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “confide”: with a dammah, then kasrah, then tashdid, meaning to speak secretly. His statement “entrusted me with a matter, and I am steadfast in it”: Ali al-Qari said: The covenant likely comprised not removing the caliphate and avoiding fighting to defend, but enduring patiently to reach the station of composure. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : يسر: بضم فكسر فتشديد أي يخفى الكلام. وقوله: «عهد إلي أمرا فأنا صابر نفسي عليه قال علي القاري: الأظهر أن العهد كان مركبا من عدم الخلع وترك القتال للدفع، بل لمجرد الصبر للوصول إلى مقام الجمع.
Note 1
(32) قوله: يسر. یاء کو پیش سین کو کسرہ (زیر) راء کو تشدید یعنی چپکے سے بات کرتے رہے۔ وقوله: عهد الي امرا فانا صابر نفسي عليه. حضرت ملا علی قاری نے فرمایا اس سے ظاہر ہے کہ اس میں دو باتوں کا عہد تھا ایک تو خلافت سے دست بردار نہیں ہونا اور دوسرا یہ کہ مدافعت کے لئے جنگ نہ کریں بلکہ صرف صبر کرنے کا عہد تھا اس میں دونوں باتیں جمع ہیں۔