اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7560
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے
پاس ایک بھنا ہوا پرندہ موجود تھا تو آپ نے دعا فرمائی: اے اللہ! میرے پاس اُس شخص کو بھیج(10) جو
تجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہو کہ اس کو میرے ساتھ کھائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں علی رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ تناول کیا۔ (ترمذی)۔
امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث غریب ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3721 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 6085 (unverified) 91% confidence
Mishkat (candidate) 6085
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “O Allah, bring to me the most beloved of Your creation, etc.”: Imam At-Turbashti said: We do not, by Allah’s grace, deny Ali’s virtue, precedence, early Islam, and closeness to the Messenger of Allah (ﷺ) due to his near kinship and religious brotherhood. We hold to his love more firmly and rightly than the extremists claim. However, we do not overlook establishing such Hadiths in their proper context, fearing distortion by extremists, misinterpretation by the ignorant, or fabrication by falsifiers. This is a matter we are commanded to preserve and defend. It is incumbent upon us to support the truth and prioritize honesty in it. This Hadith is exploited by innovators, who use it to challenge Abu Bakr’s caliphate, which is the first ruling the Muslims unanimously agreed upon and the strongest pillar upholding the religion after the Messenger of Allah (ﷺ). We say, with Allah’s guidance: This Hadith does not oppose what necessitates Abu Bakr’s precedence and superiority, supported by authentic narrations and the companions’ consensus, due to its chain. There is debate among narrators about it, and it is not permissible to interpret such narrations in a way that contradicts consensus, especially since the companion narrating it was part of this consensus, remained steadfast in it throughout his life, and no contradiction is reported from him. If this Hadith is authentic from him, it should be interpreted in a way that does not negate his belief or contradict what is more authentic in text and chain. It should be understood as: “Bring to me one of the most beloved of Your creation to You,” including others favored by the nation’s consensus. This is like saying: “So-and-so is the wisest and best of people,” meaning one of the wisest and best. What clarifies that interpreting it as absolute is impermissible is that the Prophet (ﷺ) is among Allah’s creation, and it is not permissible for Ali to be more beloved to Allah than him. If it is said: That is known from the essence of Sharia, we say: What we discuss is also known from authentic texts and the nation’s consensus. Thus, this Hadith is interpreted as we mentioned, or as meaning the most beloved of his kin and relatives. The Prophet (ﷺ) often spoke generally while intending specificity or used broad terms while meaning restriction, which the discerning understand from the context, time, or matter at hand. Ali al-Qari said: The appropriate interpretation here is the first, similar to Hadiths stating “the best of deeds” for matters that cannot be combined unless understood as “among the best.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: اللهم ائتني بأحب خلقك إليك إلخ : قال الإمام التوربشتي: نحن وإن كنا لا نجهل بحمد الله فضل علي الله وقدمه وسوابقه في الإسلام واختصاصه برسول الله الله لقرابته القريبة ومؤاخاته إياه في الدين، ونتمسك من حبه بأقوى وأولى مما يدعيه الغالون فيه، فلسنا نرى أن نضرب عن تقرير أمثال هذه الأحاديث في نصابها صفحا؛ لما يخشى فيه من تحريف الغالين وتأويل الجاهلين وانتحال المبطلين. وهذا باب أمر بمحافظته، وجيء أمر بالذب عنه، فحقيق علينا أن ننصر فيه الحق ونقدم فيه الصدق. وهذا حديث يدلس به المبتدع شأنه، ويوصل به المنتحل جناحه ليتخذه ذريعة إلى الطعن في خلافة أبي بكر الله التي هي أول حكم أجمع عليه المسلمون في هذه الأمة، وأقوم عماد أقيم به الدين بعد رسول الله ﷺ. فنقول وبالله التوفيق هذا الحديث لا يقاوم ما أوجب تقديم أبي بكر، والقول بخيريته من الأخبار الصحاحمنضما إليها إجماع الصحابة لمكان سنده، فإن فيه لأهل النقل مقالا، ولا يجوز حمل أمثاله على ما يخالف الإجماع، لا سيما والصحابي الذي يرويه ممن دخل في هذا الإجماع، واستقام عليه مدة عمره، ولم ينقل عنه خلافه، فلو ثبت عنه هذا الحديث فالسبيل أن يؤول على وجه لا ينقض عليه ما اعتقده، ولا يخالف ما هو أصح منه متنا وإسنادا، وهو أن يقال: يحمل قوله: بأحب خلقك على أن المراد منه ائتني بمن هو من أحب خلقك إليك، فيشاركه فيه غيره وهم المفضلون بإجماع الأمة. وهذا مثل قولهم: فلان أعقل الناس وأفضلهم، أي من أعقلهم وأفضلهم، ومما يبين لك أن حمله على العموم غير جائز، هو أن النبي ﷺ من جملة خلق الله، ولا جائز أن يكون علي أحب إلى الله منه، فإن قيل: ذلك شيء عرف بأصل الشرع؟ قلنا: والذي نحن فيه عرف أيضًا بالنصوص الصحيحة وإجماع الأمة، فيؤول هذا الحديث على الوجه الذي ذكرناه، أو على أنه أراد به أحب خلقه إليه من بني عمه وذويه. وقد كان النبي الله يطلق القول، وهو يريد تقييده ويعم به ويريد تخصيصه، فيعرفه ذوو الفهم بالنظر إلى الحال أو الوقت أو الأمر الذي هو فيه. قال علي القاري: والوجه الذي يقتضيه المقام هو الوجه الأول، ونظيره ما ورد أحاديث بلفظ أفضل الأعمال في أمور لا يمكن جمعها، إلا بأن يقال في بعضها: إن التقدير من أفضلها.
Note 1
(10) قوله اللهم ائتني باحب خلقك اليك الخ (اے اللہ! میرے پاس اُس شخص کو بھیج جو تجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہو) امام تورپشتی نے کہا: ہم اگرچہ محمد اللہ علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت، پیش قدمی، اسلام میں آپ کے اولین کارنامہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قریبی رشتہ داری اور دین میں آپ کے ساتھ مواخات کی خصوصیت سے ناواقف نہیں اور آپ کی محبت کے باعث اُس سے قوی تر اور بہتر ہم استدلال کرتے ہیں جو آپ کی محبت میں غلو کرنے والے دعویٰ کرتے ہیں لیکن ہم غلو کرنے والوں کی تحریف، جاہلوں کی تاویل اور باطل پرستوں کی غلط بیانی کے اندیشہ سے اس بارے میں ان جیسی احادیث شریفہ کو بیان کرنے سے روگردانی اختیار نہیں کریں گے اور یہ ایسا بیان ہے جس کی حفاظت کرنے اور اس کا دفاع کرنے کا حکم دیا گیا تو ہمارے لئے سزاوار ہے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) کہ اس بارے میں حق کی مدد کریں اور راست گوئی کو پیش نظر رکھیں اور یہ ایسی حدیث ہے جس میں بڑی عمق دھوکہ دیتا ہے اور غلط بیانی کرنے والا اس میں اپنا مطلب نکالتا ہے تا کہ اسے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اُس خلافت میں طعن کرنے کا ذریعہ بنائے جو ایسا پہلا حکم ہے جس پر اس امت کے مسلمان متفق ہوئے اور ایسا مضبوط ستون ہے جس کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین کو قائم رکھا گیا ہے، تو ہم کہتے ہیں۔ توفیق اللہ ہی کی وجہ سے ہے۔ یہ حدیث اپنی سند کی وجہ سے اُن احادیث صحیحہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقدم ہونے اور امت میں سب سے بہتر ہونے کے قول کے دلائل ہیں۔ جس کے ساتھ صحابہ کرام کا اجماع شامل ہے کیونکہ اس میں اہل نقل کا کلام ہے اور اس جیسی احادیث شریفہ کو خلاف اجماع معنی پر محمول کرنا جائز نہیں خاص طور پر وہ صحابی اُسے روایت کر رہے ہوں جو اجماع میں داخل ہیں اور اپنی عمر بھر اس پر قائم رہے ہیں اور اُن سے اس کا خلاف منقول نہیں تو اگر اُن سے یہ حدیث ثابت ہو تو اس کی ایسے معنی میں تاویل کی جائے گی جس سے اُن کا اعتقاد نہ ٹوٹتا ہو اور وہ معنی یہ ہے کہ فرمان عالی ”باحب خلقك“ کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ اس سے مراد یہ ہے ” میرے پاس اس شخص کو بھیج جو تیرے نزدیک تیری مخلوق میں پسندیدہ بندوں میں ہو“ اس طرح اس میں آپ کے ساتھ دوسرے صحابہ شریک ہوں گے اور وہ سب امت کے اجماع کی وجہ سے افضل ترین ہیں اور یہ فرمان ان کے اس قول کی طرح ہے: فلاں شخص لوگوں میں سب سے زیادہ عقل والا اور فضیلت والا ہے یعنی زیادہ عقل والوں اور فضیلت والوں میں ہے، اور جس وجہ سے تمہیں واضح ہوتا ہے کہ اس حدیث کو عموم پر محمول کرنا ناجائز ہے وہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں شامل ہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب ہیں تو اگر کہا جائے: وہ ایسی چیز ہے جو شریعت کی اصل سے معلوم ہے تو ہم کہتے ہیں: ہم جس مضمون میں گفتگو کر رہے ہیں وہ بھی صحیح دلائل اور اجماع امت کے ذریعہ معلوم ہے تو اس حدیث پاک کی وہ تاویل کی جائے گی جو ہم نے ذکر کی یا کہا جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے اپنے چچازاد بھائیوں اور رشتہ داروں میں اللہ تعالیٰ کے پاس محبوب ترین مراد لیا ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمان کو مطلق رکھتے ہیں اور اس سے مفید مراد لیتے ہیں، عام بیان فرماتے ہیں اور خاص مراد لیتے ہیں تو اس بات کو سمجھنے والے حال اور وقت یا متعلقہ معاملہ کے پیش نظر جان لیتے ہیں، ملا علی قاری رحمہ اللہ الباری نے کہا وہ توجیہ جس کا مقام تقاضا کرتا ہے پہلی توجیہ ہی ہے اور اس کی مثال ایسے اعمال سے متعلق لفظ ”افضل الاعمال“ (سب سے زیادہ فضیلت والا عمل) کے ساتھ واردہ احادیث شریفہ ہیں جن کی تطبیق اس کے علاوہ نہیں کی جا سکتی کہ بعض اعمال کے بارے میں تقدیری عبارت ”من افضلها“ (سب سے زیادہ فضیلت والے اعمال میں) قرار دی جائے۔