English
Urwah ibn az-Zubayr (may Allah be pleased with him) narrated that a man spoke ill of Ali ibn Abi Talib in Umar’s presence. Umar said to him: “Do you know the occupant of this grave? This is Muhammad ibn Abdullah ibn Abdul-Muttalib. Do not mention Ali 1 except with good, for if you diminish him, you harm the occupant of this grave (ﷺ).”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٨٦٨ - وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ (رضي الله عنه) ، أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِمَحْضَرٍ مِنْ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَتَعْرِفُ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ؟ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا تَذْكُرْ عَلِيًّا 1 إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّكَ إِنْ تَنْقُصْهُ آذَيْتَ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ ﷺ . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي الْمَنَاقِبِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7573
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ سے مروی ہے ایک شخص نے حضرت عمر
کے سامنے حضرت علی کی شان میں برا کہا تو حضرت عمر نے اس سے کہا: کیا تو اس قبر شریف کے مکین کو
جانتا ہے یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بن عبداللہ بن عبدالمطلب، حضرت علی کا ذکر کرو تو صرف خیر(20)
سے کرو، کیونکہ اگر تو ان کی اہانت کرے گا تو قبر مبارک کے مکین صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائیگا۔ صلی
اللہ علیہ وسلم۔ (امام احمد نے مناقب میں اس کو روایت کیا ہے)۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “Do not mention Ali except with good”: The author of Al-Mishkat said: He is Amir al-Mu’minin Ali ibn Abi Talib al-Qurashi, known as Abu al-Hasan and Abu Turab. He was, in most opinions, the first male to embrace Islam. His age at that time is disputed: some say fifteen, others eight, others ten. He witnessed all battles with the Prophet (ﷺ) except Tabuk, where he was left behind for his family, and in which he said to him: “Are you not pleased to be to me as Harun was to Musa?” He was swarthy, with large eyes, closer to short than tall, with a prominent belly, abundant hair, broad beard, bald, and white-haired. He became caliph on the day Uthman (may Allah be pleased with him) departed from this world, Friday, the 18th of Dhu al-Hijjah, year 35. He was struck by Abdul Rahman Muljam al-Muradi in Kufa on the morning of Friday, the 17th of Ramadan, year 40, and departed from this world three nights later. He was washed by his sons Hasan and Husayn and Abdullah ibn Ja’far (may Allah be pleased with them), prayed over by Hasan, and buried at dawn. He was 63, or 65, or 70, or 58 years old, with his caliphate lasting four years, nine months, and some days. Many narrated from him, including his sons Hasan, Husayn, Muhammad, and numerous companions and Tabi’un. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : لا تذكر عليا إلا بخير: قال صاحب المشكاة هو أمير المؤمنين علي ابن أبي طالب القرشي يكنى أبا الحسن وأبا تراب، وهو أول من أسلم من الذكور في أكثر الأقوال. وقد اختلف في سنه يومئذ، فقيل: كان له خمس عشرة سنة. وقيل: ثمان سنين. وقيل: عشر سنين شهد مع النبي الله المشاهد كلها غير تبوك؛ فإنه خلفه في أهله، وفيها قال له: «ألا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى كان آدم شديدا لأدمة عظيم العينين أقرب إلى القصر من الطول ذا بطن كثير الشعر عريض اللحية أصلع أبيض الرأس واللحية استخلف يوم قتل عثمان، وهو يوم الجمعة لثمان عشرة خلت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين وضربه عبد الرحمن ملجم المرادي بالكوفة صبيحة الجمعة لسبع عشرة خلت من شهر رمضان سنة أربعين، ومات بعد ثلاث ليال من ضربته، وغسله ابناه الحسن والحسين وعبد الله بن جعفر، وصلى عليه الحسن، ودفن سحرا، وله من العمر ثلاث وستون سنة. وقيل: خمس وستون. وقيل: سبعون. وقيل: ثمان وخمسون، وكانت خلافته أربع سنين وتسعة أشهر وأياما، روى عنه بنوه الحسن والحسين ومحمد وخلائق من الصحابة والتابعين. كذا في «المرقاة».
Note 1
(20) قولہ لا تذكر عليا الا بخير صاحب مشکوٰۃ نے فرمایا آپ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب قرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں آپ کی کنیت ابوالحسن اور ابوتراب ہے، اکثر روایات میں ہے آپ مرد حضرات میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں اس وقت آپ کی عمر کیا تھی اس میں اختلاف ہے کہا گیا ہے کہ پندرہ(15) سال تھی اور ایک قول میں آٹھ(8) سال اور ایک قول میں ہے دس(10) سال تھی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے سوا باقی تمام غزوات میں شریک رہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کی حفاظت کے لئے خلیفہ بنایا تھا اور فرمایا تھا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہوں گے کہ تم میرے پاس ایسے مرتبہ میں رہو جیسے ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس تھے آپ نہایت گندمی رنگ کے تھے، دونوں آنکھیں بڑی بڑی تھیں، آپ مائل بہ پست قد تھے آپ کے شکم مبارک پر بال زیادہ تھے آپ کی ریش مبارک چوڑی گھنی تھی سر کے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) بال نکال دیتے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے دن خلیفہ بنائے گئے 35ھ 18 ذوالحجہ اور ہفتہ کا دن، اور عبدالرحمن بن ملجم مرادی نے جمعہ کی صبح 17 سترہ رمضان 40ھ کو فجر میں آپ پر وار کیا اس وار کے تین (3) دن بعد انتقال فرمایا ہے آپ کے دونوں شہزادے امام حسن و امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور حضرت جعفر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو غسل دیا اور امام حسین رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی، اور بوقت سحر تدفین عمل میں آئی اور آپ کی عمر شریف ترسٹھ (63) سال تھی اور یہ بھی کہا گیا ہے پینسٹھ اور ایک قول ستر (70) سال اور ایک قول اٹھاون (58) سال بھی اور آپ کی خلافت کی مدت چار (4) سال نو (9) مہینے اور چند دن ہے آپ سے آپ کے شہزادگان امام حسن و امام حسین نے اور صحابہ و تابعین کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔