Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5896

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

Zujajat al-Masabih 5896Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7605
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے جب کہ وہ کعبۃ اللہ کے دروازے کو تھامے ہوئے تھے کہا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہوں۔ سنو! تم میں میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی(2) کے جیسی ہے جو کوئی اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا۔ (احمد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 6174 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 6174

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

the likeness of the Ark of Noah

(1) The statement “the likeness of the Ark of Noah”: Meaning, in its role as a means of salvation from destruction. Whoever boards it is saved, and whoever stays behind perishes. Similarly, whoever adheres to loving and following them is saved in both worlds, otherwise, they perish. Even if one distributes wealth or status, or one of them, the world with its disbelief, misguidance, innovations, ignorance, and deviant desires is likened to a deep sea, covered by waves upon waves, with clouds of darkness above, some over others. It surrounds the entire earth with its edges, and there is no escape or refuge except that ark, which is the love for the Prophet’s household (ﷺ). How excellent is its combination with the statement: “The likeness of my companions is like the stars; whoever follows any of them is guided.” And how beautiful is what Imam Fakhruddin Ar-Razi said in his tafsir: “We, the people of the Sunnah, by Allah’s grace, have boarded the ark of love for the Prophet’s household and followed the guiding star of the Prophet’s companions, hoping for salvation from the terrors of the Day of Judgment, the levels of Hell, and guidance to what leads to the ranks of Paradise and eternal bliss.” To clarify, those who do not board the ark, like the Khawarij, perish with the perishing at the first instance. Those who board it but do not follow the stars of the companions, like the Rafidah, go astray and fall into darkness from which they cannot escape. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: مثل سفينة نوح: أي في سببية الخلاص من الهلاك إلى النجاة من ركبها نجا، ومن تخلف عنها هلك فكذا من التزم محبتهم ومتابعتهم نجا في الدارين، وإلا فهلك فيها، ولو كان يفرق المال والجاه أو أحدهما شبه الدنيا بما فيها من الكفر والضلالات والبدع والجهالات والأهواء الزائغة ببحر لجي يغشاه موج من فوقه موج من فوقه سحاب ظلمات بعضها فوق بعض. وقد أحاط بأكنافه وأطرافه الأرض كلها، وليس منه خلاص ولا مناص إلا تلك السفينة، وهي محبة أهل بيت الرسول ﷺ وما أحسن انضمامه مع قوله: مثل أصحابي مثل النجوم، من اقتدى بشيء منه اهتدى، ونعم ما قال الإمام فخر الدين الرازي في تفسيره: نحن معاشر أهل السنة بحمد الله ركبنا سفينة محبة أهل البيت، واهتدينا بنجم هدى أصحاب النبي ، فنرجوا النجاة من أهوال القيامة، ودركات الجحيم، والهداية إلى ما يوجب درجات الجنان والنعيم المقيم. وتوضيحه أن من لم يدخل السفينة كالخوارج هلك مع الهالكين في أول وهلة، ومن دخلها ولم يهتد بنجوم الصحابة كالروافض ضل، ووقع في ظلمات ليس بخارج منها، هذا. كذا في «المرقاة».

Note 1

(2) قولہ: مثل سفينة نوح. ہلاکت سے نجات پانے کا ذریعہ ہے۔ من ركبها نجا ومن تخلف عنها هلك یعنی جو کوئی اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا اسی طرح جو بھی شخص ان کی محبت کو اور ان کی پیروی کو لازم کرے گا تو وہ دونوں جہان میں نجات پائے گا ورنہ وہ دونوں جہان میں ہلاک ہو جائے گا۔ اگرچہ وہ مال اور عزت ان میں سے کسی کو بھی کام میں لائے اور استعمال کرے۔ اس دنیا کو اور دنیا میں جو کچھ کفر و گمراہیاں بدعات و جہالتیں اور غلط خواہشات ہیں ان کو ایسے نہایت گہرے سمندر سے تشبیہ دی گئی ہے (حاشیہ پچھلے صفحے سے) جس پر موج پر موج چھا رہی ہے۔ اور اس کے اوپر بادل ہیں اور تاریکیوں پر تاریکیاں چھا رہی ہیں اور وہ ساری زمین کے اطراف و اکناف کا احاطہ کر لیا ہے اور اس سے چھٹکارا اور نجات کے لئے اس کشتی کے سوا کوئی سامان نہیں اور وہ کشتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے اہل بیت سے محبت ہے۔ اور اس کے ساتھ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا انضمام کس قدر بہتر ہے۔ مثل اصحابي مثل النجوم من اقتدى بشيء منه اهتدى۔ میرے صحابی کی مثال ستاروں کی مثال ہے جو شخص ان میں سے کسی کی اقتدا کرے گا وہ ہدایت پائے گا۔ امام فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں کیا خوب کہا الحمد للہ ہم گروہ اہل سنت اہل بیت کی محبت کی کشتی میں سوار ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہدایت کے ستارے سے راستہ پائے ہیں۔ پس ہم امید رکھتے ہیں کہ قیامت کی ہولناکیوں اور جہنم کے گڑھوں سے نجات پائیں گے اور ہم کو جنت کے درجات اور ہمیشہ کی نعمتوں کو واجب کرنے والی ہدایت ملے گی۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے جو شخص اس کشتی میں داخل نہیں ہوا جیسے خوارج ہیں تو وہ اول وقت ہی ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو جائے گا اور جو شخص اس کشتی میں داخل ہوا مگر صحابہ کے ستاروں سے ہدایت کا راستہ نہیں پایا جیسے روافض تو وہ راستہ بھٹک گیا اور ایسے اندھیروں میں جا گرا جس سے وہ نکل نہیں سکے گا۔ (مرقات)