Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

[كِتَابُ الْفَضَائِلِ]

Hadith 5900

بَابُ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ ﷺ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ / الْفَصْلُ الْأَوَّلُ

In this book

Current reading

[كِتَابُ الْفَضَائِلِ]

بَابُ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ ﷺ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ / الْفَصْلُ الْأَوَّلُ

Zujajat al-Masabih 5900Volume 5

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٩٠٠ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِي حَجَّتِهِ1 يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا، كِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِي2 أَهْلَ بَيْتِي». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3786 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 6143 (unverified) 94% confidence

Mishkat (candidate) 6143

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

during his Hajj

(1) The statement “during his Hajj”: Meaning, the Farewell Pilgrimage. The statement “that which”: Refers to “if you take hold of it,” meaning, if you adhere to it in knowledge and action, you will not go astray after taking it. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

and my family, my household

(2) The statement “and my family, my household”: At-Turbushti said: A man’s family refers to his household and closest kin. Since the term “family” is used in various ways, the Prophet (ﷺ) clarified it by saying “my household” to indicate he meant his progeny, close relatives, and wives. Taking hold of them means adhering to their love, preserving their sanctity, acting upon their narrations, and relying on their statements. This does not negate taking the Sunnah from others, as he said: “My companions are like stars; whoever follows any of them is guided,” and as Allah says: So ask the people of the message if you do not know [Qur’an 16:43]. Ibn Al-Malik said: Adhering to the Book means acting upon its contents, which includes following Allah’s commands and avoiding His prohibitions. Adhering to the family means loving them, following their guidance and conduct, as Sayyid Jamaluddin added, provided it does not contradict the religion. I say: This general statement implies that the true family’s guidance and conduct align with the Shari’ah and the way. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله في حجته أي حجة الوداع. وقوله

(۱) قوله في حجته أي حجة الوداع. وقوله: «ما» موصولة صلتها إن أخذتم به أي تمسكتم به علما وعملا لن تضلوا بعده، أي بعد أخذ ذلك الشيء. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله وعترتي أهل بيتي

(۲) قوله وعترتي أهل بيتي: قال التوربشتي: عترة الرجل أهل بيته ورهطه الأدنون ولاستعمالهم العترة على أنحاء كثيرة بينها رسول الله له بقوله: «أهل بيتي ليعلم أنه أراد بذلك نسله وعصابته الأدنين وأزواجه. والمراد بالأخذ بهم التمسك بمحبتهم ومحافظة حرمتهم والعمل بروايتهم والاعتماد على مقالتهم، وهو لا ينافي أخذ السنة من غيرهم لقوله : «أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم ولقوله تعالى: ﴿فَسْتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ (النحل: (٤٣). وقال ابن الملك: التمسك بالكتاب العمل بما فيه، وهو الائتمار بأوامر الله والانتهاء بنواهيه، ومعنى التمسك بالعترة محبتهم والاهتداء بهديهم وسيرتهم، زاد السيد جمال الدين إذا لم يكن مخالفا للدين قلت في إطلاقه إشعار بأن من يكون من عترته في الحقيقة لا يكون هديه وسيرته إلا مطابقا للشريعة والطريقة. كذا في «المرقاة».

Note 1

(5) قوله: في حجته. یعنی حجۃ الوداع کے موقعہ پر۔ قوله: ما. موصولہ ہے ان اخذتم به یہ اس کا صلہ ہے یعنی علم عمل کے ساتھ اس کو تھام لو۔ لن تضلوا بعده تم ہرگز گمراہ نہیں ہوگے یعنی اس کو تھام لینے کے بعد۔ (مرقات) (6) قولہ: عترتی اہل بیتی۔ علامہ تورپشتی نے فرمایا آدمی کی عترت اس کے گھر والے اور قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ اہل عرب عترت کا استعمال بہت سی جہات سے کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد اہل بیتی سے اس کی وضاحت فرمایا تا کہ یہ معلوم ہو کہ اس سے آپ کی نسل پاک اور خاندان کے قریبی (عصبہ قریبی) اشخاص اور ازواج مطہرات مراد ہیں۔ اور ان کو تھام لینے سے مراد ان کو محبت کے ساتھ تھام لینا اور ان کی حرمت کی حفاظت کرنا اور ان کی روایت پر عمل کرنا اور ان کی باتوں پر اعتماد کرنا ہے اور یہ بات اہل بیت کے سواد و موں سے سنت کو اختیار کرنے کے منافی نہیں ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اصحابی کالنجوم میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں ان میں سے کسی کی بھی تم اقتداء کرو ہدایت پاؤ گے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”فَسْئَلُوْا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ“۔ (16، النحل، آیت نمبر:43) اگر تم نہیں جانتے ہو تو اہل ذکر سے پوچھو۔ اور علامہ ابن ملک نے فرمایا: کتاب کو تھام لینے سے مراد اس میں جو کچھ ہے اس پر عمل کرنا ہے اور اس کا مطلب اللہ کے احکام کو بجالانا اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے رک جانا ہے۔ اور عترت کو تھام لینے کا مطلب ان سے محبت کرنا اور ان کے راستہ پر چلنا اور ان کی سیرت کو اختیار کرنا ہے۔ اور علامہ سید جمال الدین نے اضافہ کیا ہے کہ جب کہ وہ دین کے مخالف نہ ہو۔ میں کہتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کو مطلق رکھا ہے تو اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ جو شخص حقیقت میں آپ کی عترت میں سے ہوگا تو اس کا طرز عمل اور اس کی سیرت شریعت و طریقت کے مطابق ہوگی۔(مرقات)