اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7624
حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جبکہ حضرت حسن(16) بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے کندھے پر تھے آپ
صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3749 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.780
- Candidate: Sahih Muslim 2422a (unverified) 97% confidence · Validation similarity: 0.640
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “with Hasan ibn Ali”: In the nominative with the waw indicating circumstance, “on his shoulder” with a kasrah on the ta, meaning the area between the shoulder and neck. The author of Al-Mishkat said: The kunyah of Imam Hasan is Abu Muhammad, the grandson of the Messenger of Allah (ﷺ), his fragrant flower, and the leader of the youth of Paradise. He was born in mid-Ramadan in the third year of Hijrah, which is the most accurate report of his birth. He departed from this world in the year 50, or 49, or 44, and was buried in Al-Baqi. His son Hasan ibn Hasan, Abu Hurayrah, and many others narrated from him. When his father Ali ibn Abi Talib was killed in Kufa, over forty thousand pledged allegiance to him unto death. He handed over authority to Muawiyah ibn Abi Sufyan in mid-Jumada al-Ula in the year 41. As for Husayn, his kunyah is Abu Abdullah. He was born five days into Sha’ban in the year 4. Fatimah conceived him fifty nights after giving birth to Hasan. He was killed on Friday, the Day of Ashura, in the year 61 in Karbala, in the land of Iraq between Kufa and Hilla, by Sinan ibn Anas An-Nakha’i, or Sinan ibn Abi Sinan, or by Shimr ibn Dhi al-Jawshan, who finished him off, or by Khawli ibn Yazid Al-Asbahi from Hamir, who cut off his head and brought it to Abdullah ibn Ziyad. It is said that twenty-three men from his children, brothers, and household were killed with him. Abu Hurayrah, his son Ali Zayn Al-Abidin, and his daughters Fatimah and Sakinah narrated from him. Husayn was fifty-eight years old when he was killed. Allah decreed that Abdullah ibn Ziyad was killed on the Day of Ashura in the year 67 by Ibrahim ibn Malik ibn Al-Ashtar An-Nakha’i in battle. His head was sent to Al-Mukhtar, who sent it to Ibn Az-Zubayr, who sent it to Ali ibn Al-Husayn. (Derived from Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: والحسن بن علي بالرفع والواو للحال على عاتقه بكسر التاء، وهو ما بين المنكب والعنق. قال صاحب المشكاة»: كنية الإمام الحسن أبو محمد سبط رسول الله ﷺ وريحانته وسيد شباب أهل الجنة ولد في النصف من شهر رمضان سنة ثلاث من الهجرة، وهو أصح ما قيل في ولادته، ومات سنة خمسين. وقيل: سنة تسع وأربعين. وقيل: سنة أربع وأربعين، ودفن بالبقيع، روى عنه ابنه الحسن بن الحسن وأبو هريرة وجماعة كثيرة، ولما قتل أبوه علي ابن أبي طالب بالكوفة بايعه الناس على الموت أكثر من أربعين ألفا، وسلم الأمر إلى معاوية بن أبي سفيان في النصف من جمادى الأولى، سنة إحدى وأربعين، وأما الحسين فكنيته أبو عبد الله ولد لخمس خَلَونَ من شعبان سنة أربع، وكانت فاطمة علقت به بعد أن ولدت الحسن بخمسين ليلة، وقتل يوم الجمعة يوم عاشوراء سنة إحدى وستين بكربلاء من أرض العراق، فيما بين الكوفة والحلة، وقتله سنان بن أنس النخعي، ويقال أيضًا: سنان بن أبي سنان. وقيل: قتله شمر بن ذي الجوشن، وأجهز عليه خولي بفتح الخاء المعجمة وسكون الواو وكسر اللام، وتشديد الياء يزيد الأصبحي من حمير، جز رأسه وأتى به عبد الله بن زياد. وقيل: إنه قتل مع الإمام الحسين من ولده وإخوته وأهل بيته ثلاثة وعشرون رجلا، روى عنه أبو هريرة وابنه علي زيد العابدين وفاطمة وسكينة بضم السين المهملة وفتح الكاف وسكون الياء والنون ابنتاه، وكان للحسين يوم قتله ثمان وخمسون سنة، وقضى الله تعالى أن قتل عبد الله بن زياد يوم عاشوراء سنة سبع وستين، قتله إبراهيم بن مالك ابن الأشتر النخعي في الحرب، وبعث رأسه إلى المختار، وبعثه المختار إلى ابن الزبير، وبعث ابن الزبير إلى علي بن الحسين. كذا في «المرقاة».
Note 1
(16) قوله: والحسن بن علي. میں حسن مرفوع ہے اور واو حالیہ ہے۔على عاتقه تاء کو کسرہ (زیر) ہے یہ مونڈھے اور گردن کے درمیان کا حصہ ہے۔ صاحب مشکوۃ نے فرمایا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابومحمد ہے آپ سبط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (آپ کے نواسے) ہیں اور آپ کے پھول ہیں اور اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں نصف رمضان یعنی رمضان کی پندرہ(15) تاریخ 3تین ہجری کو آپ کی ولادت باسعادت ہوئی، آپ کی ولادت کے بارے میں یہی صحیح ترین قول ہے۔ اور50پچاس ہجری میں آپ کا وصال ہوا اور ایک قول میں (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) 49 انچاس اور ایک قول میں 44 چوالیس ہے اور جنت البقیع میں تدفین عمل میں آئی اور آپ سے روایت کرنے والے آپ کے صاحبزادے حسن بن حسن اور حضرت ابو ہریرہ اور کثیر جماعت ہے رضی اللہ تعالیٰ عنہم، اور جب آپ کے والد محترم سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ میں شہید کئے گئے تو آپ کے ہاتھ پر چالیس ہزار (40000) سے زیادہ لوگ موت پر یعنی جب تک جان میں جان ہے جہاد کرنے پر بیعت کئے مگر آپ نے خلافت کو نصف جمادی الاولیٰ 41 اکتالیس ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حوالے کر دیا۔ واما الحسین۔ اب رہا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی کنیت ابو عبداللہ ہے آپ کی ولادت با سعادت 5 شعبان 4 ہجری میں ہوئی آپ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کے (50) پچاس دن کے بعد اپنی والدہ کے شکم مبارک میں آئے اور جمعہ کے دن یوم عاشوراء کو 61 اکسٹھ ہجری میں سرزمین عراق کے کوفہ اور حلہ کے درمیان واقع میدان کربلا میں آپ کی شہادت ہوئی۔ بدبخت سنان بن انس نخعی نے آپ کو شہید کیا اس کو سنان بن ابی سنان بھی کہا جاتا ہے۔ اور ایک قول کے مطابق شمر بن ذی الجوشن شقی نے آپ کو شہید کیا، بدبخت خولی نے تیزی سے آپ کے سر مبارک کو جدا کیا۔ خولی خاء کو بزبر (فتحہ) واو کو بجزم لام کو زیر (کسرہ) اور یاء کو تشدید (خَوْلِیّ) ہے یہ خولی ابن یزید اصبحی، حمیر قبیلہ کا ہے۔ اس بدبخت نے سر مبارک کو تن سے جدا کیا اور اس کو عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بدبخت نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ آپ کے صاحبزادے اور آپ کے برادران اور اہل بیت میں سے تئیس (23) حضرات کو شہید کیا۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت ابو ہریرہ اور آپ کے صاحبزادے حضرت علی زین العابدین اور حضرت فاطمہ اور سکینہ نے جو دونوں آپ کی صاحبزادیاں ہیں روایت کیا ہے ”سکینہ“ سین کو پیش (ضمہ) کاف کو بزبر (فتحہ) یاء کو بجزم اور اس کے بعد نون (سُکَیْنَہ) ہے۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر (58) اٹھاون سال تھی۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ایسا ہوا کہ عبداللہ بن زیاد کو یوم عاشوراء 67 سڑسٹھ ہجری میں دوران جنگ ابراہیم بن مالک بن اشتر نخعی نے قتل کیا اور اس کا سر مختار کے پاس بھیجا اور مختار نے اس سر کو حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا اور حضرت ابن زبیر نے حضرت سیدنا علی بن حسین کے پاس بھیجا۔ (مرقات)