Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5929

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

Zujajat al-Masabih 5929Volume 5

English

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sent out an expedition and appointed Usamah ibn Zayd as its leader. Some people criticized 1 his leadership, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: “If 2 you criticize his leadership, you have criticized the leadership of his father before him. By Allah, he 3 was indeed worthy of leadership, and he was one of the most beloved people to me, and this one is one of the most beloved to me after him.” [Agreed Upon] In a narration by Muslim, it is similar, with the addition at the end: “I enjoin you 4 regarding him, for he is among your righteous ones.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٩٢٩ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ بَعَثَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ1 بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : إِنْ2 كُنْتُم تَطْعُنُوا . فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعُنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ3 كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوُهُ. وَفِي آخِرِهِ: «أُوْصِيْكُمْ4 بِهِ؛ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيْكُمْ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7643Noor 7644
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دستہ روانہ فرمائے اور ان پر حضرت اسامہ کو امیر بنائے، تو بعض اشخاص ان کی امارت (کمانڈری) سے متعلق اعتراض کئے(33) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ ان کی امارت (کمانڈری) پر طعن کر رہے ہو(34) تو تم نے اس سے پہلے ان کے والد کی کمانڈری پر بھی طعن کیا تھا خدا کی قسم وہ امارت کے یقیناً لائق تھے(35) اور وہ مجھے لوگوں میں زیادہ محبوب تھے، تو یہ بھی مجھے ان کے بعد لوگوں میں زیادہ محبوب ہیں۔(متفق علیہ) اور مسلم کی روایت میں بھی اسی طرح ہے اور اس کے آخر میں ہے اوصيكم(36) بہ الخ میں تم کو ان کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ بلا شبہ تمہارے نیک حضرات میں سے ہیں۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3730 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2426a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (10)

Note 1

criticized

(1) The statement “criticized”: With a fathah on the ‘ayn, from “to criticize” like “to prevent,” meaning in reputation or lineage. With a dammah, it means with a spear or hand. It is said: They are two dialects, and the meaning is that some people, namely the hypocrites or tribal allies, spoke against his leadership, with a kasrah on the hamzah, meaning his authority, because he was a freedman. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

If you criticize his leadership, etc.

(2) The statement “If you criticize his leadership, etc.”: At-Turbushti said: Those who criticized their leadership did so because they were freedmen, and the Arabs did not accept the leadership of freedmen and strongly disapproved of following them. When Allah brought Islam, He elevated the status of those who had no standing among them through precedence, migration, knowledge, and piety, and He made their rights clear to the religiously committed. However, those bound by custom and tested by love of leadership among the Bedouins and tribal leaders still felt some resistance, especially the hypocrites, who hastened to criticize and strongly disapprove of them. The Messenger of Allah (ﷺ) had sent Zayd ibn Harithah as a leader in several expeditions, the greatest being the army of Mu’tah, where the best of the companions, including Ja’far ibn Abi Talib, fought under his banner. He was worthy of it due to his precedence, virtue, and closeness to the Messenger of Allah (ﷺ). Then he sent Usamah, appointing him, during his illness, over an army that included many senior and virtuous companions, as if he saw in him, beyond his evident capability, a way to pave the path for those who would assume leadership after him, so no one would withdraw from obedience and so all would know that the customs of the pre-Islamic era had been erased and their landmarks obscured. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

he

(3) The statement “he”: Lightened, meaning the affair is that “he was,” referring to his father, worthy and deserving of leadership due to his virtue, precedence, and closeness to me. (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

I enjoin you regarding him

(4) The statement “I enjoin you regarding him”: Meaning, regarding Usamah, for he is among your righteous ones, meaning those whose righteousness prevails among you, otherwise all the companions are righteous. The address is to the group of those present or sent with him. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فطعن بفتح العين من طعن كمنع في العرض والنسب، إما بالضم فبالرمح واليد، ويقال: هما لغتان والمعنى فتكلم بعض الناس أي المنافقون أو أحلاف العرب في إمارته بكسر الهمزة، أي ولايته؛ لكونه مولى. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: إن كنتم تطعنون في إمارته إلخ قال التوربشتي: إنما طعن من طعن في إمارتهما؛ لأنهما كانا من الموالي، وكانت العرب لا ترى تأمير الموالي وتستنكف عن اتباعهم كل الاستنكاف، فلما جاء الله بالإسلام ورفع قدر من لم يكن له عندهم قدر بالسابقة والهجرة والعلم والتقى وعرَّف حقهم المحفوظون من أهل الدين، فأما المرتهنون بالعادة والممتحنون بحب الرياسة من الأعراب ورؤساء القبائل، فلم يزل يختلج في صدورهم شيء من ذلك، لا سيما أهل النفاق؛ فإنهم كانوا يسارعون إلى الطعن وشدة النكير عليه، وكان رسول الله ﷺ قد بعث زيد بن حارثة . أميرا على عدة سرايا، وأعظمها جيش موتة، وسار تحت رأيته في تلك الغزوة خيار الصحابة منهم . جعفر بن أبي طالب ه، وكان خليقا بذلك؛ لسوابقه وفضله وقربه من رسول الله ﷺ ، ثم كان يبعث أسامة. وقد أمر في مرضه على جيش فيهم جماعة من مشيخة الصحابة وفضلائهم، وكأنه رأى في ذك سوى ما توسم فيه من النجابة أن يمهد الأمر، ويوطئه لمن يلي الأمر بعده؛ لئلا ينزع أحد يدا من طاعة، وليعلم كل منهم أن العادات الجاهلية قد عميت مسالكها وخفيت معالمها. كذا في المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: إن: مخففة أي الشأن «كان» أي أبوه الخليقا، أي لجدير وحقيقا للإمارة، أي لفضله وسبقه وقربه مني. كذا في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله: أوصيكم به أي بأسامة؛ فإنه من صالحيكم، أي ممن غلب عليه الصلاح فيما بينكم، وإلا فكل الصحابة صالحون، والخطاب لجماعة من الحاضرين أو المبعوثين معه. كذا في «المرقاة».

Note 1

(33) قولہ: فطعن ”ع“ کو زبر (فتحہ) باب منع کی طرح، طعنہ دیئے ان کی عزت اور نسب سے متعلق اور ”ع“ کو پیش کے ساتھ، نیزہ یا ہاتھ سے چھونا اور کہا جاتا ہے وہ دو لغت ہیں معنی یہ ہے کہ بعض اشخاص یعنی منافقین یا عرب کے روکھے سخت مزاج لوگوں نے ان کی امارت کے بارے میں (طعنہ دیا) کلام کیا۔ امارتہ میں ”الف“ کو زیر (کسرہ) ہے یعنی کمانڈری اور قیادت سے متعلق کیونکہ وہ آزاد کردہ غلام تھے۔(مرقات) (34) قوله: ان كنتم تطعنون فى امارته الخ. علامہ تورپشتی: نے فرمایا جو شخص بھی ان دونوں کی امارت سے متعلق طعنہ دیا تھا وہ اس لئے تھا کہ یہ دونوں آزاد کردہ غلاموں میں سے ہیں اور عرب میں موالی (آزاد کردہ غلاموں) کو امیر نہیں بناتے تھے اور ان کی اتباع کو بالکل ناپسند کرتے تھے۔ لیکن اللہ نے جب اسلام کو اتارا اور لوگوں کے پاس جن کی کوئی قدر نہیں تھی ان کا مرتبہ اسلام اور ہجرت اور علم اور پرہیزگاری کے ذریعہ بلند کیا اور دیندار لوگوں نے ان کے رتبہ کو جانا لیکن جو لوگ اپنی عادت سے مجبور تھے اور وہ دہیاتی اور قبیلوں کے سردار جن کو جاہ و مرتبہ سے محبت تھی ان کے دلوں میں تو یہ چیز کھٹکتی تھی اور خاص طور پر اہل نفاق تو اس پر طعن کرنے میں آگے رہتے اور اس کا شدید انکار کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بعض غزوات میں امیر لشکر بنا کر روانہ فرمایا تھا خصوصاً غزوہ موتہ اس غزوہ میں ان کی ماتحتی میں بڑے بڑے صحابہ چلے تھے جن میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے اور حضرت زید اپنی صلاحیتوں اور اپنے فضل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرب کی بناء پر اس کے لائق تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ کو بھی روانہ فرمانے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض مبارک کے زمانہ میں حضرت اسامہ کو ایک لشکر کا امیر بنایا تھا جس میں اصحاب فضائل اور بزرگ صحابہ کی ایک جماعت شریک تھی گویا اس میں بزرگی کے علاوہ آپ نے یہ دکھا کہ اس میں اس بات کی تربیت دی جائے کہ آپ کے بعد بھی کوئی شخص امیر کی اطاعت سے دست کش نہ ہو اور جاہلیت کے تمام دستور ختم کر دیئے گئے اور اس کے تمام طور طریق مٹ گئے۔(مرقات) (35) قوله: ان. مخففہ ہے یعنی حال یہ ہے کہ ان کے والد لائق تھے اور امارت کے قابل تھے اپنی فضیلت اور سبقت اور مجھ سے قرب کی بناء پر وہ اس کے لائق تھے۔(مرقات)

Note 2

(36) قوله: اوصيكم به. یعنی اسامہ کے بارے میں تم کو وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارے نیک لوگوں میں سے ہیں یعنی تمہارے درمیان ان حضرات میں سے جن پر نیکی اور صلاحیت غالب ہے۔ ورنہ در حقیقت تمام صحابہ نیک ہیں اور یہ خطاب حاضرین کی جماعت سے ہے یا ان (اسامہ) کے ساتھ جو حضرات بھیجے گئے تھے ان سے ہے۔(مرقات)