English
Narrated from Ahshan, from his mother: She saw Umm Salama pouring water over the urine of a child who had not yet eaten. When the child ate, she washed him. She used to wash the urine of a female child.
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٩٦ - وَعَنْ أَحْسَنَ ، عَنْ أُمِّهِ : أَنَّهَا أَبْصَرَتْ أُمَّ سَلَمَةَ تَصُبُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ، فَإِذَا طَعِمَ غَسَلَتْهُ. وَكَانَ تَغْسِلُ بَوْلَ الْجَارِيَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 671
حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے
روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ ایسے بچے کے پیشاب پر پانی بہاتی
تھیں جب تک وہ شیر خوار تھا اور کھانا نہ کھاتا تھا، اور جب بچہ کھانا کھانے لگ جاتا تو اس کے پیشاب
کو دھو لیا کرتی تھیں اور لڑکی کے پیشاب کو دھو لیا کرتی تھیں۔ (خواہ وہ کھانا کھائے یا نہ کھائے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 379 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.899
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: شیر خوار بچہ یا بچی اگرچہ کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں دونوں کا پیشاب نجس ہے، بچے کے پیشاب کے لئے خفیف طور سے دھو لینا کافی ہے کیوں کہ بچے کے پیشاب میں بدبو کم ہوتی ہے اور وہ پتلا ہوا کرتا ہے، چنانچہ حدیث شریف میں بچے کے پیشاب کے لئے ”نَضْح“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی خفیف طور سے دھونے کے ہیں۔ ”التَّعْلِيقُ الْمُمَجَّدُ“ میں اسی طرح صراحت کی گئی ہے، لیکن بچی کے پیشاب کو بدبو کی زیادتی اور گاڑھے پن کی وجہ سے مبالغہ کے ساتھ دھونا ضروری ہے، جیسے اور نجاست کو دھویا جاتا ہے ، اسی طرح بچی کے پیشاب کے لئے حدیث میں ”غسل“ کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی اہتمام اور مبالغہ سے دھونے کے ہیں۔ (ماخوذ از مرقات اور التعلیق الممجد۔)12۔