Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5993

Chapter on the Comprehensive Virtues

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Comprehensive Virtues

Zujajat al-Masabih 5993Volume 5

English

Sa’d ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) narrated: I never heard the Prophet (ﷺ) say about anyone walking the earth 1: “He is among the people of Paradise,” except for Abdullah ibn Salam.

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٩٩٣ - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصِ (رضي الله عنه) قَالَ: مَا سَمِعْتُ1 النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ لِأَحَدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ: «إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7713
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سلام کے سوا کسی زمین پر چلنے والے کے بارے میں یہ فرماتے نہیں سنا(39) کہ وہ اہل جنت سے ہے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3812 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2483 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

I never heard

(1) The statement “I never heard”: An-Nawawi said: This does not contradict the Prophet’s (ﷺ) statement: “Abu Bakr is in Paradise, Umar is in Paradise,” and others among the ten promised Paradise, as Sa’d said, “I never heard,” and negating his hearing does not negate the glad tidings for others. Affirmation takes precedence over negation. Al-Hafidh Al-Asqalani said: The Hadith was questioned because others were promised Paradise besides Abdullah ibn Salam (may Allah be pleased with him), and it is unlikely Sa’d was unaware or denied hearing it to avoid self-praise. It seems this was after the departure of those promised Paradise, as Abdullah ibn Salam outlived them, with only Sa’d and Sa’id (may Allah be pleased with them) remaining. This is supported by “walking the earth.” Ad-Daraqutni’s narration: “I never heard the Prophet (ﷺ) say about a living person walking: He is among the people of Paradise.” The ambiguity remains unless Sa’d excluded himself, as his glad tidings came through others, while he heard this directly, as the Hadith’s opening suggests. Sa’id’s survival poses a question, but it may be resolved similarly, or “walking” may mean the glad tidings for Abdullah occurred while he was walking, unlike others, removing the issue. Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ما سمعت إلخ : قال النووي: ليس هذا مخالفا لقوله : أبو كر في الجنة وعمر في الجنة» إلى آخر العشرة وغيرهم من المبشرين بالجنة؛ فإن سعدا قال: ما سمعت ونفي سماعه ذلك لا يدل على نفي البشارة للغير، وإذا اجتمع النفي والإثبات فالإثبات مقدم عليه. ويؤيد ما قدمناه ما ذكره الحافظ العسقلاني بأن الحديث استشكل بأنه قال الجماعة: إنهم من أهل الجنة غير عبد الله بن سلام، ويبعد أن لا يطلع سعد على ذلك أو ينفي سماع ذلك عن نفسه كراهة تزكية نفسه، فالظاهر أن ذلك بعد موت المبشرين؛ لأن عبد الله بن سلام عاش بعدهم ولم يتأخر بعده من العشرة غير سعد وسعيد، ويؤخذ ذلك من قوله: يمشي على وجه الأرض. ووقع عند الدارقطني ما سمعت النبي ﷺ يقول لحي يمشي: إنه من أهل الجنة. ولا يخفى ما فيه من الغموض على حصول المدعي، اللهم إلا أن يقال: إن سعدا لم يذكر نفسه، بناء على أن تبشيره بلغه من غيره. وهذا سمعه بنفسه، كما يشير إليه صدر الحديث، لكن يبقى الكلام في وجود سعيد حيا، ويمكن دفعه به أيضًا، ويمكن أن يراد بقوله: يمشي» أنه وقع بشارته لعبد الله حين كان يمشي على وجه الأض، بمعنى أنه يسير بخلاف بشارات غيره وبه يزول الإشكال، والله أعلم بالأحوال. كذا في «المرقاة».

Note 1

(39) قوله: ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم الخ۔ علامہ نووی نے فرمایا یہ اس حدیث کے مخالف نہیں ہے کہ ابوبکر جنت میں ہیں اور عمر جنت میں ہیں یہاں تک کہ دس عشرہ مبشرہ اور ان کے علاوہ بہت سے صحابہ جن کے بارے میں جنتی ہونے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری دی ہے کیونکہ حضرت سعد نے فرمایا ما سمعت میں نے نہیں سنا ان کا اس کو نہ سننا دوسروں کی خوشخبری کی نفی نہیں کرتا اور نفی و اثبات دونوں جمع ہوں تو اثبات مقدم ہوتا ہے۔ اور اس کی تائید حافظ ابن حجر عسقلانی کے کلام سے ہوتی ہے۔ حافظ صاحب نے فرمایا اس حدیث میں ایک اشکال یہ معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن سلام کے علاوہ بھی ایک بڑی جماعت ہے جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی خوشخبری دی ہے اور حضرت سعد کا اس پر مطلع نہ ہونا یا اپنے نفس کے تزکیہ کو نامناسب سمجھ کر خود اپنے بارے میں اس کے سننے کی نفی کرنا بعید ہے۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت سعد اس سے واقف نہ رہے ہوں یا وہ اپنے نفس کے تزکیہ کو نامناسب سمجھ کر اپنے نفس سے اس کی نفی کر رہے ہوں۔ تو ظاہر بات یہ ہے کہ ان کا یہ کہنا ان صحابہ کے انتقال کے بعد ہوا ہے جن کو خوشخبری دی گئی تھی کیونکہ عبداللہ بن سلام ان سب کے بعد بھی زندہ رہے اور ان کے بعد تک حضرت سعد اور حضرت سعید کے سوا کوئی باقی نہیں رہے اور یہ بات ان کے اس قول يمشى على وجه الارض سطح زمین پر جو چل رہے ہوں سے سمجھ میں آتی ہے اور دار قطنی کی روایت میں ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لحى يمشى انه من اهل الجنة ہے۔ انہی گذشتہ دعاء کے لئے اس استدلال میں جو پیچیدگی اور گہرائی ہے وہ ظاہر ہے سوائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ حضرت سعد نے اس میں اپنا جو ذکر نہیں کیا تو وہ اس لئے کہ اس حدیث کو انہوں نے بنفس نفیس سنا ہوا اور ان کے بارے میں بشارت والی جو حدیث ہے اس کو دوسروں سے سنا ہو جیسا کہ حدیث شریف کے ابتدائی حصہ سے اس کا اشارہ ملتا ہے۔ لیکن حضرت سعید کا اس وقت باحیات رہنے کا سوال رہتا ہے تو اس کا بھی جواب اسی سے دیا جا سکتا ہے اور راوی کے قول يمشى (جو سطح زمین پر چل رہے ہوں) سے یہ مراد لینا بھی ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کے برخلاف عبداللہ بن سلام کو یہ خوشخبری ایسے وقت میں دی ہو جب کہ وہ چل رہے تھے۔ اس سے یہ اشکال دور ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ احوال کو خوب جاننے والا ہے۔ (مرقات)