Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 6027

Chapter on the Comprehensive Virtues

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Comprehensive Virtues

Zujajat al-Masabih 6027Volume 5

English

Rif’ah ibn Rafi’ (may Allah be pleased with him) narrated: Jibril came to the Prophet (ﷺ) and said: “How do you regard the people of Badr 1 among you?” He said: “Among the best Muslims,” or similar words. Jibril said: “Likewise, those who witnessed Badr among the angels.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٦٠٢٧ - وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ له قَالَ: جَاءَ جِبْرَئِيلُ إِلَى النَّبِيِّ ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ1 فِيكُمْ؟ قَالَ: مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ: وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7750
حضرت سیدنا رفاعہ بن رافع سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت جبرئیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ اہل بدر کو اپنے میں کیا سمجھتے ہیں (75)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں میں سب سے افضل، یا اس جیسا کوئی کلمہ ارشاد فرمایا، انہوں نے عرض کیا: وہ فرشتے جو بدر میں شریک ہوئے اسی طرح ہیں۔ (بخاری) (1) حضرت نبی اکرم سیدنا محمد(2) بن عبداللہ الہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3992 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

how do you regard the people of Badr among you

(1) The statement “how do you regard the people of Badr among you”: Addressed to the Messenger of Allah (ﷺ), with the plural for respect or including his companions present. The meaning is: What rank of virtue do you assign to the people of Badr? (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ما تعدون أهل بدر فيكم والخطاب الرسول الله له والجمع للتعظيم، أو له ولمن كان من أصحابه معه، والمعنى: أي شيء من مراتب الفضل تحسبونها لأهل بدر. كذا في «المرقاة».

Note 1

(2) حضرت سیدنا عبداللہ بن عثمان ابوبکر صدیق قرشی (3) حضرت سیدنا عمر بن الخطاب العدوی (4) حضرت سیدنا عثمان بن عفان قرشی ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی(3) حضرت سیدتنا رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیلئے پیچھے چھوڑا اور ان کے لئے ان کا حصہ مقرر فرمایا (5) حضرت سیدنا علی(4) بن ابی طالب ہاشمی (6) حضرت سیدنا ایاس بن بکیر (7) حضرت سیدنا بلال بن رباح (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام) (8) حضرت سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب ہاشمی (9) قریش کے حلیف حضرت سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ (10) حضرت سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ قرشی (11) حضرت سیدنا حارثہ بن رُبَیّع انصاری جو بدر کے دن شہید ہوئے اور یہ حارثہ بن سراقہ ہیں جو نگرانی(5) پر مقرر تھے (12) حضرت سیدنا خبیب بن عدی انصاری (13) حضرت سیدنا خنیس بن حذافہ سہمی (14) حضرت سیدنا رفاعہ بن رافع انصاری (15) حضرت سیدنا رفاعہ بن عبدالمنذر ابولبابہ انصاری (16) حضرت سیدنا زبیر بن العوام قرشی (17) حضرت سیدنا زید بن سہل ابوطلحہ انصاری (18) حضرت سیدنا ابوزید انصاری (19) حضرت سیدنا سعد(6) بن مالک زہری (20) حضرت سیدنا سعد بن خولہ قرشی (21) حضرت سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل قرشی (22) حضرت سیدنا سہل بن حنیف انصاری (23) حضرت سیدنا ظہیر بن رافع انصاری (24) اور ان کے بھائی(7) سیدنا مظہر (25) حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود ہذلی (26) حضرت سیدنا عبدالرحمن بن عوف زہری (27) حضرت سیدنا عبیدہ بن حارث قرشی (28) حضرت سیدنا عبادہ بن صامت انصاری (29) بنی عامر بن لؤی کے حلیف حضرت سیدنا عمرو بن عوف (30) حضرت سیدنا عقبہ(8) بن عمرو انصاری (31) حضرت سیدنا عامر بن ربیعہ عنزی (32) حضرت سیدنا عاصم بن ثابت انصاری (33) حضرت سیدنا عویم بن ساعدہ انصاری (34) حضرت سیدنا عتبان بن مالک انصاری (35) حضرت سیدنا قدامہ بن مظعون (36) حضرت سیدنا قتادہ بن نعمان انصاری (37) حضرت سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح (38) حضرت سیدنا معوذ بن عفراء (39) اور ان کے بھائی سیدنا معاذ (40) حضرت سیدنا مالک بن ربیعہ ابو اسید انصاری (41) حضرت سیدنا مسطح بن اثاثہ بن عباد بن عبد المطلب بن عبد مناف (42) حضرت سیدنا مرارہ ابن ربیع انصاری (43) حضرت سیدنا معن بن عدی انصاری (44) بنی زہرہ کے حلیف حضرت سیدنا مقداد بن عمرو کندی (45) حضرت سیدنا ہلال بن امیہ انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین۔ حضرت علامہ مولانا محمد کرامت علی محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”السیرۃ المحمدیہ“ میں بیان کیا ہے کہ امام رویانی جو علماء شافعی میں سے ہیں نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے مشائخ حدیث سے سنا ہے کہ اصحاب بدر کے ذکر کے وقت کی دعا قبول کی جائے گی اور اس کو آزمایا گیا ہے اور اسی طرح مقدمہ فتح الباری میں ہے اور یہ بات ہم نے اپنے شیوخ سے بھی روایت کی ہے۔ ”سیرت شامیہ“ کے مصنف نے بیان کیا کہ جملہ (360) تین سو ساٹھ(9) کا ذکر آیا ہے اور یہ عدد اہل بدر کی تعداد سے زیادہ ہے، اور یہ اس کے بعض بیان کرنے والوں کے درمیان اختلاف کی بناء پر ہے۔ بسم الله الرحمن الرحيم

Note 2

(75) قوله: ماتعدون اهل بدر منكم. اس جملہ میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور جمع کا صیغہ تعظیم کیلئے ہے، یا یہ خطاب آپ سے اور آپ کے ساتھ والے صحابہ سے ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اہل بدر کو آپ فضیلت کے مراتب میں سے کونسے مرتبے پر سمجھتے ہیں۔ (مرقات) (1) قوله: تَسْمِيَةُ مَنْ سُمِّيَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ الخ۔ یعنی ان اہل بدر کے ذکر میں ہے جن کا ذکر اُن کے ناموں کے ساتھ بخاری شریف میں آیا ہے حقیقۃً ہو یا حکماً تا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میں داخل ہو جائیں البتہ ان حضرات کا ذکر نہیں ہے جن کے نام کا اس میں بالکل ذکر ہی نہیں۔ علامہ میرک نے فرمایا ہے کہ لفظ من سمی سے مراد وہ بدری صحابہ ہیں جن کا ذکر اس میں ان کی روایت سے ہے یا ان کے غیر کی روایت سے اس صراحت کے ساتھ آیا ہو کہ وہ بدر میں شریک تھے، اب رہے وہ بدری صحابہ جن کا صرف ذکر آیا ہے مگر اس میں بدر میں شریک ہونے کی صراحت نہیں ہے ان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعہ اس سوال کا جواب دیا جاتا ہے کہ بعض وہ صحابہ جو جنگ بدر میں شریک تھے اور بخاری شریف میں ان کا ذکر موجود ہے مگر یہاں ان کا ذکر نہیں کیا گیا، مثال کے طور پر حضرت ابوعبیدہ بن جراح ہیں تمام محدثین اور اصحاب سیر کے پاس بالاتفاق وہ بدر میں شریک تھے اور ان کا ذکر امام بخاری نے خود مختلف مقامات پر کیا ہے لیکن ان کے متعلق اس بارے میں کوئی صراحت نہیں آئی کہ وہ اس میں شریک ہوئے۔ امام ابوداؤد کی روایت میں یہ بات گزر چکی ہے کہ حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بدر کے دن تین سو پندرہ (۳۱۵) صحابہ کے ہمراہ نکلے۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ مشرکین کی تعداد ایک ہزار تھی اور صحابہ تین سو سترہ تھے۔ (مرقات) (2) قوله: النبي. الخ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی سے ابتداء کی تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر خیر اور آپ کے اسم مبارک سے برکت حاصل ہو جائے۔ علامہ میرک نے اسی طرح بیان کیا یا آپ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ اس سے یہ وہم دور ہو جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان (اصحاب بدر) کے ساتھ موجود نہیں تھے۔ (3) قوله: على ابنته رقية. یعنی اپنی صاحبزادی کی نگہبانی کیلئے اور مطلب یہ ہے کہ ان کی حالت کا خیال رکھنے کیلئے کیونکہ وہ اس وقت بیمار تھیں۔ وقوله: وضرب له بسهمه. یعنی مال غنیمت میں سے ان کا حصہ مقرر کیا۔ (مرقات) (4) قوله: على بن ابى طالب الهاشمى. حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بدر کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو تھامے ہوئے تھے امام حاکم نے فرمایا جنگ بدر اور دیگر مواقع پر۔ اس حدیث کو امام احمد نے مناقب کے باب میں ذکر کیا ہے۔ پھر اس بات کو جانو کہ صاحب تالیف نے یہاں تک کی ترتیب مراتب کے اعتبار سے فرمائی پھر حروف ہجائی کی ترتیب پر ذکر کیا۔(مرقات) (5) قوله: كان فى النظارة. نون کو فتح (زبر) اور ظاء کو تشدید ہے یعنی وہ ان لوگوں میں تھے جو اونچا مقام تلاش کرتے اور دشمن پر نظر رکھتے اور ان کے احوال کی خبر دیتے۔ میں کہتا ہوں کہ شاید ان کو کوئی عذر تھا جو ان کو جنگ میں (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) شریک ہونے سے روک رہا تھا پس اسی وجہ سے ان کو مسلمانوں کا جاسوس متعین کیا گیا۔(مرقات) (6) قوله: سعد بن مالك الزهري. وہ سعد بن ابی وقاص ہیں جو عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں۔(مرقات) (7) قوله: واخوه. یعنی ظہیر کے بھائی اور ان کا نام مظہر میم کو ضمہ (پیش) اور ظاء کو فتح (زبر) اور ہاء کو کسرہ (زیر)) اور تشدید ہے۔(مرقات) (8) قوله: عقبة بن عمرو الانصاري. صاحب مشکوۃ نے بیان کیا ہے کہ ان کی کنیت ابو مسعود بدری ہے۔ یہ بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک تھے۔ جمہور اصحاب سیر کے نزدیک یہ بدر میں شریک نہیں تھے اور ایک قول میں کہا گیا ہے کہ یہ اس میں شریک ہوئے ہیں اور پہلی بات راجح ہے۔ ان کی نسبت بدر کی جانب جو کی جاتی ہے کیونکہ وہ وہاں رہتے تھے پس اس لئے ان کو اس سے منسوب کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے امام بخاری نے ان کا شمار اصحاب بدر میں کر کے غلطی کی ہے۔ (مرقات) (9) قوله: ثلثمائة وستون. حضرت مولانا محمد کرامت علی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب السیرۃ المحمدیہ میں ما باقی اہل بدر کے نام ان کے ساتھ ذکر فرمایا ہے جن کا تذکرہ اصل کتاب میں گزر رہا ہے۔ آپ نے ان کے اسماء گرامی کو لغت کے حروف کی ترتیب پر مرتب کیا ہے۔ کیونکہ اس ترتیب پر ان کو تلاش کرنا بہت آسان ہے۔ اور اگر آپ اس کو زیادہ جاننا چاہتے ہوں تو چاہئے کہ اس کی جانب رجوع کیا جائے کیونکہ وہ (کتاب) اس باب میں نفیس کتاب ہے۔ (سیرت محمدیہ)