English
Shurayh ibn Ubayd narrated that the people of Sham were mentioned 1 to Ali (may Allah be pleased with him), and it was said: “Curse them, O Commander of the Faithful.” He said: “No, I heard the Prophet (ﷺ) say: ‘The Abdal will be in Sham, forty men. Whenever one dies, Allah replaces him with another. Through them, rain is sent, victory is granted over enemies, and punishment is averted from the people of Sham.’”
العربية
Typed, pending editorial approval
٦٠٣٩ - وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: ذُكِرَ 1 أَهْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلَيٍّ (رضي الله عنه) وَقِيلَ: الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: لَا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ، وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللهُ مَكَانَهُ رَجُلًا، يُسْقَى بِهِمْ الْغَيْثُ، وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ، وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمُ الْعَذَابُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7764
حضرت شریح بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت علی
کے پاس اہل شام کا ذکر (18) کیا گیا اور کہا گیا اے امیر المؤمنین ان پر آپ لعنت فرمائیے تو آپ نے
فرمایا نہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہوں ملک شام میں ابدال ہوں گے اور وہ
چالیس ہوں گے جب کبھی کوئی ان میں سے انتقال کر جائے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ دوسرے کو بدل دیتا
ہے ان کی برکت سے بارش ہوتی ہے اور ان کی برکت سے دشمنوں پر مدد ہوتی ہے اور ان کی برکت
سے اہل شام سے عذاب کو دفع کر دیا جاتا ہے۔ (احمد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Musnad Ahmad 896 (unverified) 95% confidence · Validation similarity: 0.850
- Candidate: Mishkat al-Masabih 6277 (unverified) 80% confidence
Mishkat (candidate) 6277
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “The people of Sham were mentioned” means negatively. His statement: “No” means it is not permissible to curse them. His statement: “averted from the people of Sham through them” means through their blessing. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: ذكر أهل الشام أي بالسوء. وقوله: «قال: لا أي لا يجوز لعنهم. وقوله: يصرف عن أهل الشام بهم أي ببركتهم. كذا في «المرقاة».
Note 1
(18) قولہ: ذكر اهل الشام۔ یعنی اہل شام کا برائی کے ساتھ تذکرہ ہوا۔ وقولہ: قال لا۔ یعنی ان پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے۔ وقولہ: يصرف عن اهل الشام بهم۔ یعنی ان کی برکت سے اہل شام سے عذاب اٹھایا جاتا ہے۔ (مرقات)