Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 6053

Chapter on the Reward of This Ummah

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Reward of This Ummah

Zujajat al-Masabih 6053Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7779
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کی مثال اس بارش کی طرح ہے نہیں(13)بتایا جا سکتا اس کا پہلا حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2869 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

It is not known whether its beginning is better or its end

(1) His statement: “It is not known whether its beginning is better or its end”: Torbushti said: This hadith should not be taken as uncertainty about the superiority of the first generation, as the first century is undoubtedly superior to all others, followed by the next, then the next. The fourth century has some ambiguity due to the narrator. The meaning is their benefit in establishing the Sharia and defending the truth. The Qadi said: Just as one cannot judge that some rain is more beneficial than others, one cannot judge that some individuals of the Ummah are better than others in all aspects, as the contexts differ. The early ones believed due to witnessed miracles and accepted the Prophet’s call with faith, while the later ones believed in the unseen through transmitted signs and followed their predecessors with goodness. The early ones strove to establish and lay the foundation, while the later ones exerted effort in summarizing and refining, dedicating their lives to confirmation and affirmation. All their sins are forgiven, their efforts appreciated, and their reward complete. The essence is that this Ummah never lacks goodness, as indicated by his statement: “This is a blessed Ummah,” as its Prophet is the Prophet of mercy. Unlike other nations, whose goodness was confined to their early generations, followed by evil as they altered their scriptures, this Ummah’s early ones are superior, but this is a consolation for the later ones. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : لا يدري أوله خير أم آخرة: قال التوربشتي: لا يحمل هذا الحديث على التردد في فضل الأول على الآخر، فإن القرن الأول هم المفضّلون على سائر القرون من غير شبهة، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم. وفي الرابع اشتباه من قبل الراوي، وإنما المراد بهم نفعهم في بن الشريعة والذب عن الحقيقة، حاصل كلام القاضي أنه كما لا يحكم بوجود النفع في بعض الأمطار دون بعض، فكذا لا يحكم بوجود الخيرية في بعض أفراد الأمة دون بعض من جميع الوجوه؛ إذ الحيثيات مختلفة الكيفيات، فإن الأولين آمنوا بما شاهدوا من المعجزات، وتلقوا دعوة الرسول ﷺ بالإجابة والإيمان، والآخرين آمنوا بالغيب لما تواتر عندهم من الآيات واتبعوا من قبلهم بالإحسان، وكما أن المتقدمين اجتهدوا في التأسيس والتمهيد فالمتأخرون بذلوا وسعهم في التلخيص والتجريد، وصرفوا عمرهم في التقرير والتأكيد، فكل ذنبهم مغفور، وسعيهم مشكور ، وأجرهم موفور، وخلاصته إن هذه الأمة كلها لا تخلو عن الخير، كما أشار إليه بقوله: هذه أمة مرحومة؛ لكون نبيها نبي الرحمة، بخلاف سائر الأمم، فإن الخير انحصر في سابقهم، ثم جاء الشر في لاحقهم حيث بدلوا كتبهم، وحرفوا ما كان عليه أولهم، ومع هذا فالفضل للمتقدم، وإنما هذا تسلية للمتأخر. كذا في «المرقاة».

Note 1

(13) قوله: لايدرى اوله خير ام آخره. علامہ توربشتی نے فرمایا اس حدیث شریف میں پہلے حصہ کا آخری حصہ پر فضیلت میں تردد نہیں ہے کیونکہ قرن اول دور اول کے اصحاب کو باقی تمام قرون و ادوار پر بلا شبہ فضیلت حاصل ہے پھر اس کے بعد والے قرن کے اصحاب پھر اس کے بعد والے قرن کے اصحاب کو بلا شبہ فضیلت ہے اور چوتھے دور کے بارے میں راوی کی طرف شبہ ہے اس سے مراد ان سے شریعت کو پھیلانے اور حقیقت کی حفاظت میں فائدہ اور نفع پہنچانا ہے۔ علامہ قاضی کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ بارش کے کس حصے میں فائدہ ہے اور کس میں نہیں۔ اسی طرح امت کے بعض افراد کو الگ کر کے دوسرے بعض افراد میں جملہ حیثیت سے ان کی خیریت کا حکم نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ مختلف اعتبارات مختلف کیفیت کے ہوتے ہیں۔ کیونکہ پہلے کے لوگ انہوں نے تو معجزات دیکھے ان پر ایمان لائے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا۔ اور بعد میں آنے والے ان کے پاس تو آثار سے نشانیوں کے آنے کی وجہ سے غیب پر ایمان لائے اور اپنے ساتھ مسلسل نشانیاں پہنچیں تو ایمان لائے اور اپنے سے پہلے حضرات کی احسان کے ساتھ اچھی طرح اتباع کئے اور جس طرح پہلے لوگ اسلام کو مضبوط کرنے اور اس کے پھیلنے کے لئے راستہ ہموار کئے تو ان کے بعد کے لوگ اس کا خلاصہ کرنے اور اس کی راہ کی مشکلات کو دور کرنے میں اپنی طاقت کے مطابق کوشش کئے اور اس کو مضبوط کرنے اور قائم و دائم کرنے میں اپنی عمروں کو صرف کئے۔ ہر ایک کے گناہ کی مغفرت ہے اور ہر ایک کی کوشش مشکور اور قابل قدر ہے اور ان کو بھر پور اجر و ثواب ہے اور ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ساری امت کبھی خیر سے خالی نہیں رہے گی جیسا کہ اس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے هذه امة مرحومة سے اشارہ فرمایا ہے کیونکہ اس امت کے نبی اکرم نبی رحمت ہیں برخلاف دیگر امتوں کے کیونکہ سابقہ امتوں میں خیر مختص ہو گیا تھا پھر ان کے بعد والوں میں شر آ گیا کیونکہ انہوں نے اپنی کتابوں کو بدل ڈالا اور جن امور پر سابق حضرات تھے اس میں تحریف کر ڈالا تھا۔ فضیلت پہلے والوں کو حاصل ہے اور بعد والے حضرات کے لئے اس میں تسلی ہے۔ (مرقات)