العربية
Typed, pending editorial approval
٧٦٤ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «وَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصَفَرَّ الشَّمْسُ وَيَسْقُط قَرْنُهَا الْأَوَّلُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ: «وَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَغْرُبِ الشَّمْسُ».
وَقَالَ الْعَلَامَةُ الْعَيْنِيُّ فِي حَدِيْثِ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً إِلخ»: إِنَّهُ قَدْ تَوَاتَرَتِ الْآثَارُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِالنَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَغُرُوْبِهَا مَا لَمْ تَتَوَاتَرْ بِإِبَاحَةِ الصَّلَاةِ عِنْدَ ذَلِكَ. فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ مَا كَانَ فِيْهِ الْإِبَاحَةُ كَانَ مَنْسُوْخًا (١،٢) بِمَا كَانَ فِيهِ التَّوَاتُرُ بِالنَّهْيِ.
وَيُؤَيِّدُهُ مَا وَقَعَ فِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاخْتَارَهُ صَاحِبُ رَدَّ الْمُحْتَارِ». وَقَالَ الْإِمَامُ الحَافِظ الطَّحَاوِيُّ فِي تَأْوِيلِ حَدِيْثِ: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً إِلخ: إِنَّهُ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُوْنَ مَعْنَى الْإِدْرَاكِ فِي الصَّبْيَانِ الَّذِينَ يُدْرِكُوْنَ - يَعْنِي يَبْلُغُوْنَ - قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَالْحَيَّضِ اللَّاتِي يَطْهُرْنَ، وَالنَّصَارَى الَّذِينَ يُسْلِمُوْنَ؛ لِأَنَّهُ لَمَّا ذَكَرَ فِي هَذَا الْأَثَرِ الْإِدْرَاكَ وَلَمْ يَذْكُرِ الصَّلَاةَ فَيَكُوْنُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ سَمَّيْنَاهُمْ وَمَنْ أَشْبَهُهُمْ مُدْرِكِينَ لِهَذِهِ الصَّلَاةِ، فَيَجِبُ عَلَيْهِمْ قَضَاؤُهَا، وَإِنْ كَانَ الَّذِي بَقِيَ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْتِهَا أَقَلَّ مِنَ الْمِقْدَارِ الَّذِي يُصَلُّوْنَهَا فِيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 612b (unverified) 72% confidence · Validation similarity: 0.516
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement "It was abrogated" in the author's original work reads: "Both were abrogated."
Note 2
(2) You might ask: What is the true nature of abrogation here? What you mention is a possibility, and does abrogation take place based on a possibility? I would respond that the true nature of abrogation here is that both prohibition and permission came together in this case. The prohibitive reports and narrations are widespread, while those regarding permission are not as widely reported. It is well known from the principle that when prohibition and permission coexist, the action must be according to the prohibition, and the permission is considered abrogated. This is because the abrogator is the later one, and there is no doubt that prohibition follows permission, as the default ruling for things is permissibility, and prohibition is an exception. The reverse would result in two abrogations, which is not possible. This was stated by al-‘Ayni. Understand this, for it is a delicate point that has become clear to me through divine illumination. If you ask: The prohibition mentioned only applies to voluntary prayers, not to the making up of obligatory prayers. I would respond that the hadith of Imran bin Husayn—narrated by al-Bukhari, Muslim, and others—shows that a missed prayer falls under the prohibition of prayer at the time of sunrise and sunset. Imran said: "We traveled with the Messenger of Allah ﷺ on an expedition—or, he said, in a campaign—and when it was the last part of the night, we stopped to rest. We did not wake up until the heat of the sun had awoken us." The narration shows that the Fajr prayer was delayed until after sunrise, and it was not prayed before the sun rose. This indicates that the prohibition is general and applies to both obligatory and voluntary prayers. The specific mention of voluntary prayers is an unwarranted preference. This is discussed in "Umdat al-Qari."
Note 1
ف: اس حدیث میں نماز عصر کے آخری وقت کے بارے میں مسلم کی ایک روایت جو عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے یہ ہے: (وَقْتُ الْعَصْرِ مَالَمْ تَغْرُبِ الشَّمْسُ) نماز عصر کا وقت غروب آفتاب تک رہتا ہے (اور غروب ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے) اور نماز فجر کی ابتداء اور انتہا کے بارے میں امام احمد اور ترمذی کی یہ (2) حدیث مروی ہے: ”عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ“. نماز فجر کا ابتدائی وقت صبح صادق کے طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور نماز فجر کا آخری وقت طلوع آفتاب سے ختم ہو جاتا ہے اور وہ اوقات جن میں نمازوں کا پڑھنا ممنوع ہے۔ اس بارے میں بخاری و مسلم کی متفقہ ایک حدیث یہ ہے: (3) ”عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلٰوةَ حَتَّى تَبْرُزَ ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلٰوةَ حَتَّى تَغِيبَ ، وَلَا تَحَيَّنُوا لِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ“۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب آفتاب کا کنارہ ہونے سے کیا ہے) اور جب آفتاب کا کنارہ ڈوبنے لگے تو نماز عصر کو چھوڑ دو، یہاں تک کہ آفتاب خوب ظاہر ہو جائے (اس کا اندازہ فقہاء نے سورج کے ایک نیزہ برابر طلوع ہونے سے کیا ہے) اور جب آفتاب کا کنارہ ڈوبنے لگے تو نماز عصر کو چھوڑ دو یہاں تک کہ پورا آفتاب ڈوب جائے اور آفتاب طلوع اور غروب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرو کیوں کہ آفتاب شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔ ان تینوں حدیثوں نمبر (1,2,3) کو پیش نظر رکھ کر ذیل کی حدیث کا مطالعہ کیا جائے جس کو بخاری اور مسلم نے بالاتفاق ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے: ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ“۔ جو طلوع آفتاب سے پہلے نماز صبح کی ایک رکعت کو پائے تو وہ صبح کو پوری نماز پا لیا، اور جو غروب آفتاب سے پہلے نماز عصر کی ایک رکعت پا لیا تو وہ عصر کی پوری نماز پا لیا۔ اس حدیث سے واضح ہو رہا ہے کہ جو طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت اور اسی طرح غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لے اور اس نے باقی نماز طلوع یا غروب کے بعد ادا کر لی تو وہ فجر اور عصر کی پوری پوری نماز پا لیا۔ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی یہ حدیث اور اسی مضمون کی جو دوسری حدیث مروی ہے ان دونوں حدیثوں کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ دونوں حدیثیں مذکور الصدر تینوں حدیثوں سے تعارض کی بناء پر منسوخ ہیں کیوں کہ صدر کی تینوں حدیثیں متواتر ہیں اور یہ دونوں متعارض حدیثیں اس درجہ کو نہیں پہنچتیں، اس لئے یہ دونوں متعارض حدیثیں صدر کی تینو ں متواتر حدیثوں سے منسوخ ہیں، ان دونوں متعارض حدیثوں کے منسوخ ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان تینوں حدیثوں سے دو چیزیں ثابت ہو رہی ہیں۔ (1) ایک یہ کہ طلوع اور غروب کے وقت نماز ناجائز ہے اور (2) دوسرے یہ کہ فجر اور عصر کا وقت طلوع اور غروب تک رہتا ہے اس کے برخلاف ان دونوں متعارض حدیثوں سے معلوم ہو رہا ہے کہ طلوع اور غروب کے وقت نماز جائز ہے اور دوسرے یہ کہ فجر اور عصر کا وقت طلوع اور غروب کے وقت باقی رہتا ہے جو صریح تعارض ہے، اس کے علاوہ ان دونوں متعارض حدیثوں کا منسوخ ہونا مسلم کی ایک اور حدیث ”صَلِّ الصَّلٰوةَ لِوَقْتِهَا“ (ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کیا کرو) سے بھی ثابت ہوتا ہے کیوں کہ ان دونوں متعارض حدیثوں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ نماز اپنے وقت سے متجاوز ہو کر ادا ہو رہی ہے اور یہ مسلم کی اس روایت کے صریحاً خلاف ہے۔ علاوہ ازیں کتاب اللہ کی آیت ”إِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا“ (یقیناً نماز مسلمانوں پر بقید وقت فرض ہے) (سورۃ نساء،پ:5،ع:15، آیت نمبر:103) یہ آیت بھی ان دونوں متعارض حدیثوں کے منسوخ ہونے پر قوی حجت ہے کیونکہ ان دونوں متعارض حدیثوں سے غیر وقت میں نماز ادا کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے اس کے برخلاف آیت مذکورہ سے صرف یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ نماز کو اس کے وقت پر ہی ادا کیا جائے۔ واضح ہو کہ صدر کی تینوں حدیثیں جو عبداللہ بن عمرو بن العاص، ابو ہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں ان تینوں حدیثوں سے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں متعارض ہو رہی تھیں، اس تعارض کو علامہ عینی رحمہ اللہ نے اس طرح دور فرمایا کہ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں منسوخ ہیں، اس کی تفصیلی بحث ابھی سطور بالا میں آپ کی نظر سے گزر چکی ہے، اب ذیل میں امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس تعارض کو کس طرح دور فرمایا ہے اس کو سنئے:۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں اُن لوگوں کے بارے میں نہیں ہیں جنہوں نے فجر کی یا عصر کی نماز دیر کر کے ادا کی ہو یہاں تک کہ ایک رکعت کے ادا کرنے کے بعد طلوع یا غروب ہو گیا اور انہوں نے باقی نماز طلوع یا غروب کے بعد ادا کی ہو بلکہ یہ دونوں حدیثیں واجب العمل ہیں اور منسوخ نہیں ہیں اور ان دونوں حدیثوں کا حکم اس قسم کے لوگوں سے متعلق ہے جیسے نابالغ لڑکے جو آفتاب کے طلوع یا غروب سے پہلے ایسے وقت میں بالغ ہوں کہ ان کو طلوع یا غروب سے پہلے صرف اتنا وقت مل گیا جس میں ایک رکعت ادا کی جا سکتی ہے تو ایسے وقت میں بالغ ہونے والے لڑکے پر اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور اس نماز کی قضاء اس پر لازم ہوگی، نماز کے واجب ہو جانے کا سبب نماز کے وقت کا مل جانا ہے اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اور یہاں بالغ ہونے والے لڑکے کو تھوڑا وقت مل گیا ہے اس لئے اس پر نماز واجب ہوگی ایسا ہی ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں اُن حیض والی عورتوں کے بارے میں ہیں جو طلوع یا غروب سے پہلے پاک ہو جائیں اور ان کو طلوع یا غروب سے پہلے اتنا وقت مل گیا جس میں ایک رکعت ادا کی جا سکتی ہے تو ان پر بھی اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور وہ اس نماز کی قضاء کریں گی۔ اور بالکل اسی طرح ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں اُن نو مسلموں سے بھی متعلق ہیں جو طلوع یا غروب سے پہلے اسلام قبول کر لیں اور طلوع یا غروب سے پہلے اسلام لانے کے بعد ان کو اتنا وقت مل گیا کہ اس میں ایک رکعت ادا ہو سکتی ہے تو ان پر بھی اس وقت کی نماز فرض ہو جائے گی اور وہ اس نماز کی قضاء کریں گے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ حدیث میں لفظ ”أَدْرَكَ“، مذکور ہے جس کے معنی پانے کے ہیں نہ کہ نماز پڑھنے کے اگر طلوع یا غروب سے پہلے ایک رکعت نماز پڑھ لینے سے طلوع یا غروب کے بعد باقی نماز کا پڑھنا جائز ہوتا اور یہ نماز ادا نماز میں محسوب ہوتی تو ”مَنْ أَدْرَكَ“ کی بجائے“ ”مَنْ صَلّٰى“ جو نماز پڑھنا ارشاد ہوتا، یہاں بجائے ”مَنْ صَلّٰى“ کے ارشاد ہوا ہے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، (جس نے ایک رکعت پالی) یعنی جس نے ایک رکعت کا وقت پا لیا تو ایسا شخص جو ایسے وقت میں ایک رکعت پا لیا ہو وہ پوری نماز کا پانے والا سمجھا جائے گا اور اس پر اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور وہ شخص اس نماز کی قضا کرے گا۔12