اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 91
عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ مزینہ کے دو آدمیوں نے
عرض کیا: یا رسول اللہ! بتلایئے آج لوگ جو کچھ عمل کررہے ہیں اور جس بات کی کوشش کرتے ہیں، کیا
یہ ایسی چیز ہے جو اُن کی تقدیر میں مقدر ہوچکی ہے کہ اس کے موافق وہ عمل کررہے ہیں یا ایسی چیز ہے
جو ان کی تقدیر میں بروز ازل نہیں لکھی گئی ہے بلکہ وہ زمانہ آئندہ میں جیسا جیسا ان کو سوجھتا ہے، وہ
اپنے اختیار سے عمل کرتے جاتے ہیں اس کے بغیر کہ پہلے سے ان پر مقدر ہو اور نبی کے فرمانے کے
موافق نہ کرنے سے ان پر عذاب ہوتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں! بلکہ یہ
ایسی چیز ہے جو ان کے مقدر میں لکھی جاچکی ہے اور وہ اپنی تقدیر کے لکھے کے موافق عمل کررہے ہیں
اور اس کی تصدیق کتاب اللہ کے (سورہ والشمس، پ:30، ع1، آیت نمبر:7/8) میں موجود ہے
اور وہ یہ ہے ﴿ وَنَفْسٍ وَمَا سَوّٰهَا، فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوٰهَا ﴾ (قسم ہے انسان کے جان کی
اور اس ذات کی جس نے اس کو درست بنایا پھر اس کی بدکرداری اور پرہیزگاری (دونوں باتوں) اس
کو القا کیا)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2650 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.